ماہرہ خان کی فلم ’پرنس چارمنگ‘: سوشل میڈیا پر ماہرہ خان کی اداکاری کی دھوم لیکن فلم کے موضوع پر رائے منقسم

پاکستانی ڈرامہ ’ہم سفر‘ سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والی اداکارہ ماہرہ خان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی ہیں اور اس کی وجہ ان کی مختصر دورانیے کی فلم ’پرنس چارمنگ‘ ہے، جو جمعے کو ریلیز کر دی گئی ہے۔

ماہرہ خان نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے نہ صرف اس فلم کے ریلیز ہونے کا اعلان کیا بلکہ اس کا یوٹیوب لنک بھی ساتھ شیئر کیا۔

اس فلم کو اب تک یوٹیوب پر دو لاکھ سےزیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس فلم کی دھوم مچی ہوئی ہے۔

اداکار شہریار منور کی ہدایت کردہ اس فلم کا دورانیہ صرف 12 منٹ ہے جس میں مائرہ خان اور زاہد خان نے اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔

اگر سوشل میڈیا پر اس فلم پر جاری بحث پر نظر دوڑائی جائے تو ایک بات تو صاف ظاہر ہے کہ اس فلم میں ماہرہ خان کی اداکاری پر شاید ہی کسی نے سوال اٹھایا ہو۔

جہاں ہر کوئی ماہرہ خان کی اداکاری کی تعریف کرتا دکھائی دیتا ہے وہیں بہت سے صارفین شہریار منور کی ہدایت کاری کو بھی داد دیتے نظر آتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے نجی ٹی وی چینل ’ہم ٹی وی‘ پر بھی گذشتہ ہفتے ماہرہ خان کا ایک نیا ڈرامہ شروع ہوا ہے اور اس میں بھی ان کی اداکاری کو خاصا سراہا جا رہا ہے۔

لیکن فلم ’پرنس چارمنگ‘ میں ماہرہ خان کی اداکاری اور شہریار منور کی ہدایت کاری کے علاوہ سوشل میڈیا پر اس فلم کا موضوع بھی زیر بحث ہے اور اس حوالے سے لوگوں کی رائے کسی حد تک منقسم نظر آتی ہے۔

ٹویٹ

اس فلم کے موضوع پر جاری بحث تو بعد میں، پہلے ہم آپ کو یہ بتاتے ہیں کہ اس فلم کی کہانی کیا ہے۔

نہیں نہیں، گھبرائیے نہیں ہم آپ کا مزہ کرکرا نہیں کرنے والے بلکہ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس تحریر کو پڑھنے کے بعد بھی آپ یہ فلم ضرور دیکھیں گے۔

فلم کی کہانی کیا ہے؟

اس فلم میں ماہرہ خان ایک ہاؤس وائف شہرزاد جبکہ زاہد احمد، ان کے شوہر اکبر کا کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ فلم ان دونوں کی ازدواجی زندگی کے گرد گھومتی ہے۔

فلم ’پرنس چارمنگ‘ میں دراصل شادی کے بعد خواتین میں ڈپریشن کے مسائل کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔فلم میں دکھایا گیا کہ ماہرہ خان شادی کے بعد اپنے شوہر سے کم توجہ ملنے کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہیں۔

ایک بیٹی کی ماں شہرزاد کا شوہر جب ہر وقت اپنے کام میں مصروف رہتا ہے اور انھیں مناسب وقت نہیں دے پاتا تو ماہرہ اپنے خیالوں کی دنیا میں ہی اپنے شوہر سے رومانس کرنے لگتی ہیں۔

ہاؤس وائف کے ڈپریشن پر بات نہیں کی جاتی لیکن اس پر خوبصورت فلم بنائی گئی‘

ماہرینِ نفسیات کے مطابق ڈپریشن کسی کو بھی ہوسکتا ہے۔ اگر آپ کا روزمرہ کے کاموں میں دل نہیں لگتا، آپ بہت اداس، مایوس یا بیزار رہتے ہیں یا گھبراھٹ، بے چینی اور بے بسی کا شکار رہتے ہیں تو شاید آپ بھی ڈپریشن کا شکار ہیں۔

اگرچہ یہ بات کئی لوگ تسلیم نہیں کرتے، لیکن ڈپریشن بھی ایک باقاعدہ بیماری ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں تقریباً 25 فیصد افراد ڈپریشن، ذہنی دباؤ یا کسی اور دماغی بیماری سے دوچار رہے ہیں۔

فلم ’پرنس چارمنگ‘ میں بھی دراصل اسی مسئلے پر بات کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور بہت سے لوگوں کو شاید ایک ہاؤس وائف کا ڈپریشن کی وجہ سے خیالی دنیا میں کھوئے رہنا پسند نہیں آیا لیکن بہت سے صارفین خصوصاً خواتین ایسی بھی ہیں، جو اس فلم کی کہانی سے 100 فیصد متفق نظر آتی ہیں۔

ٹویٹ

جویریہ نامی صارف نے لکھا: ’شادی کے بعد ڈپریشن ایک حقیقت ہے اور اس بارے میں بات کرنا صحیح ہے۔ اگرچہ جب خواتین اس بارے میں لوگوں سے بات کرتی ہیں تو انھیں منفی رویوں اور تنقید کا سامنا کرتا پڑتا ہے۔‘

ریحانہ نے ہدایت کار شہریار منور کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: ’کیا زبردست پیغام ہے۔ بہت سے لوگ ایسے موضوعات سے دور بھاگتے ہیں لیکن آپ نے نہ صرف اس پر روشی ڈالنے کی کوشش کی بلکہ اس فلم کو ایک بہترین انداز میں انجام تک پہنچایا۔‘

ٹویٹ

ایک اور صارف نے لکھا: ’کبھی بھی کسی نے کسی ہاؤس وائف کے شادی کے بعد ڈپریشن پر بات نہیں کی لیکن اس پر بہت خوبصورت انداز میں فلم بنائی گئی ہے۔‘

عینی نامی صارف نے لکھا: ’میں کیا بولوں الفاظ ختم ہو گئے ہیں۔ اتنی اچھی سٹوری لگی دیکھ کر، ہمارے ڈائریکٹرز کو ایسی کہانی بنانی چاہیے جو حقیقت سے تعلق رکھتی ہوں۔ بہت اچھا کام نظر آ رہا ہے، کون کہتا ہے ہماری فلمیں اچھی نہیں ہوتی؟‘

ٹویٹ

دوسری جانب سارہ نامی صارف نے اس فلم کے موضوع پر تنقید کرتے ہوئے لکھا: ’جو خواتین خیالی دنیا میں رہتی ہیں وہ ہمیشہ شادی شدہ زندگی میں مسائل پیدا کرتی ہیں۔ اپنے گھر اور بچوں پر توجہ دیں۔ شوہر اپنی بیوی اور بچوں کے لیے سخت محنت کرتا ہے۔ اس بارے میں شکایات کرنے کی بجائے کہ مجھے پیار نہیں ملا‘ اپنے شوہر کے مسائل سمجھنے کی کوشش کریں۔‘

ٹویٹ

جس کے جواب میں مارخ اقبال نے لکھا: ’اور خواتین بھی اتنی ہی سخت محنت کرتی ہیں۔ یہ ایک فضول عذر ہے کہ مرد بہت محنت کرتا ہے۔ ایک دیسی گھر میں اگر خواتین پورے گھر اور خاندان کا خیال رکھ سکتی ہیں تو مرد کو بھی بدلے میں اس کا خیال رکھنا چاہیے۔‘

رابعہ علی نے کچھ ملے جلے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ’شادی کے ڈپریشن عام ہے اور یہ بھی غلط نہیں کہ خواتین کو کسی پرنس چارمنگ کے خواب دیکھنے کی بجائے اپنے بچوں اور گھر پر توجہ دینی چاہیے۔

انھوں نے مزید لکھا کہ ’یہ ڈپریشن اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے، جب خواتین کی کسی بھی چیز کو سراہا نہیں جاتا۔‘

ایک اور صارف نے اس فلم کے موضوع پر اعتراض کرتے ہوئے لکھا: ’گمراہ کن مواد۔ اگر شوہر مصروف ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنےخوابوں میں کوئی الگ مرد بنا لیں۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *