ماحول دوست سیکس کیا ہے اور ہماری سیکس لائف ماحول کو کیسے متاثر کر رہی ہے؟

جب ہم کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے مختلف طریقوں کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں تو ہماری ترجیحات میں ہماری جنسی زندگی عام طور پر شامل نہیں ہوتی ہے۔

اس کے باوجود محفوظ سیکس کی پائیدار مصنوعات جیسا کہ ویگن کنڈوم اور ’ویسٹ فری‘ (یعنی استعمال کے بعد گل سٹر جانے والے) مانع حمل ذرائع کی تلاش انٹرنیٹ پر حالیہ برسوں میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ماحول دوست سیکس کیا ہے؟

نائجیریا سے تعلق رکھنے والی سائنسدان ڈاکٹر اڈینیکے اکنسیمولو کا کہنا ہے کہ 'کچھ لوگوں کے لیے، جنسی طور پر ماحول دوست ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لیوب (چکنائی)، سیکس ٹوائز، بستر کی چادروں اور کنڈوم کا انتخاب کیا جائے جو کرہ ارض کو کم سے کم نقصان پہنچائیں۔‘

’جبکہ چند دیگر افراد کے نزدیک اس میں پورن کی تخلیق سے لے کر ماحول کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنا شامل ہے۔ دونوں مثالیں درست اور اہمیت کی حامل ہیں۔'

اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کا تخمینہ ہے کہ ہر سال لگ بھگ دس ارب لیٹیکس کنڈوم مردوں کے استعمال کے تیار کیے جاتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کنڈومز کو استعمال کے بعد لینڈ فِل سائٹس میں ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے، یعنی وہ کچرے کا حصہ بن جاتے ہیں اور زمین میں دبا دیے جاتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر کنڈوم مصنوعی لیٹیکس سے بنائے جاتے ہیں اور ان کی تیاری میں کیمیکل استعمال کیے جاتے ہیں جن کے باعث انھیں ری سائیکل نہیں کیا جا سکتا۔

نائجیریا سے تعلق رکھنے والی ماحولیاتی پائیداری کی سائنسدان ڈاکٹر اڈینیکے اکنسیمولو
،تصویر کا کیپشننائجیریا سے تعلق رکھنے والی سائنسدان ڈاکٹر اڈینیکے

جانوروں کی چربی سے تیار ہونے والے کنڈوم تو قدیم زمانے سے استعمال ہوتے آ رہے ہیں اور کنڈومز کی تمام اقسام میں یہ واحد مکمل طور پر بائیوڈیگریڈیبل ہیں (یعنی یہ زمین کو نقصان پہنچائے بغیر ختم ہو جاتے ہیں۔) مگر چونکہ یہ جانوروں کی آنتوں سے بنتے ہیں اسی لیے یہ جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کو نہیں روک پاتے۔

بہت سے لیوب (چکنائی پیدا کرنے والے مادے) بھی پیٹرولیم سے بنے ہوتے ہیں، اور اس لیے وہ فوسل ایندھن پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ سے واٹر بیسڈ یا نامیاتی مصنوعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اور گھریلو نسخے زیادہ مقبول ہو رہے ہیں۔

ڈاکٹر ٹیسا کومرز کے یوٹیوب پر دس لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں جو جنسی صحت سے متعلق اُن کی ویڈیوز دیکھتے ہیں۔ ان کی سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویڈیو کو تقریباً 80 لاکھ بار دیکھا گيا ہے جس میں مکئی کے نشاستے اور پانی کی مدد سے گھر میں چکنائی تیار کرنے کی ترکیب بتائی گئی ہے۔

ڈاکٹر اکنسیمولو کہتی ہیں: ’پانی پر مبنی چکنائی پیدا کرنے والے مادے، نامیاتی اور ویگن کنڈوم تفریح اور پائیدار جنسی زندگی کے لیے ایک اچھا انتخاب ہیں۔۔۔ وہ نہ صرف ماحول کو معمولی نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ اپنے صارفین کو بہت اچھا احساس دلاتے ہیں۔‘

تاہم، ماحول دوست مصنوعات کے استعمال میں کچھ احتیاط برتنی چاہیے، کیونکہ کچھ مصنوعات ایسی ہیں جنھیں زیادہ تر کنڈوم کے ساتھ استعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ کنڈوم کے پھٹنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اور مانع حمل کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے بہتر یہ ہے کہ آپ کسی ڈاکٹر یا فیملی پلاننگ کے ماہر سے بات کریں۔

سیکس ٹوائز (جنسی لذت سے متعلقہ کھلونے) ایک علیحدہ شعبہ ہے جہاں پلاسٹک کا استعمال بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔ سٹیل یا شیشے کے متبادل بھی دستیاب ہیں، جبکہ چارج کیے جانے والے کھلونے بھی ویسٹ یعنی فضلہ کم کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ بازار میں شمسی توانائی سے چلنے والے سیکس ٹوائز بھی موجود ہیں۔

’لَو ہنی‘ جیسی کمپنیاں سیکس ٹوائز پر چھوٹ دیتی ہیں جہاں وہ پرانے اور ٹوٹے ہوئے کھلونوں کو ری سائیکل کرنے میں مدد کرتی ہیں۔

فضلے یا کوڑے کو اور کہاں کم کیا جا سکتا ہے؟

پھر ہماری جنسی زندگی کے دوسرے کم اہم گوشے بھی ہیں جہاں فضلے کو کم کرنے کے لیے تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔

شاور سیکس سے گریز کرنا، کم گرم پانی استعمال کرنا، دوران سیکس لائٹس بند رکھنا اور صفائی کے لیے دوبارہ قابل استعمال یعنی دھونے والے کپڑوں کا انتخاب کرنا وغیرہ کرہ ارض پر اثرات کو کم کرنے کے طریقے ہیں۔

زیادہ تر جو چیزیں ہم خریدتے ہیں،ان پر موجود پیکیجنگ اکثر کوڑے کا باعث بنتی ہے۔ نیویارک کی ایک کاروباری شخصیت اور زیرو ویسٹ کی ترغیب دینے والی لارین سنگر کہتی ہیں کہ یہ وہ گوشہ ہے جہاں زیادہ تر کمپنیاں فرق ڈال سکتی ہیں۔

لارین سنگر
،تصویر کا کیپشنلارین سنگر

کنڈوم، چکنائی اور روزانہ استعمال ہونے والی مانع حمل گولیاں، یہ وہ تمام مصنوعات ہیں جن کی پیکیجنگ صرف زمین میں دفن کر دینے کا سبب ہوتی ہیں۔ آئی یو ڈی ( انٹرا یوٹرن ڈیوائسز) اور امپلانٹس طویل مدتی مانع حمل کے آپشنز ہیں، جن میں فضلہ کم ہوتا ہے لیکن ان کے اپنے خطرات ہوتے ہیں۔

لارین تقریباً مکمل طور پر فضلہ پیدا کرنے والے عمل سے پاک رہتی ہے اور سنہ 2012 سے انھوں ان تمام چیزوں کو ایک جار یا مرتبان میں رکھنا شروع کیا ہے جو ری سائیکل نہیں ہو سکتے۔

آپ کو لارین کے جار میں کنڈوم نہیں ملیں گے اور چونکہ یہ واحد مانع حمل ہیں جو ایس ٹی آئيز کے خلاف موثر ہیں، اس لیے وہ اپنے تمام جنسی ساتھیوں سے کہتی ہیں کہ وہ اُن کے ساتھ ہم بستری سے پہلے اپنا ٹیسٹ کروا لیں۔

لارین کا کہنا ہے کہ ’مجھے اب ایک ہی کے ساتھ سیکس کرنے والا پارٹنر مل گیا ہے، لیکن اگر آپ کسی پارٹنر سے ان کے ساتھ ہمبستری سے پہلے ٹیسٹ کروانے کے لیے کہنے میں آرام دہ محسوس نہیں کرتیں، تو شاید آپ کو ان کے ساتھ بالکل نہیں سونا چاہیے۔‘

تاہم وہ کہتی ہیں کہ ناپسندیدہ حمل یا جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماری سے زیادہ غیر قابل عمل کوئی چیز نہیں ہے۔

وہ کہتی ہیں ’ہمیں اس بات پر غور کرنا ہو گا کہ کون سا فضلہ پیدا کرنے کے قابل ہے اور کیسا نہیں۔ ایسا نہ ہو کہ ضائع ہونے والے پہلو کی وجہ سے کنڈوم کا استعمال چھوڑ دیں یا پیدائش پر قابو نہ رکھیں۔ کیونکہ یہاں آپ اور آپ کے ساتھی کی حفاظت زیادہ اہم ہے۔‘

ڈاکٹر اکنسیمولو اس سے متفق ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’محفوظ جنسی تعلقات، چاہے ماحول دوست مصنوعات کا استعمال کریں یا نہ کریں، یہ چیز طویل مدت میں لوگوں اور سیارے کے لیے سب سے زیادہ پائیدار ہے۔‘

الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز
،تصویر کا کیپشنامریکی کانگریس کی رکن خاتون الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز

بچے پیدا کرنے کا آب و ہوا پر اثر

بچے پیدا کرنا ایک ایسا پہلو ہے جہاں پر ایک بار پھر جنس اور ماحول آپس میں ٹکراتے ہیں۔

سنہ 2007 کی ایک تحقیق کے مطابق کار کے بغیر زندگی گزارنے سے سالانہ تقریباً 2.3 ٹن کاربن کا اخراج کم ہوتا ہے۔ جبکہ پودوں پر مبنی غذا پر قائم رہنے سے 0.8 ٹن کاربن کی بچت ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں اگر آپ ترقی یافتہ دنیا میں رہتے ہیں اور بچہ پیدا نہیں کرتے ہیں تو آپ تقریباً 58.6 ٹن کاربن کا سالانہ اخراج بچاتے ہیں۔

کم ترقی یافتہ ممالک میں کاربن فوٹ پرنٹس بہت کم ہیں، ملاوی میں ایک بچے کی پیدائش سے 0.1 ٹن سے زیادہ کاربن کی بچت نہیں ہے۔

کچھ بااثر شخصیات نے بچے پیدا کرنے کے بارے میں اپنے تحفظات پر بات کی ہے۔ پرنس ہیری نے سنہ 2019 میں ووگ کو بتایا کہ ان کے اور ڈچز آف سسیکس کے ’زیادہ سے زیادہ‘ دو بچے ہوں گے۔ اور انھوں نے اس فیصلے میں ماحولیات کو ایک اہم عنصر قرار دیا تھا۔

اسی طرح امریکی کانگریس کی رکن خاتون الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے سنہ 2019 میں سی-40 کے ورلڈ میئرز اجلاس میں کہا کہ وہ ’ایک ایسی خاتون ہیں جن کے زچگی کے خواب اب کڑوے میٹھے ہیں کیونکہ میں اب اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں جانتی ہوں۔‘

دنیا کے بہت سے ممالک میں شرح پیدائش میں کمی واقع ہوئی ہے۔ دہائیوں پر محیط یہ رجحان یقینی طور پر اکیلے ماحولیاتی تبدیلیوں کا رُخ نہیں پھیر سکتا۔

لیکن رواں سال برطانوی سائنسدانوں کے ایک عالمی سروے میں معلوم ہوا کہ سروے میں شامل 10,000 نوجوانوں میں سے تین چوتھائی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ’مستقبل خوفناک ہے۔‘ تقریباً 41 فیصد جواب دہندگان نے ماحولیاتی تبدیلی کو ایک وجہ بتاتے ہوئے ’بچے پیدا کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔‘

تنمے شنڈے
،تصویر کا کیپشنانڈین نوجوان تنمے شنڈے نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ماحول کی خاطر بچے پیدا نہیں کریں گے

میں بچے نہیں چاہتا

تنمے شنڈے انڈیا کے معروف شہر ممبئی میں رہتے ہیں، اور انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ماحول کی خاطر بچے پیدا نہیں کریں گے۔ آئی پی سی سی نے پیش گوئی کی ہے کہ ان کا آبائی شہر سنہ 2050 تک سمندر کی سطح میں اضافے کی وجہ سے ڈوب سکتا ہے۔

ان کے اہلخانہ کے لیے ان کے فیصلے کو سمجھنا مشکل ہے، بہر حال ان کا کہنا ہے کہ ایک مرد کے طور پر انھیں اس خیال پر عمل کرنے میں ایک خاتون کے مقابلے میں زیادہ آسانیاں ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 'انڈیا میں خاندان بہت روایتی ہیں اور وہ قدیم رسم و رواج پر عمل پیرا ہیں۔ شادی کے بعد زندگی میں بچے پیدا کرنا سب سے اہم چیزوں میں سے ایک ہے اور اس کو جاری رکھنے کے لیے بہت سارے معاشرتی دباؤ ہیں۔'

کیا وہ کبھی اپنا خیال بدلیں گے؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’اگر بچے پیدا کرنے کے لیے ایک محفوظ سیارہ اور پائیدار طرز زندگی شرطیں ہیں تو جب تک کہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور گلوبل وارمنگ کو روکنے کے لیے سخت فیصلے اور بڑے پیمانے پر تبدیلیاں نہ کی جائیں، مجھے نہیں لگتا کہ میرے بچے پیدا ہوں گے۔‘

سویڈن میں لُنڈ یونیورسٹی کی ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر کمبرلی نکولس ایک تحقیق کی شریک مصنف ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ ترقی یافتہ دنیا میں بچے پیدا کرنے سے کاربن کے اخراج پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تاہم وہ اس بات پر بحث نہیں کرتیں کہ لوگوں کی اولاد نہیں ہونی چاہیے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’لوگوں کے ذاتی انتخاب کی توثیق یا ان پر سوال کرنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ انسان کا حق ہے کہ وہ آزادانہ طور پر فیصلہ کرے کہ آیا وہ بچہ پیدا کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ میں جس چیز کے لیے کام کر رہی ہوں وہ ایک ایسی دنیا ہے جہاں بچے جو پہلے سے زندہ ہیں ان کے لیے ایک محفوظ سیارہ اور معاشرہ بنانا ہے۔‘

پروفیسر نکولس
،تصویر کا کیپشنپروفیسر کمبرلی نکولس ایک تحقیق کی شریک مصنف ہیں

اس کے بجائے وہ مشورہ دیتی ہے کہ لوگ اپنی سفری عادات پر نظر ثانی کرنے میں زیادہ وقت صرف کرتے ہیں بجائے اس کے انھیں ریپر اور مانع حمل کے ہر آخری فضلے کو ختم کرنے کے بارے میں زیادہ پریشان ہونا چاہیے۔‘

وہ کہتی ہیں: ’ہمیں ان چیزوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جہاں اس سے فرق پڑتا ہے۔‘

کسی ایسے شخص کے طور پر جس نے اپنی زندگی کا ایک تہائی حصہ فضلہ پیدا کرنے سے پاک زندگی گزاری ہے، لارین بچے پیدا کرنے کے بارے میں ابھی فیصلہ نہیں کر سکی ہیں۔

’میں نے گود لینے کے بارے میں سوچا ہے، جو میرے خیال میں بہت اچھی بات ہو گی، لیکن بچہ پیدا کرنے کے اصل جسمانی عمل کے بارے میں کچھ یقین سے نہیں کہہ سکتی۔‘

قابل عمل ہونے کے بارے میں دوسرے فیصلوں کی طرح، وہ خود سے پوچھ رہی ہے کہ کیا بچہ پیدا کرنا ’پوری طرح مثبت‘ ہو سکتا ہے۔

’کیا مجموعی طور پر کرہ ارض کو اس سے فائدہ ہو گا؟ کیا میں اس بچے میں اپنی یہ قدر منتقل کر سکتی ہوں جو مجھ سے زیادہ زندہ رہے گا اور ایک بہتر دنیا بنانے کی کوشش جاری رکھے گا؟‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: