مانسہرہ میں خواجہ سراؤں پر فائرنگ: ’وہ فیصلہ کرچکا تھا کہ اس نے ہمیں ہر صورت میں مارنا ہے، ہمارا بچ جانا معجزہ ہی ہے‘

’وہ ہم پر اندھا دھند فائرنگ کررہا تھا۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے میری چار دوستیں خون میں لت پت ہو کر گر گئیں تھیں۔ جب اس نے مجھے دیکھا تو مجھے بھی نشانہ بنایا۔ اپنی دوستوں سے دور ہونے کی بنا پر مجھے پاؤں میں گولی لگی تھی۔ قریبی پولیس سٹیشن پہنچ کر اطلاع دی۔ اگر چند لمحے اور تاخیر ہوجاتی تو شاید میری دوستوں کا بچنا مشکل ہوتا۔‘

یہ کہنا ہے گذشتہ روز صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع مانسہرہ میں ایک شخص کی فائرنگ سے زخمی ہونے والی خواجہ سرا نتاشہ عرف بلال کا۔

مانسہرہ کے تھانہ سٹی میں اس واقعے کا مقدمہ درج ہوا ہے۔ پانچ خواجہ سرا زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے دو کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے مطابق زخمی حالت میں ہسپتال میں لائے گے پانچ میں سے ایک خواجہ سرا کو طبّی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا جبکہ چار اس وقت بھی ہسپتال میں داخل ہیں۔

ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چار میں سے دو خواجہ سراؤں کی حالت مستحکم ہے لیکن دو کی حالت نازک ہے۔

’ایک خواجہ سرا کا پانچ اور دوسرے کا سات گھنٹے کا طویل آپریشن ہوا ہے۔ ایک کے گردے اور دوسرے کے جگر کو نقصان پہنچا ہے۔ دونوں کو دوران آپریشن تین تین پوائنٹ خون لگا ہے۔‘

نتاشہ عرف بلال کہتی ہیں کہ جس طرح ملزم فائرنگ کررہا تھا۔ اس سے تو یہ لگتا تھا کہ شاید وہ فیصلہ کرچکا تھا کہ اس نے ہمیں ہر صورت میں مارنا ہے، ہمارا بچ جانا معجزہ ہی ہے۔‘

’کھانا کھانے گئے تھے‘

ٹرانس

نتاشہ عرف بلال کہتی ہیں کہ ہمیں مونا عرف بلال نے اپنے گھر میں کھانے پر بلایا تھا۔ وہ کہتی تھی کہ چلو آج سب مل کر کھانا کھاتے ہیں۔ ہم لوگ جب مونا کے گھر میں پہنچے تو اس وقت مونا بھی ہمارے ساتھ تھی۔ وہ اپنے گھر میں داخل ہوئی تو ملزم اندر بیٹھا ہوا تھا۔

’ملزم نے دیکھتے ہی گولیاں چلانا شروع کردیں تھیں۔ وہ ا ندھا دھند گولیاں چلا رہا تھا۔ میں ان چاروں سے تھوڑا پیچھے تھی۔ میں نے دیکھا کہ وہ یک دم ہی خون میں لت پت ہو کر زمین پر گر گئیں تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے فائرنگ کر دی۔ گولی میرے پاؤں پر لگی تھی۔‘

نتاشہ کہتی ہیں کہ میں فورا بھاگی اور باہر روڈ پر چلی گئی۔ ’

’ایک گاڑی پر بیٹھ کر قریبی پولس چوکی جا کر اطلاع دی۔ جنھوں نے فوراً ہی اپنی موبائل واردات والے مقام پر پہنچایا اور چاروں کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ چاروں کا بہت زیادہ خون بہہ چکا تھا۔ فوری طبی امداد فراہم کی گئی تھی۔ اس وقت چاروں ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد میں زیر علاج ہیں۔

ہزارہ ٹرانسجینڈرز ایسوسی ایشن کی چیف ایگزیکٹو نادرہ خان کے مطابق ابھی تک مونا کی حالت بات کرنے کے قابل نہیں ہوئی ہے تاہم ہم نے پولیس کو جو تفصیلات فراہم کی ہیں اور ہمارے پاس جو معلومات ہیں ان کے مطابق ملزم کی مونا کے ساتھ پہلے سے دوستی تھی۔

’اس کے گھر کی چابی مونا ہی کے پاس تھی۔ وہ اکثر اس کے گھر آتا جاتا رہتا تھا۔‘

تاہم ان کا الزام ہے کہ ملزم نے کچھ عرصے سے مونا کو نہ صرف بلیک میل کرنا شروع کردیا تھا بلکہ اس کو دھمکیاں دیتا تھا اور اس کے ساتھ تعلقات رکھنا چاہتا تھا۔ مگر مونا کی جانب سے انکار پر وہ مشتعل ہوا اور اس نے یہ حرکت کی ہے۔‘

پولیس تھانہ سٹی مانسہرہ کے مطابق بھی ابتدائی تفتیش میں یہ ہی بات سامنے آئی ہے کہ ملزم نے دوستی اور تعلق سے انکار پر یہ قدم اٹھایا ہے تاہم واقعہ کی تفتیش جاری ہے۔ ایک مضروب خواجہ سرا ابھی تک اس قابل نہیں ہے کہ اس سے بات ہو سکے۔

مقدمہ مونا عرف محسن کی جانب سے درج کروایا گیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے ان کو قتل کرنے کے لیے فائرنگ کی تھی۔

مانسہرہ پولیس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق واقعے میں پانچ خواجہ سرا زخمی ہوئے ہیں اور واقعے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی ملزم کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

’تشدد بڑھتاجارہا ہے‘

صوبہ خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے ٹرانسجینڈرز کے لیے قائم کردہ کمیٹی کے ممبر اور سماجی کارکن قمر نسیم کہتے ہیں کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں خواجہ سراہوں کے خلاف تشدد بہت بڑھ چکا ہے۔ اس کی شاید ایک وجہ ابھی تک ان کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کا نہ اٹھانا ہے۔

قمر نسیم کہتے ہیں اس وقت قوانین تو متعارف کروا دیے گے ہیں۔ مگر ان قوانین پر عمل در آمد نہیں ہورہا ہے۔ تین سال ہو گئے کمیٹی قائم ہوئی ہے۔ اس کا ایک بھی اجلاس نہیں ہوا ہے۔ اسی طرح پولیس کا بھی کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’خیبر پختونخواہ میں کتنی سنجیدہ صورتحال ہے۔ اس کا اندازہ اعداد و شمار دیکھ کر کیا جاسکتا ہے۔ جس میں ہمارے اندازوں کے مطابق سال 2015 سے لے کر ابتک 89 خواجہ سرا ہلاک ہوچکے ہیں۔ کئی زخمی ہوئے ہیں جبکہ اس کے علاوہ تشدد کے واقعات الگ ہیں۔‘

ہزارہ ٹرانسجینڈرز ایسوسی ایشن کی چیف ایگزیکٹو نادرہ خان کہتی ہیں کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں آٹھ خواجہ سرا اپنے والدین کے ہاتھوں مارے جاچکے ہیں۔

قمر نسیم کہتے ہیں کہ صورتحال یہ ہے کہ تمام تر قانون سازی کے باوجود خواجہ سراؤں کے خلاف تشدد اور نفرت بڑھتی جارہی ہے۔ معاشرہ ان کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، یہ صورتحال دن بدن بگڑتی جارہی ہے، قانون کے اندر خواجہ سراؤں کے تحفظ کے لیئے جن اقدامات کا ذکر ہوا ہے ان پر کوئی عمل در آمد نہیں ہو رہا ہے۔ ‘

قمرنسیم کہتے ہیں کہ مجھے ایسے لگتا ہے کہ شاید خواجہ سراؤں کے تحفظ کے لیے اقدامات پر ہم لوگ مجموعی طور سنجیدہ نہیں ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ قانون پر عمل در آمد کروانے کے لیے کمیٹی جو کہ قام بھی کی گئی ہے ابتک اجلاس منعقد نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی کا کام تھا کہ وہ مختلف ایس او پی تیار کرتی جن پر خواجہ سراؤں اور پولیس کو مل کر عمل کرنا تھا اور پھر ان پر عمل در آمد کروانا تھا۔ جس میں خواجہ سراؤں کے گھروں کے باہر کیمروں کا لگانا، مختلف فنکشن پر جانے کے طریقہ کار، اب تک خواجہ سراؤں کے خلاف جتنے بھی تشدد کے واقعات ہوئے ہیں۔ وہ ان کے گھروں اور فنکشن پر ہوئے ہیں۔

قمر نسیم کا کہنا تھا کہ پولیس کی تربیت ہونا تھی۔ وہ بھی نہیں ہوئی ہیں۔ اب اگر پولیس کی تربیت نہیں ہوگئی اور خواجہ سراؤں کے لیئے ایس او پی نہیں بنیں گے تو ان کے تحفظ کے لیئے متعارف کروائے گے قوانین پر کیسے عمل در آمد ہوگا۔

مختص فنڈ ابھی تک خرچ نہیں ہوئے ہیں

ٹرانس

نادرہ خان کہتی ہیں کہ صوبائی حکومت نے کوئی 20 کروڑ روپے خواجہ سراؤں کی بہبود کے لیے سوشل ویلفیئر کو دے رکھے ہیں۔ وہ ابھی تک استعمال نہیں ہوئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اسلام آباد میں خواجہ سراؤں کی بہبود کے لیے بہت کچھ ہورہا ہے ہورہا ہوگا۔ مگر کام کرنے کی ضرورت تو خیبر پختونخواہ جیسے صوبے میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ فنڈز خواجہ سراؤں کی بہبہود پر خرچ ہونا شروع ہو جاتے تو اس سے بہت کچھ بدل سکتا تھا۔

نادرہ خان کہتی ہیں کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم مسائل پیدا کرتے ہیں۔ مگر ہمارے مسائل کو کوئی نہیں دیکھتا جب ہمیں اپنے خاندان سے نکال باہر کرتے ہیں تو اس وقت ہمیں رہائش کے لیے کمرہ بھی عام حالات میں ڈبل کرائے پر ملتا ہے۔ ہمیں کوئی کام نہیں دیتا اگر دیتا ہے تو اس کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں وہ ہوں جو ہر وقت اور ہمہ وقت نگاہوں کے سامنے رہتی ہوں ہر مقام پر مجھے نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مجھے پہلے ہی قابل نفرت سمجھا جاتا ہے۔ اس صورتحال کے اندر بتایا جائے کہ ہم کہاں جائیں؟

قمر نسیم کہتے ہیں کہ کمیٹی کا اجلاس نہ ہونے کی بنا پر ابھی تک مختص فنڈ کا استعمال نہیں کیا جا سکا ہے۔