Site icon Dunya Pakistan

مائرہ ذوالفقار: ’لاہور میں قتل ہونے والی مائرہ ذوالفقار برطانوی نہیں بیلجیئم نژاد پاکستانی تھیں‘

لاہور پولیس کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ روز صوبائی دارالحکومت میں قتل ہونے والی 26 سالہ مائرہ ذوالفقار برطانوی نہیں بلکہ بیلجیئم نژاد پاکستانی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس کیس کے چیف انویسٹیگیشن آفیسر حافظ طارق نے بتایا ہے کہ مائرہ کے پاسپورٹ کے مطابق وہ بیلجیئم کی شہری ہیں۔

یاد رہے کہ 26 سالہ مائرہ ذوالفقار تقریباً دو ماہ قبل لندن سے پاکستان آئی تھیں اور لاہور میں اپنی ایک دوست کے ساتھ مقیم تھیں جنھیں گذشتہ روز نامعلوم افراد نے قتل کر دیا گیا تھا۔

مائرہ کے پھوپھا محمد نذیر نے مدعیت میں درج درج کروائی جانے والی ایف آئی آر کے مطابق مائرہ کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔ لاہور میں پولیس نے اس قتل کے الزام میں دو نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے لیکن ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔

حافظ طارق کا کہنا تھا پولیس کی ایک ٹیم اسلام آباد جبکہ دوسری ٹیم لاہور میں ہی موجود ہے اور نامزد افراد کو گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ’امید ہے کہ جلد ہی کوئی گرفتاری عمل میں آ جائے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ابھی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنا باقی ہے مگر ظاہری طور پر انھیں گردن میں فائر لگا ہے جو وجہ موت ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ والدین سے رابطہ ہوا ہے اور آج ان کے والد پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

اس سے قبل ایس پی انویسٹیگیشن سدرہ خان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا چکے ہیں جس کے بعد مزید تفتیش جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ مائرہ کے قتل کے پیچھے کیا محرکات ہو سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مائرہ کی ایک سہیلی کو مرکزی ملزمان کے طور پر شاملِ تفتیش کر لیا گیا ہے۔

اس کیس کی ایف آئی آر میں مدعی کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ مائرہ کو دو لڑکوں نے دھمکی دی تھی اور یہ کہ یہ دونوں نوجوان مائرہ سے شادی کے خواہشمند تھے۔

مائرہ کے پھوپھا محمد نذیر نے پولیس کو بتایا ہے کہ مائرہ ذوالفقار قتل سے پہلے ان کے گھر آئی تھیں اور انھیں بتایا تھا کہ انھیں ان کے دو دوستوں سے ’جان کا خطرہ ہے جو انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔‘

مائرہ کے پھوپھا محمد نذیر نے ایف آئی آر میں لکھوایا کہ اس پر ’میں نے مائرہ کو تسلی دی کہ میں خود دونوں لڑکوں کو سمجھاؤں گا۔‘

تاہم تین مئی کے روز مائرہ کے گھر جانے پر انھوں نے مائرہ کی خون میں لت پت لاش دیکھی۔

محمد نذیر نے ایف آئی آر میں شبہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے خیال میں یہ قتل انھی دونوں دوستوں نے ’ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے نامعلوم افراد کے ہاتھوں کروایا ہے۔‘

محمد نذیر کا کہنا ہے کہ ’دونوں ہی دوست مائرہ سے شادی کرنا چاہتے تھے تاہم ان کی کی بھتیجی کسی سے بھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔‘

مائرہ کرائے کے مکان میں اپنی ایک سہیلی کے ہمراہ رہتی تھیں۔

پولیس نے دونوں ملزمان کے خلاف دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

مائرہ نے برطانیہ کی مڈل سیکس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی اور اس سے پہلے ابتدائی تعلیم ٹوِکنہیم میں ایک سکول سے حاصل کی تھی۔

Exit mobile version