ماروی ملک شیر: اسسٹنٹ کمشنر مانسہرہ ہراسانی کا شکار، ’ماروی بالکل بھی خوفزدہ نہیں، مانسہرہ ہی میں فرائض انجام دے رہی ہے‘

’تینوں نوجوان اے سی کو ہراساں کر رہے تھے جبکہ اے سی صاحبہ انتہائی جرات کے ساتھ ان تینوں نوجوانوں کے سامنے کھڑی تھیں۔‘

یہ الفاظ ایک عینی شاہد کے ہیں جنھوں نے ضلع مانسہرہ میں تین نوجوانوں کو اسسٹنٹ کمشنر ماروی ملک شیر کو ہراساں کرتے دیکھا۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع مانسہرہ کی پولیس نے اسسٹنٹ کمشنر ماروی ملک شیر کو ہراساں کرنے کے الزام میں تین نوجوانوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایس ایچ او تھانہ سٹی مانسہرہ اسرار شاہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق ’یہ ہراسانی کا واقعہ ہے، خاتون کے ساتھ ہراسانی دیکھ کر موقع پر لوگ اکھٹے ہو گئے تھے۔ جنھوں نے تینوں کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا۔‘

یاد رہے کہ ماروی ملک شیر ان پانچ بہنوں میں شامل ہیں جنھوں نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے پاکستان میں ریکارڈ قائم کیا تھا۔

تھانہ سٹی مانسہرہ میں اسسٹنٹ کمشنر مانسہرہ، ماروی ملک شیر کی درخواست پر درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ پجارو جیپ پر سوار تین نوجوانوں نے ہماری سرکاری گاڑی کا پیچھا کیا اور جابجا غلط کٹنگ اور ساتھ میں اپنے موبائل سے تصاویر لینے کی کوشش کی۔

’ہاتھ پکڑ کر گاڑی سے نکالنے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں میرا ہاتھ زخمی ہوا‘

درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ ’جب ہماری گاڑی غازی کوٹ کے مقام پر پہنچی تو انھوں نے اپنی گاڑی کو ہماری گاڑی کے سامنے کھڑا کر کے روک لیا۔

’تینوں گاڑی سے باہر نکلے انھوں نے پہلے گالم گلوچ اور تکرار کی۔ اس کے بعد گارڈ کے ساتھ ہاتھا پائی کی، میرے ساتھ بھی بدتمیزی کی گئی۔ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے گاڑی سے نکالنے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں میرا ہاتھ زخمی ہوا۔‘

پاکستان

اسسٹنٹ کمشنر مانسہرہ ماروی ملک شیر کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’انھوں نے ڈرائیور پر تشدد کیا اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ مجھے مارو۔

’یہ بھی اے سی بن کر آئی ہے۔ ہمارے ہی پیسوں پر پل رہی ہے۔ ہم کسی اے سی، ڈی سی کو نہیں مانتے۔ نہ ہی کسی خاتون کو افسر کو مانتے ہیں۔‘

عینی شاہدین نے کیا دیکھا

موقع پر موجود ایک عینی شاہد محمد سمیر کہتے ہیں کہ وہ اپنے شہر میں موجود خاتون اے سی کو چہرے سے جانتے ہیں۔ یہ ایک فعال افسر ہیں جو ہر وقت لوگوں سے ملتی رہتی ہیں اور مختلف مقامات کے دورے بھی کرتی رہتی ہیں۔ میں نے دیکھا کہ تین نوجوان ان کا گھیراؤ کیے ہوئے تھے اور اونچی اونچی آواز میں بول رہے تھے۔

میں ایک دم پہنچا تو دیکھا کہ خاتون اے سی تینوں سے بڑی جرات سے کہہ رہی تھیں کہ ’تم تینوں نے بدتمیزی اور بدمعاشی کی انتہا کی ہے۔ تمہاری حرکتیں میں نے برداشت کی ہیں۔ جس پر وہ تینوں مزید گالم گلوچ کررہے تھے۔‘

محمد سمیر کے مطابق اتنے میں کئی لوگ اکھٹے ہو گئے اور انھوں نے تینوں کو اپنے قابو میں کر کے پولیس کو اطلاع دے دی تھی کیونکہ سب لوگ خاتون اے سی کو اچھے طریقے سے جانتے تھے۔

ماروی

’میری بیٹی بہت دلیر ہے‘

ماروی ملک شیر کے والد محمد رفیق اعوان کے مطابق واقعے کے بعد ان کی بیٹی نے ان کے ساتھ تفصیل سے بات کی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ماروی ’بالکل بھی خوفزدہ نہیں ہیں۔ وہ مانسہرہ ہی میں اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔‘

رفیق اعوان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتا ہوں کہ میری بیٹی اور باقی بیٹیاں بہت بہادر ہیں۔ ان کی پرورش ہی اسی طرح ہوئی ہے کہ وہ کسی سے بھی خوفزدہ ہونے والی نہیں ہیں۔ وہ اپنے ملک و قوم اور لوگوں کی خدمت کر رہی ہیں۔ اس راستے میں وہ کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کریں گئیں۔‘

رفیق اعوان کہتے ہیں کہ ’مانسہرہ میرے ہوم سٹیشن جیسا ہے۔ ہزارہ ڈویژن کا علاقہ جو خواتین کے حوالے سے بہت حساس ہے۔ اس علاقے میں افسران خدمات انجام دینا چاہتے ہیں کیونکہ مقامی لوگ بہت مہمان نواز اور اپنی شاندار روایات کے پابند ہوتے ہیں۔

’مانسہرہ کے علاقے میں ایسا واقعہ پیش آنا انتہائی افسوسناک ہے جس سے انھیں دکھ پہنچا ہے۔‘

رفیق اعوان کہتے ہیں کہ موقع پر لوگ اکھٹے ہوگے تھے۔ وہ تینوں کو بہت زیادہ مارنا چاہتے تھے۔ لوگ مشتعل تھے۔ کچھ بھی ہوسکتا تھا مگر اس موقع پر بھی ماروی میری بیٹی نے انتہائی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان تینوں کو لوگوں سے بچایا اور پھر اپنی نگرانی میں بحفاظت طریقے سے پولیس کے حوالے کیا تھا۔

’اگر وہ غصے میں ہوتی اور ذاتی انتقام کی بات ہوتی تو وہ ان تینوں کو تھوڑی دیر کے لیے لوگوں تک چھوڑ دیتی مگر اس موقع پر بھی اس نے اپنے فرائض کو ادا کیا۔ جس پر مجھے فخر ہے۔‘

رفیق اعوان کہتے ہیں کہ مجھے ماروی نے بتایا ہے کہ ’وہ تینوں بار بار کہہ رہے تھے کہ ہمیں خواتین آفسیر نہیں چاہییں۔ ہم ان کو برداشت نہیں کریں گے۔

وہ اسی طرح کی باتیں کررہے تھے۔ حالانکہ ان کو سمجھنا چاہیے کہ یہ خواتین آفسیر بہت اچھے سے اپنے فرائض ادا کرنے کے علاوہ انہی کی خدمت کررہی ہیں۔

’اگر ماروری ملک اس صورتحال کا سامنا کر سکتی ہیں تو پھر سوچیں کہ عام خواتین کیا برداشت کرتی ہوں‘

کے پی کمیشن آن سٹیٹس آف وومن کی ممبر اورانسانی حقوق کی کارکن اور سپریم کورٹ کی وکیل شبنم نواز ایڈووکیٹ کہتی ہیں کہ ماروری ملک کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ماروری ملک شیر انتہائی بہادر افسیر ہیں جو عوام کی خدمت کر رہی ہیں۔ ان کی کارگردگی چھپی ہوئی نہیں ہے بلکہ سب کے سامنے ہے۔

’ان کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آنا ثابت کر رہا ہے کہ ہمیں ابھی خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

شبنم نواز ایڈووکیٹ کہتی ہیں کہ ’اگر ماروری ملک اس صورتحال کا سامنا کرسکتی ہیں تو پھر سوچیں کہ عام خواتین کیا برداشت کرتی ہوں گی یا پدر سری معاشرے کی ذہنیت ہے جو خواتین کو آگے بڑھ کر کام کرنے سے روک رہی ہے۔

’اس کے لیے جہاں پر لوگوں کی سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا وہاں پر خواتین کے لیے قانونی سازی کرنے کے لیے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خصوصی طور پر حساس بنانا ہو گا۔‘

error: