ماں بننے پر افسوس: ’اکثر خواتین اس پچھتاوے کا اقرار کیے بنا ہی دنیا سے چلی جاتی ہیں‘

اولاد کی خواہش اور پھر پچھتاوا۔۔۔ بہت سی خواتین یہ ’راز‘ اپنے ساتھ قبر میں لے جاتی ہیں کہ ان کی اولاد کی خواہش پچھتاوے میں بدلی۔

یہ کہنا ہے کتاب ریپینٹینٹ مدرز: اے ریڈیکل لُک ایٹ مدر ہڈ اینڈ اِٹس سوشل فالیسیز‘ کی اسرائیلی شہر تل ابیب سے تعلق رکھنے والی مصنفہ اورنا ڈوناتھ کا، جن کے اپنے کوئی بچے نہیں۔

اورنا ڈوناتھ کہتی ہیں کہ انھیں کبھی بھی یہ فکر نہیں رہی کہ معاشرہ ان کے بارے میں کیا کہتا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جہاں فی ماں تین بچوں کی شرح پیدائش کو ترقی یافتہ دنیا میں سب سے زیادہ مانا جاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں امریکہ میں 2019 میں 1.70، برطانیہ میں 1.65 اور جرمنی میں 1.54 شرح پیدائش تھی۔

لاطینی امریکہ اور کیریبین کے اقتصادی کمیشن (ای سی ایل اے سی) کے مطابق لاطینی امریکہ کو گزشتہ صدی میں عالمی آبادی میں اضافے کی بڑی وجہ سمجھا جاتا تھا جہاں سنہ 2019 میں بھی فی ماں اوسطاً دو بچوں کی شرح پیدائش تھی۔

حال ہی میں اورنا ڈوناتھ نے نصف درجن خواتین کے انٹرویو کے بعد ایک مضمون تحریر کیا جس کے ذریعے وہ ایک ایسے موضوع پر توجہ دلانا چاہتی ہیں جس پر ان کے خیال میں آج بھی بات کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔

بی بی سی منڈو کے ساتھ ایک انٹرویو میں اسرائیلی ماہر سماجیات نے بچے پیدا نہ کرنے کے فیصلے اور اس سے جڑے سماجی دباو پر بات کی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’کچھ لوگوں کے لیے یہ سننا مشکل ہے کہ کسی عورت کو یہ کہتے ہوئے سنا جائے کہ اسے اولاد ہونے پر افسوس ہے لیکن ایسا ہوتا ہے اور ہماری سوچ سے زیادہ عام ہے۔ یہ اب بھی ایک ممنوعہ موضوع کیوں ہے؟‘

اورنا ڈوناتھ
،تصویر کا کیپشناورنا ڈوناتھ کے اپنے کوئی بچے نہیں

وہ کہتی ہیں کہ مجھے لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ماں ہونا مقدس سمجھا جاتا ہے۔

’بہت سے معاشروں اور ثقافتوں میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ماں بننا ہی عورت کی زندگی کا نچوڑ ہے۔ ہمارے لیے یہ سوچنا مشکل ہے کہ ہر رشتے کی طرح زچگی بھی ایک انسانی رشتہ ہے جس میں ہر قسم کے جذبات اور احساسات ہو سکتے ہیں۔‘

’یہ ہمیشہ کہا جاتا ہے کہ زچگی ہماری زندگیوں کو ہمیشہ کے لیے بدل دیتی ہے اور یہ سچ ہے لیکن بہت سی خواتین کے لیے یہ تبدیلی مثبت تبدیلی نہیں ہوتی۔ ایک ہی جیسا جسم ہونا تمام خواتین کو ایک جیسا نہیں بناتا۔ میرا خیال ہے کہ پدرشاہی معاشرے میں ’عورتوں کو ان کی جگہ پر رکھنا‘ ضروری ہے۔‘

کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہم نے ماں بننے کو ایک مقدس عمل بنا دیا ہے؟

جی ہاں۔ میں ماں بننے کے خلاف نہیں ہوں تاہم میں سمجھتی ہوں کہ زچگی کے اس پورے تصور کو انسانی رشتوں سے جڑے مختلف قسم کے تجربات اور احساسات سے الگ تھلگ کر دیا گیا ہے جس سے دنیا کی بہت سی خواتین کے لیے نمٹنا مشکل ہے۔

آپ نے اس موضوع پرکافی تحقیق کی ہے، ماں بننے پر افسوس کرنا کتنا عام ہے خواتین میں؟

مجھے لگتا ہے کہ ہم کبھی نہیں جان پائیں گے کہ یہ کتنا عام ہے۔ ایسی خواتین ہیں جو ماں بننے پر افسوس کرتی ہیں لیکن وہ اس کا اظہار نہیں کر سکتیں۔ ایسی خواتین بھی ہیں جو خود تک کو یہ نہیں بتا پاتیں کہ انھیں اس کا پچھتاوا ہے جبکہ زیادہ تر خواتین تو اس پچھتاوے کا اقرار کیے بنا ہی دنیا سے چلی جاتی ہیں۔

آپ نے جن خواتین کا انٹرویو کیا ہے، ان میں سے کئی نے کہا کہ اگر انھیں ایک اور موقع ملا تو وہ دوبارہ کبھی ماں بننا پسند نہیں کریں گی اس پچھتاوے کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے؟

ماں اور بچہ

کئی خواتین کو یہ پچھتاوا بعد میں یہ جان کر ہوتا ہے کہ زچگی ان کے بس کا کام نہیں تھا اور وہ ماں بنے بغیر ایک مختلف قسم کی زندگی گزارنے کو ترجیح دیتیں۔ کچھ خواتین میں پچھتاوے کی بنیادی وجہ وہ ذمہ داریاں ہوتی ہیں جو ماں بننے کے بعد ادا کرنا پڑتیں ہیں۔

لیکن ایسی کچھ خواتین بھی ہیں جن پر ذمہ داریاں نہیں کیوںکہ ان کے پارٹنر بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں پھر بھی ان کو ماں بننے پر پشیمانی ہوتی ہے۔ کچھ ایسی خواتین بھی مجھے ملیں جو اب دادی بن چکی ہیں اور ان پر کوئی ذمہ داری نہیں لیکن ان کو پچھتاوا ہے اور شاید ان کو موقع ملتا تو وہ کبھی بچے پیدا نہ کرتیں۔

بہت سی خواتین صرف اس دور میں واپس جانا چاہتی ہیں جب ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ لوگ سوچتے ہیں کہ بچے پیدا کرنے سے توبہ کرنے والی خواتین کی زندگی شاید نہایت مشکل ہوتی ہے یا شاید ان کے بچوں کی لیکن ایسا نہیں۔

کیا کچھ خواتین بچے پیدا کرنے اور ماں بننے کو ذاتی ترقی میں رکاوٹ بھی سمجھتی ہیں؟

ضروری نہیں کہ ایسا ہر خاتون سمجھتی ہو کیوںکہ ایسی خواتین بھی ہیں جن کے خیال میں ان کو اس بات سے مدد ملی کہ وہ ایک ماں بھی ہیں۔

کیا آپ سمجھتی ہیں کہ مامتا ایک جبلت بھی ہے؟

میں نہیں مانتی کہ حیاتیاتی طور پر زچگی کی کوئی جبلت ہے لیکن جو چیز موجود ہے وہ زچگی کی نام نہاد جبلت کے گرد بنائی گئی تاریخ ہے۔ یہ ہمیں زچگی کی طرف دھکیلنے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ کچھ خواتین صرف اس بائیولوجیکل گھڑی کو نہیں سنتی ہیں اور بچوں کے ساتھ ایک اور قسم کا رشتہ رکھنا چاہتی ہیں، جیسے وہ ان کی آنٹی ہوں۔

بچے کو جنم دینا اور اس کی پرورش کرنا ہم خواتین کے لیے بچے کے ساتھ رشتہ قائم کرنے کا واحد طریقہ نہیں۔

خاتون

آپ کے مطابق زچگی کے ساتھ جڑے بہت سے سماجی دباو بھی ہیں۔ ان کا اظہار کس شکل میں ہوتا ہے؟

خواتین کی پرورش چھوٹی عمر سے ہی یہ بتا کر کی جاتی ہے کہ زچگی ہماری زندگی کا نچوڑ ہے۔

ایک ہی وقت میں، وہ ان خواتین پر تنقید کرتے ہیں جو بچے پیدا نہ کرنے کی خواہش کا اظہار کرتی ہیں۔ وہ ان کے ساتھ خود غرض، پاگل، ناپختہ سلوک کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ حقیقی عورتیں نہیں ہیں۔

کیا آپ نے بھی اس سماجی دباو کا سامنا کیا؟

یہ سماجی دباؤ میں نے محسوس کیا لیکن مجھے نہیں لگتا کہ میں ایک اچھی مثال ہوں کیونکہ میں اس موضوع کو اچھی طرح جانتی ہوں، میں نے اس کا مطالعہ کیا ہے تاہم میں نے سوشل میڈیا پر خوفناک چیزیں پڑھی ہیں۔

اپنی ذاتی زندگی میں اب میں اس دباؤ کو محسوس نہیں کرتی لیکن اس سے پہلے معاشرہ مجھ سے ماں بننے کی توقع رکھتا تھا، جیسا کہ کسی دوسری اسرائیلی عورتوں سے توقع کی جاتی ہے۔ ہاں کچھ عرصہ میں نے ضرور ایسا سوچا کہ میں نارمل نہیں ہوں اور میرے ساتھ کچھ گڑبڑ ہے۔

ایسی خواتین کو اتنی تنقید کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے؟

اس لیے کہ یہ سوچ پدرشاہی معاشرے کے لیے خطرہ ہے۔ نیز اس لیے کہ معاشرہ اور حکومت بھی چاہتی ہے کہ مستقبل میں آبادیاتی مسائل سے بچنے کے لیے آپ کے بچے پیدا ہوں۔ ایک اور وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کو بچے پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور انھیں اس صلاحیت کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے جو خواتین میں ہے۔

جب خواتین یہ کہتی ہیں کہ وہ اپنے جسم، زندگی، خوابوں اور فیصلوں کی مالک ہیں، تو کچھ لوگوں کو کنٹرول کھونے کا ایک خاص خوف محسوس ہوتا ہے۔

اب جب کہ مانع حمل کے بہت سے سائنسی طریقے بھی موجود ہیں تو پھر ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ خواتین اب بھی ماں بننے کے بعد پچھتاتی ہیں؟

ماں نہ بننا اب بھی بہت مشکل ہے۔ ایسی خواتین ہیں جو ماں بننے کا فیصلہ کرتی ہیں کیونکہ سماجی طور پر وہ یہ تسلیم ہی نہیں کر سکتیں کہ وہ ماں نہیں بنیں گی اور یہاں میں مغربی معاشرے کی بات کرتی ہوں۔ دوسرے معاشروں میں تو خواتین کے پاس یہ اختیار بھی نہیں ہوتا کہ وہ خود فیصلہ کر سکیں۔