مالی سال2021 میں تجارتی خسارہ 30 ارب ڈالر تک بڑھ گیا

اسلام آباد: وزارت تجارت کے ڈیٹا کے مطابق مالی سال 21-2020 میں کم برآمدات اور توقع سے زیادہ درآمدات کی وجہ سے پاکستان کا تجارتی تجارتی خسارہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 32.9 فیصد، 7 ارب 61 کروڑ ڈالر ڈالر تک بڑھ گیا۔

 رپورٹ کے مطابق سالانہ تجارتی خسارہ مالی سال 2021 میں جولائی تا جون کےدوران 30 ارب 79 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران 23 ارب 18 کروڑ ڈالر تھا۔

اس سے بیرونی اکاؤنٹس کو کنٹرول کرنے میں حکومت کے لیے نیا چیلنج پیدا ہوگیا ہے۔

ماہانہ خسارہ جون 2021 میں 3 ارب 33 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا جو ایک سال قبل 1 2 ارب 12 کروڑ ڈالر تھا جو 57.2 فیصد کے اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔

تجارتی خسارہ دسمبر 2020 سے بڑھتا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ درآمدات میں نمایاں اضافہ اور برآمدات میں نسبتا سست نمو ہے۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت رزاق داؤد نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ درآمدی بل میں بنیادی طور پر گندم اور چینی کی درآمد کی وجہ سے اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں گندم اور چینی کی درآمدی مالیت ایک ارب 20 کروڑ ڈالر رہی ہے۔

اسی طرح انہوں نے کہا کہ مقامی پیداوار میں کمی کی وجہ سے روئی کی درآمدی قیمت ایک ارب 20 کروڑ ڈالر رہی جبکہ مشینری کی درآمد 8 ارب ڈالر رہی جو صنعتوں میں توسیع کا اشارہ ہے۔

پیٹرولیم، سویا بین، مشینری، خام مال کیمیکل، موبائل فون، کھاد، ٹائر اور اینٹی بائیوٹک اور ویکسین کی درآمد میں اضافے کی وجہ سے بھی درآمدی بل میں اضافہ ہو رہا ہے، اس وقت ترسیلات زر میں اضافہ درآمدی بل کی مالی اعانت کے لیے کافی ہوگا۔

مالی سال 2021 میں برآمدات 25 ارب 29 کروڑ ڈالر رہی جو گزشتہ سال کے 21 ارب 39 کروڑ ڈالر سے 18.2 فیصد، 3 ارب 90 کروڑ ڈالر زیادہ ہے۔

جون میں برآمد سے آمدنی گزشتہ سال کے اسی مہینے کے ایک ارب 59 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 2 ارب 71 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی، جو 70 فییصد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

مشیر تجارت کہا کہ برآمدات سے کی مالیت پاکستان کی تاریخ میں اب تک کی سب سے زیادہ ہے۔

انہوں نے مزید دعوٰی کیا کہ جون 2021 میں برآمدات بھی اب تک کے سب مہینوں سے زیادہ تھیں۔

مالی سال 2021 کے لیے سروسز کی برآمدات کا تخمینہ 5 ارب 90 کروڑ ڈالر ہے جبکہ مالی سال 2021 کے دوران سامان اور سروسز کی مجموعی برآمدات 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔

عبدالرزاق داؤد نے کہا ’یہ ہمارے برآمد کنندگان کی جانب سے کووڈ 19 وبا سے پیدا ہونے والی مشکلات اور ہماری مرکزی منڈیوں میں اس کے نتیجے میں ہونے والی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک قابل ذکر کامیابی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ آسان کام نہیں تھا کیونکہ بہت سے ممالک لاک ڈاؤن میں چلے گئے تھے جس کی وجہ سے کاروبار بری طرح متاثر ہوا تھا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف ہماری برآمدات اس بحران سے بچ گئیں بلکہ ہم نے بہت سارے شعبوں میں اسے بڑھایا بھی ہے، اس سنگ میل کو حاصل کرنے پر میں اپنے برآمد کنندگان کو سلام پیش کرتا ہوں۔

شعبوں کارکردگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی برآمدات میں بالترتیب 18.85 فیصد، فارماشیوٹیکل 27 فیصد اور تانبے کے شعبے میں 44 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

دریں اثنا انہوں نے کہا کہ چاول کی برآمدات میں بالترتیب 8 فیصد، کاٹن 2 فیصد، خام چمڑا 16 فیصد اور پلاسٹک میں 6 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ اقدامات کے ساتھ اگلے دو سالوں میں برآمدات میں 5 فیصد اضافہ متوقع ہے‘۔

گزشتہ ایک دہائی سے 25 ارب ڈالر پر برآمدات کے رکے ہونے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہون نے کہا کہ برآمدات کو بڑھانے میں وقت لگے گا۔

انہوں نے 2013 سے برآمدات میں کمی کی وجوہات بتاتے ہوئے دعوٰی کیا کہ ’ہم نے اس رجحان کو تبدیل کردیا ہے‘۔

اسٹریٹجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک اور ٹیکسٹائل پالیسی پر عمل درآمد نہ کرنے کے معاملے پر سیکریٹری تجارت صالح فاروقی نے کہا کہ دونوں پالیسیاں ای سی سی کے ساتھ مشاورتی عمل کے تحت ہیں۔

یورپی یونین کے جی ایس پی پلس اسکیم کی حیثیت سے متعلق ایک اور سوال کے جواب میں مشیر تجارت نے کہا کہ انہیں پالیسی میں کسی تبدیلی کی توقع نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت برسلز کے ساتھ 27 کنونشنز کے نفاذ کے معاملے پر پوری طرح سے مصروف عمل ہے، پانچ کنونشنز کا مسئلہ ہے، ہم ان معاملات پر یورپی یونین کے ساتھ مستقل طور پر بات چیت کر رہے ہیں۔

مشیر تجارت نے کہا کہ ترجیحی تجارتی معاہدوں کے ساتھ ساتھ ایک عبوری تجارتی معاہدہ بھی اسی ماہ ازبکستان کے ساتھ ہوگا، سلک روڈ روٹ کے منصوبے پر بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ اور ترجیحی تجارت کے معاہدوں پر بھی دستخط کیے جائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *