مالی ضمنی بل 2021 منظور: ’سپیکر صاحب ایک ہی سانس میں انگریزی کا پورا فقرہ بول گئے، اپوزیشن کی شاباشی‘

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں مالی ضمنی بل منظور کر لیا گیا اور حزب مخالف کی جانب سے پیش کردہ تمام ترامیم کثرت رائے سے مسترد کردی گئیں۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کی جانب سے منی بجٹ منظوری کے لیے پیش کیا گیا تو اس وقت اسمبلی میں بڑی گہماگہمی تھی اور حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان اسمبلی ہال میں موجود تھے۔ ان میں حزب مخالف کے جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی کی تعداد 150 جبکہ حکومت اور اس کے اتحادیوں کے ارکان کی تعداد 168 تھی۔

یوں اجلاس کے کچھ ہی دیر کے بعد وزیر اعظم عمران خان ایوان میں آئے تو حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا خوب استقبال کیا۔

جمعرات کو اپوزیشن نے خوب احتجاج بھی کیا مگر میڈیا پر بڑی خبر قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل ہونے والے پارلیمانی اجلاس میں وزیر اعظم اور پرویز خٹک کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بڑی خبر بنی رہی۔

جب احتجاج شروع ہوا تو ابھی وزیر اعظم اپنی نشست پر بیٹھے ہی تھے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہونے واے ارکان کی ایک قابل ذکر تعداد ان کی نشست کے اردگر اکھٹی ہوگئی جیسے وہ عمران خان کو اس بات کی یقین دہانی کروا رہے تھے کہ وہ اس بل کی حمایت میں ہیں۔

جو ارکان وزیر اعظم کے اردگر موجود رہے ان میں زیادہ تر وہ خواتین شامل تھیں، جو کہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر کامیاب ہوکر ایوان میں پہنچی ہیں۔ تاہم قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایوان میں جن ارکان نے وزیر اعظم سے ان کی سیٹ پر جاکر ملاقات کی ان میں سے کسی کے ہاتھ میں کوئی فائل نہیں تھی۔

اپوزیشن کے ارکان جب اس منی بجٹ کے خلاف ایوان میں تقریریں کر رہے تھے تو اس وقت مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی حکمراں جماعت کی متعدد خواتین اراکین چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بنا کر خوش گپیوں میں مصروف رہیں اور اس طرح پنجاب کے جنوبی علاقوں سے منتخب ہونے والے ارکان قومی اسمبلی کا ایک گروپ بھی خوش گپیوں میں مصروف رہا۔

اپوزیشن کے راکان کی طرف سے پیش کی جانے والی بجٹ کی کٹوتی کی تحاریک کو مسترد کیا گیا تو اپوزیشن کے ارکان نے گنتی کروانے کا مطالبہ کیا، جس پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ان تحاریک کے حق میں اور محالفت کرنے والے اراکین کی گنتی کا حکم دیا تو پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان حزب مخالف کے بینچوں میں چلے گئے تو اس دوران سپیکر قومی اسمبلی کے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سیٹ پر چلے جائیں۔

بلاول

اپنی سیٹ پر جانے کے بعد بھی جب نور عالم خان کھڑے رہے۔ جب ان تحاریک کے حق میں اپوزیشن کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے تھے اور ان کی گنتی کی جارہی تھی تو پی ٹی آئی کے متعدد ارکان نے انھیں زبردستی سیٹ پر بٹھایا۔

اسی طرح جب ان تحاریک کی مخالفت کرنے والے ارکان کی گنتی شروع ہوئی تو وزیر اعظم سمیت حکمراں جماعت اور ان کے اتحادی کھڑے ہوگئے تاہم نور عالم خان اپنی نشست پر بیٹھے رہے اور اس موقع پر بھی پی ٹی آئی کے ارکان ان کے ڈیسک کے پاس گئے اور انھیں کھڑا کیا۔

گنتی مکمل ہونے کے بعد جس میں حزب مخالف کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو نور عالم خان ایوان سے کچھ دیر کے لیے باہر چلے گئے۔

ایک اور موقع پر جب اپوزیشن کی طرف سے پیش کی جانے والی تحریک پر اپوزیشن کے ارکان نے اس تحریک کے حمایت اور مخالفت کرنے والے ارکان کی گنتی کرنے کا مطالبہ کیا تو سپیکر نے ان کا مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا، تو حزب مخالف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے شور مچانا شروع کردیا اس دوران قومی اسمبلی کے عملے نے اسد قیصر کو بتایا کہ اسمبلی کے قواعد و ضوابط کا رول 29 سپیکر کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ گنتی کروانے یا نہ کروانے کے لیے اپنی صوابدیدی اختیار استعمال کر سکتا ہے۔

اپوزیشن کے رولنگ کے مطالبہ پر سپیکر قومی اسمبلی نے مذکورہ رول انگریزی میں پڑھا تو اپوزیشن کے متعدد ارکان نے قہقہ لگایا اور خوشی سے ڈیسک بجائے اور ساتھ یہ فقرے بھی کسے کہ ’سپیکر صاحب ایک ہی سانس میں انگریزی کا پورا فقرہ بول گئے‘۔

اسد قیصر جب بھی قومی اسمبلی کی کارروائی چلارہے ہوتے ہیں تو اردو میں ہی بات کرتے ہیں اور انگریزی بہت ہی کم بولتے ہیں اور وہ بھی اسی وقت جب انھوں نے قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنا ہو یا کوئی رولنگ پڑھنی ہو۔

جب حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان نے سپیکر پر دباؤ بڑھانا شروع کیا تو پارلیمانی امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر بابر اعوان سپیکر قومی اسمبلی کی مدد کے لیے کھڑے ہوئے اور انھوں نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی ایوان کو آئین اور قانون کے مطابق چلا رہے ہیں اور کسی معاملے پر گنتی کروانا یا نہ کروانا سپیکر کا استحقاق ہے۔

شہباز شریف

’یہ میگا بجٹ ہے، اس سے مہنگائی کا ایک طوفان آئے گا‘

حزب مخالف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے اس منی بجٹ کو میگا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مہنگائی کا ایک طوفان آئے گا اور عوام اس سے شدید متاثر ہوں گے۔

رکن قومی اسمبلی خرم دستگیر نے کہا کہ یہ میگا بجٹ ہے، اس سے ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان آئے گا۔

اگر حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے چھ ہزار ارب روپے کا ریونیو اکھٹا کیا ہے تو پھر اسے منی بجٹ پیش کرنے کے بجائے عوام کو ریلیف دینا چاہیے۔

ان ارکان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پی ٹی آئی کی پہلی حکومت ہے، جس نے ستائیس سو ارب روپے سے زیادہ کا قرضہ لیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کا کہنا تھاکہ جہاں اس بجٹ میں عوام پر ساڑھے تین سو ارب کا نیا ٹیکس لگے گا، وہیں سٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کی برانچ بنانے کی بھی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کرنے سے ملکی سلامتی ’کمپرومائز‘ ہو سکتی ہے۔

error: