مالم جبہ: طلبہ کو رقص کی پرانی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ’فحاشی‘ کے مقدمے کا سامنا

پاکستان کی پولیس نے سیاحتی مقام پر رقص کرنے والے طلبا پر فحش حرکات کا مقدمہ درج کیا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے تفریحی مقام مالم جبہ کی پولیس نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں سے آئے ہوئے طالب علموں کے ایک تفریحی دورے کے دوران نوجوانوں کے ہلہ گلہ کرنے کو فحاشی اور کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ہوٹل مالک اور منیجر کو عدالت کی طرف سے جرمانے کی ادائیگی کے بعد رہائی مل گئی ہے تاہم پولیس کو 30 سے 40 ’نامعلوم‘ سیاحوں کی اب بھی تلاش ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ماہ بعد ایف آئی آر کیوں درج کی گئی، کیا اس میں نظر آنے والے مناظر واقعی فحاشی ہیں؟

تھانہ مالم جبہ میں پولیس کی جانب سے اپنی مدعیت میں چھ جنوری کو درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال چار دسمبر کو ہوٹل منیجر اور مالک نے آئے ہوئے مہمانوں کو لاؤڈ اسپیکر کی سہولت مہیا کی تھی جو کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی ہے۔

پولیس

درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ ’فحش حرکات کے علاوہ ملزمان نے کسی قسم کے سیکورٹی اقدامات بھی نہیں کیے تھے، جس پر ملزمان کو گرفتار کرکے ضابطے کی کارروائی عمل میں لائی گئی۔‘

ایس ایچ او مالم جبہ جاوید اقبال کے مطابق یہ تقریباً ایک ماہ پہلے کا واقعہ ہے، جس میں باہر سے آئے کچھ مہمانوں نے کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی وغیرہ کی تھی۔ جس پر مقدمہ درج کیا گیا جبکہ ہوٹل منیجر اور مالک کو گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔

عدالت نے ان پر 40 ہزار روپیہ جرمانہ عائد کرکے ان کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ مقدمہ تاخیر سے درج ہونے کی وجہ ویڈیو کا تاخیر سے وائرل ہونا ہے۔

مالم جبہ

وائرل ویڈیو میں کیا ہے؟

تقریباً تین منٹ کی ایک وڈیو وائرل ہوئی ہے۔ ویڈیو کو باقاعدہ ایڈیٹ کیا گیا ہے، جس میں پہلے مالم جبہ کے مختلف مناظر دکھائے گئے ہیں۔ ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ ناگہانی آفات کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا کہ کیا ہوجائے، ہر کوئی اندر سے کمزور ہے۔ مگر اس دوران کوئی نئی منزلیں تلاش کرنا چاہے تو سوات پاکستان کا دل ہے۔

جس کے بعد سوات کے مختلف مناظر دکھائے گئے ہیں۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ چند نوجوان جنھوں نے میوزک سسٹم نصب کررکھا ہے مالم جبہ کے ایک ہوٹل میں تفریح کررہے ہیں۔ مالم جبہ میں گذشتہ سال کے آخری ماہ میں ہونے والے اس پروگرام کی میزبان ہارویسٹ نام کی ایک تنظیم تھی، جس کا دفتر لاہور میں قائم ہے۔

ہارویسٹ کے مارکٹنگ منیجر باہو سرور کے مطابق ’ہم لوگ بنیادی طور پر میوزک اور سیاحت کے فروغ کے لیے سر گرم عمل ہیں اور ہر سال کے مختلف مواقع پر میوزک اور سیاحت سے جڑے پروگراموں کے فروغ کے لیے کام کرتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’سیاحت، مقامی کلچر اور میوزک کو فروغ دینے کے لیے ہر سال کسی مقام پر اپنا تین روزہ ایونٹ رکھتے ہیں۔ اس ایونٹ میں مقامی موسیقار کو دعوت دی جاتی ہے اور اس کے شرکا میں پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں کے نوجوانوں کے علاوہ مختلف شعبہ جات کے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ اور اس سال ہم نے مالم جبہ کا انتخاب کیا تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے ساتھ تقریباً 80 شرکا تھے جن کے لیے مقامی طور پر تقریباً تمام ہی ہوٹل بک کرلیے گئے تھے۔ شرکا نے تین دن کے دوران مختلف مقامات کی سیر کی اس کے بعد ایک تقریب منعقد کی گئی تھی۔‘

باہو سرور کا کہنا تھا کہ ’اس تقریب کے دوران میوزک کے فروغ کے لیے فنکشن بھی ہوا تھا۔ ہمارا مقصد بنیادی طور پر بین الاقوامی دنیا کو پاکستان کے حسین ترین مقامات کے بارے میں آگاہی دینا اور سیاحت کو فروغ دینا ہے۔‘

ان کے مطابق گذشتہ سال انھوں نے وادی کاغان کے مقام شوگراں میں پروگرام منعقد کیا تھا۔

باہو سرور کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ان پروگراموں کی ویڈیوز وغیرہ دیکھ کر بڑے تعداد میں غیر ملکی پاکستان کے سیاحتی مقامات کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ حالیہ ویڈیو کو بھی کئی غیر ملکیوں نے سوشل میڈیا پر دیکھا، پسند کیا اور شیئر کرنے کے علاوہ اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ حالات بہتر ہونے پر وہ سب سے پہلے سوات کا رخ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم مشکل حالات کے اندر مقامی سیاحتی صنعت کے لیے ذریعہِ آمدن بنے ہیں۔‘

قانون کیا کہتا ہے؟

طارق افغان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ’میں نے مالم جبہ میں سیاحوں کی وائرل وڈیو خود دیکھی ہے۔ وہ تو ایک بے ضرر ویڈیو ہے۔ مجھے تو اس میں کوئی فخاشی اور غلط کام نظر نہیں آیا ہے۔‘

طارق افغان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ’وائرل وڈیو کے اندر ایسا کچھ بھی نہیں ہورہا ہے کہ جو غلط اور قابل گرفت ہو۔ اس وڈیو پر فحاشی کا دفعہ لگانا میری رائے کے مطابق پولیس کا اختیارات سے تجاوز ہے جو اس کو نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘

قانون دان امان ایوب ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ’میری رائے کے مطابق مذکورہ ویڈیو میں قانون کے مطابق بھی فحاشی کی دفعہ نہیں لگ سکتی ہے۔ یہ تو کسی فنکشن کی وڈیو ہے۔ اب اگر نوجوانوں، سیاحوں کے فنکشنز پر بھی فحاشی کی دفعات لگا دیں تو پھر یہ معاشرہ چل نہیں سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے قانون اور بالخصوص اس دفعہ میں بہت زیادہ مسائل ہیں۔ جس میں سب سے پہلے یہ کہ فحاشی ہے کیا ہے۔ قانون تو بنا دیا ہے مگر اس کی کوئی واضح تشریح نہیں ہے۔ جس سبب سے اس دفعہ کو کہیں بھی کسی پر بھی نافذ کردیا جاتا ہے جو کہ انتہائی غلط روایت ہے۔‘

’لگتا ہے کہ اس وائرل وڈیو کے واقعہ میں بھی اسی طرح کیا گیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ بنانا تھا۔ سیاحوں نے فنکشن کیا تھا پولیس نے ان پر فحاشی کی دفعہ لگا دی ہے۔‘

’ایسا کچھ نہیں ہوا جو کہ قابل گرفت ہو‘

ایف آئی آر میں درج ایک دفعہ 294 پبلک مقامات پر ناچ گانے، ڈانس اور دیگر ذریعے سے دوسروں کو پریشان کرنے پر استعمال ہوتی ہے جبکہ 33NDMA کی دفعہ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر عائد کی جاتی ہیں۔

پروگرام کا حصہ ایک طالب علم کا کہنا تھا کہ یہ تیسرا سال ہے کہ میں اس سرگرمی کا حصہ ہوں۔ اس میں جہاں پر ہمارے ساتھ طالب علم ہوتے ہیں وہاں پر دیگر شعبہ زندگی کے لوگ بھی شریک ہوتے ہیں۔ بنیادی طور پر اس کا مقصد اپنے ملک میں سیاحت کو فروغ دینا ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حالیہ مالم جبہ کے اس آخری پروگرام کے دوران بھی نہ تو کچھ نیا کیا گیا اور نہ ہی ایسا کچھ ہوا جو کہ قابل گرفت ہو۔ ہم لوگوں نے وہاں پر تین دن گزارے۔ اس دوران ہم نے مقامی رسم و رواج کا مکمل خیال رکھا تھا۔ ہمارا پروگرام ہوٹل کی چاردیواری کے اندر تھا۔ جس میں میوزک کی آواز بھی باہر نہیں جارہی تھی۔‘

پروگرام میں شریک ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ ’مجھے یہ سن کر بہت افسوس ہوا ہے کہ مالم جبہ کی پولیس نے ہمارے تفریحی دورے کے دوران منعقدہ ایک پروگرام پر مقدمہ درج کیا ہے۔ اس وقت میں خود بھی ڈر رہی ہوں کہ پولیس کہیں مجھے بھی گرفتار نہ کر لے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس پروگرام میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا اور نہ ہی ہم لوگوں نے کوئی ایسی حرکت کی ہے جو کہ قابل گرفت ہو۔ طالب علموں اور نوجوانوں کے پروگرام منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ مالم جبہ میں بھی تفریح کے لیے ایسے ہی کیا تھا۔ اگر پولیس نے مقدمات ہی درج کرکے لوگوں کو گرفتار ہی کرنا ہے تو پھر ان مقامات پر جانے پر پابندی عائد کردی جائے۔‘

مالم جبہ

تیمور کمال کوارڈنیٹر پختونخوا سول سائٹی کا کہنا تھا کہ ’سیاحت کے فروغ کے لیے منعقدہ پروگرام پر مقدمے کا درج ہونا انتہائی قابل افسوس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آئین میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے کہ نوجوان اور طالب علم تفریح کے لیے ایسا کوئی پروگرام منعقد نہ کریں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’تفریح اور خوشی کے لیے منعقدہ پروگرام پر مقدمہ درج کرنا یا ایسے کسی پروگرام کو روکنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ ان طالب علموں اور نوجوانوں کا حق ہے اور ان پروگراموں کے انعقاد پر مقدمات درج کرکے معاشرے کو تاریکی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ لوگوں کی نجی زندگی میں مداخلت کی اجازت کوئی قانون نہیں دیتا ہے۔‘

پشاور میں انسانی حقوق کی کارکن ناظرہ سید کا کہنا تھا کہ ’مالم جبہ میں ہونے والا پروگرام جس پر مقدمہ درج کیا گیا ہے کوئی منفرد پروگرام نہیں تھا۔ پاکستان بھر میں ایسے پروگرام ہوتے رہتے ہیں۔ حکومتی سطح پر تو ویسے ہی نوجوانوں اور عوام کی تفریح کے لیے کچھ بھی موجود نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اب نوجوان اگر اپنی مدد آپ کے تحت اس طرح کے کچھ تفریحی پروگرام کرتے ہیں تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ ان پر پابندیاں عائد کرکے ہم ان کو کس طرف دھکیل رہے ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ ایک تکلیف دہ صورتحال ہے۔ ہمیں اس پر بیٹھ کر بات کرنا ہوگئی۔ لوگوں کو شخصی آزادیاں دینا ہوگی۔ کسی بھی معاملے پرپابندیاں کوئی بھی حل نہیں ہے۔‘

سوشل میڈیا پرردعمل

سوشل میڈیا پر تین منٹس کی ویڈیو کے وہ حصے شیئر کیے گئے جن میں سیاح خوشی سے ڈانس کر رہے ہیں۔ یہ ویڈیو وائرل ہوئی تو سوات میں مقامی تاجروں کی تنظیم کے صدر عبدالرحیم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سیاح سوات کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں لیکن نئے سال کے آغاز پر سیاحت کی آڑ میں فحاشی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

قمر حسین جو کہ سابق کونسلر ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ’سوات کے لوگ یہ سب برداشت نہیں کریں گے۔‘

صحافی محمد تقی نے ویڈیو پر تبصرہ کیا کہ ’اتنے بڑے رقص پر ایف آئی آر تو بنتی ہے۔‘ جبکہ محمد وقاص سلیم کا کہنا تھا کہ ’کتنی بری بات ہے ہمارے ملک میں لوگ دوسروں کو خوش نہیں دیکھ سکتے۔‘

محمد نسیم کا کہنا تھا کہ ’سمجھ نہیں آیا کہ اس وڈیو میں فحاشی کہاں سے آگئی ہے۔ چلیں ایسا ہے تو پھر سیاحت اور ترقی کی باتوں کو رہنے دیں۔‘

امان ایوب ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے درج مقدمہ کے بعد پولیس کو یہ اختیار حاصل ہوچکا ہے کہ وہ اس پروگرام میں موجود مزید 30، 40افراد کو گرفتار کرسکتی ہے۔ اب یہ پولیس کی صوبیدار پر ہے کہ وہ ہوٹل مینجر اور مالک کی گرفتاری اور جرمانے کے بعد مزید افراد کو گرفتار کرتی ہے کہ نہیں۔

سوات میں موسیقی
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

سوات میں پہلے بھی رقص اور موسیقی پر پابندی عائد رہی

سوات میں پولیس نے سنہ 2016 میں مقامی رقاصاؤں اور گلوکاراؤں کی جانب سے ان کی رہائش گاہوں پر رقص اور موسیقی کی محفلیں منعقد کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

فنکاروں نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ پولیس کی جانب سے ’اس پابندی نے طالبان دور کی یاد تازہ کردی۔‘

ان کے مطابق اب تو سوات میں امن قائم ہے اور جگہ جگہ چیک پوسٹیں اور پولیس اہلکار تعینات ہیں ایسے میں اس قسم کی پابندی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *