مالٹا میں اسقاط حمل سے انکار کے بعد خاتون کا سپین میں علاج: ’دل کی ان ننّھی دھڑکنوں کا مطلب تھا کہ میں ابھی خطرے میں تھی‘

اب ان کی آزمائش کے دن ختم ہو گئے ہیں۔ اینڈریا پروڈینٹ اب بات کرنے کے لیے تیار ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ جو ان پر بیتی اس سے کسی اور عورت کو نہ گزرنا پڑے۔

پریشان کن انتظار کے بعد وہ اور ان کے شوہر جے ویلڈریئر بذریعہ طیارہ مالٹا سے سپین پہنچے تو اینڈریا کو وہاں وہ طبی امداد ملی جو مالٹا کے ڈاکٹرز نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔

ان کا حمل، جس کے بارے میں یہ لگنے لگا تھا کہ وہ زندہ نہیں سکتا، کو اب ان کے جسم میں ممکنہ طور پر جان لیوا انفیکشن کے پھیلنے سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا ہے۔

میں نے اینڈریا سے بات کی جو کہ حمل کو ختم کروانے کے بعد مالورکا کے ہوٹل میں ہیں اور ان کی صحت میں بہتری کے آثار ہیں۔

مجھے وہ وہ نقاہت کا شکار اور ابھی بھی صدمے میں لگیں۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ جو کچھ ہوا اس سے نکلنے میں مجھے لمبا عرصہ لگے گا۔

یہ امریکی جوڑا مالٹا میں چھٹیاں منانے گیا ہوا تھا کہ 16 ہفتوں کی حاملہ اینڈریا کو خون آنے لگا۔ ڈاکٹرز نے انھیں بتایا کہ ان کے پلیسنٹا کا کچھ حصہ بچہ دانی سے الگ ہو گیا ہے اور شاید ان کا حمل مکمل نہ ہو سکے۔

اینڈریا نے مجھے بتایا کہ یہ ایک صدمہ تھا۔

یہ جان کر دل ٹوٹ گیا کہ وہ بچہ جسے ہم چاہتے تھے، جس کے لیے ہم نے پلان بنایا تھا مرنے جا رہا تھا۔

لیکن بچے کی دل کی دھڑکن اب بھی چل رہی تھی اور مالٹا میں قانون کے مطابق آپ ایسی حالت میں حمل ضائع نہیں کر سکتے۔

’خون بہنے اور پلیسنٹا کے بچہ دانی سے الگ ہونے کی وجہ سے اس کی اندرونی جھلی پھٹ گئی تھی اور بچے کی نال بچہ دانی کے سرے سے باہر نکل آنے کی وجہ سے اینڈریا انفیکشن کے غیر معمولی خطرے سے دوچار تھیں۔ لیکن اس سب سے بچا جا سکتا تھا۔'

ان نے مزید کہا کہ ’بچہ زندہ نہیں رہ سکتا، اسے بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اسے چاہتے تھے، ہم اب بھی اسے چاہتے ہیں، ہم اس سے پیار کرتے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ وہ زندہ رہے لیکن وہ نہیں رہے گا یہ خیال توڑ دینے والا تھا۔‘

اینڈریا

لیکن جب وہ مالٹا کے میٹر ڈے ہسپتال پہنچے تو ان کا غم اس احساس کے تحت کم ہونے لگا کہ وہاں کے ڈاکٹر اس حمل کو ضائع نہیں کر سکتے۔ بچے کا دل اب بھی دھڑک رہا تھا، لیکن مالٹا میں اسقاط حمل پر مکمل پابندی کے تحت اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ انتظار کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تھے۔

’ایک دائی نے مجھے بتایا کہ میں جب میں ’موت کے دہانے‘ پر ہوں گی تو پھر اس حمل کو ضائع کرنے کے لیے کوئی قدم اٹھا سکتے ہیں۔‘

اینڈریا نے مجھے بتیا کہ ’یہ خوفناک تھا۔‘

لیکن مالٹا کالج آف اوبسٹیٹریشینز اینڈ گائناکالوجسٹ کے صدر ڈاکٹر جان میمو کا اصرار ہے کہ وہاں کے ڈاکٹرز کسی بھی صورت اینڈریا کی حالت کو اس حد تک خراب نہیں ہونے دیتے۔

انھوں نے مجھے بتایا ’ہمارے پاس سال میں تقریباً ایسے پانچ [مرتبہ] کیسز آتے ہیں اور ہم اسی طرح کے انتظام کا استعمال کرتے ہیں اور ہمیں کم از کم پچھلے دس سالوں میں ماؤں کے ساتھ کوئی پریشانی نہیں ہوئی ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ایسے مطالعات ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حمل کے اس ابتدائی مرحلے میں بھی 10 سے 40 فیصد بچے زندہ رہتے ہیں۔ لہٰذا ہسپتال میں آنے والی خاتون کے ساتھ، ہم حمل کو ختم کرنے میں جلدی نہیں کرتے ہیں۔‘

ڈاکٹر میمو نے مجھے یقین دلایا کہ، اگر اینڈریا کو بخار ہوتا یا انفیکشن کی کوئی ابتدائی علامات بھی ظاہر ہوتی، تو میٹر ڈے کے ڈاکٹروں نے کوئی وقت ضائع نہ کیا ہوتا اور حمل ختم کر دیتے۔

اینڈریا اور جے نے ہسپتال میں ایک ہفتہ انتظار کیا کہ یا تو ان کا جسم قدرتی طور پر جنین کو نکال دے، یا پھر ان میں مہلک انفیکشن پیدا ہو جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی ذہنی صحت پر بہت زیادہ اثر پڑا۔

اینڈریا نے کہا کہ ’یہ ایک الجھا ہوا جذبہ تھا جہاں ہم ہر روز اس بچے کے دل کی ننھی دھڑکنوں کو سنتے تھے جسے ہم (دنیا میں لانا) چاہتے تھے، لیکن اس دل کی دھڑکن کی موجودگی کا مطلب تھا کہ میں ابھی تک خطرے میں تھی۔ یعنی ایک طرف ہم اس دل کی دھڑکن کی آواز پر خوش ہو رہے تھے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی چاہتے تھے کہ یہ رک جائے۔‘

بالآخر جوڑے نے اسپین کے لیے ہنگامی طبی انخلا حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی، جس کی ادائیگی ان کے ٹریول انشورنس کے ذریعے کی گئی۔

لیکن وہ جانتے ہیں کہ یہ آپشن مالٹا کی اکثر خواتین یا دیگر لوگوں کے لیے دستیاب نہیں ہوتا ہے اور بطور خاص ایسے لوگوں کے پاس جنھیں کسی دوسرے ملک جانے کے لیے اخراجات کو برداشت کرنےکے مالی وسائل نہیں ہوتے ہیں۔

اینڈریا نے مجھے بتایا: ' آپ کا نظریہ جو بھی ہو اسقاط حمل ایک پیچیدہ، شدید جذباتی اور ذاتی موضوع ہے اور اسقاط حمل پر مکمل پابندی درحقیقت خواتین کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیتی ہے اور بعض اوقات اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہوتا۔‘

انھوں نے مزید کہا: 'میں یہ نہیں چاہتی کہ ایسا ہوتا رہے لیکن اسقاط حمل پر مکمل پابندی کی وجہ سے ایسا ہوتا رہے گا۔ میں جب ان خواتین کے بارے میں سوچتی ہوں جو شاید میری حالت میں ہوں اور ان کے پاس کوئی راستہ نہ ہو، وہ ایسی جگہ جانے کے قابل نہ ہوں جہاں انسانیت اور ہمدردی کے ساتھ ان کی دیکھ بھال ہو تو ایسا لگتا ہے کہ یہ سراسر غلط ہے۔'

اینڈریا اور جے برطانیہ جانا چاہتے ہیں جہاں وہ طبی امداد حاصل کر سکیں
،تصویر کا کیپشناینڈریا اور جے برطانیہ

مالٹا کے لیے ایک قانونی چیلنج

اینڈریا اس تجربے سے بظاہر تھک چکی ہیں جبکہ جے ناراض ہیں۔

جے کہتے ہیں: 'ہم نے اپنا بچہ کھو دیا، اور انھوں نے اینڈریا کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔ ہم اسقاط حمل کے کارکن نہیں ہیں، ہم اس بچے کو چاہتے تھے، لیکن مالٹا میں جس طرح سے قانون لکھا گیا ہے، وہ اس حقیقت کو بالکل نظر انداز کر رہا ہے کہ کوئی درد اور تکلیف میں ہے۔'

مالٹا یورپی یونین کا واحد ملک ہے جہاں اسقاط حمل پر مکمل پابندی عائد ہے۔ قانون کوئی استثنا نہیں سمجھتا، مثال کے طور پر اگر حمل عصمت دری یا بدکاری کا ہی نتیجہ کیوں نہ ہو۔

لیکن اینڈریا کے معاملے نے اب ملک میں اسقاط حمل پر عائد پابندی کی بحث کو دوبارہ شروع جنم دیا ہے۔ رواں ہفتے کے شروع میں لیبر کی رکن پارلیمنٹ روزیانے کٹاجار نے پارلیمنٹ میں اپنے ساتھیوں سے قانون میں اصلاحات لانے کا مطالبہ کیا۔

انھوں نے کہا: 'ایک ملک کے طور پر، ہم اسقاط حمل سے متعلق اپنے موجودہ قانونی فریم ورک کا جائزہ لینے سے پہلے کسی اور تکلیف دہ واقعے (یا اس سے بھی بدتر) کا انتظار نہیں کر سکتے اور نہ ہی کرنا چاہیے۔'

جمعرات کو ملک کے وزیر صحت کرس فیرن نے کہا کہ انھوں نے قانون سازی پر نظرثانی کا کہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ موجودہ قانون ڈاکٹروں کو جان بچانے سے نہیں روکتا۔

لیکن اینڈریا اور جے کے لیے یہ اقدام بہت دیر سے آنے والا ہوگا۔ جوڑے کا کہنا ہے کہ اب وہ مالٹا کی حکومت کے خلاف مقدمہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔