مایوسی ایک نعمت ہے!

کچھ دنوں سے میں رات اپنے بیڈ روم میں کم اور واش روم میں زیادہ گزارتا ہوں، میں اس کی تفصیل میں نہیں جائوں گا کیونکہ اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھانا کسے اچھا لگتا ہے تاہم اس حوالے سے کبھی کبھار میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش میرے گھر کے قریب کوئی پانی کو ترسا ہوا کھیت ہوتا مگر ہر خواہش کہاں پوری ہوتی ہے۔ میں آج اپنا یہ دکھڑا رونے پر مجبور ہوگیا ہوں کیونکہ بڑے سے بڑے یورالوجسٹ کے در پر حاضری دے چکا ہوں، وہ اپنی بہترین صلاحیتیں بروئے کار لا کر میری ’’آب رسانی‘‘ کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کوشش میں کوئی مسیحا کامیاب بھی ہو جاتا ہے اور اس کے کامیاب علاج کے باوجود میں کسی اور طبیب سے بھی رہنمائی کا طلب گار ہوتا ہوں، مگر میری خوش قسمتی کہ میرا جو مسئلہ حل ہوگیا تھا، وہ ایک بار پھر خراب ہو جاتا ہے، میں نے اس ناکامی کو اپنی خوش قسمتی اس لئے قرار دیا ہے کہ پوری رات سکون سے سونا اور واش روم میں نہ جانا بہت خوشی کا باعث بنتا ہے جبکہ دنیاکی ہر خوشی عارضی ہے اور میرا دوست غمگین سلیمانی کہتا ہے کہ کبھی خوشیوں کے پیچھے نہ بھاگو، یہ دائمی نہیں ہوتیں، صرف دکھ دائمی ہوتے ہیں۔ غمگین سلیمانی یہ بھی کہتا ہے کہ بعض خوش و خرم زندگی گزارنے والے انسان دوسروں میں بھی خوشیاں بانٹنے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور جو لوگ دکھوںسے پیار کرتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس دکھی ہونے کا کوئی جواز بھی نہیں ہوتا، مگر وہ اپنی خدا داد مایوس سوچوں کے ذریعے دوسروں میںبھی مایوسی کے جراثیم پھیلانے میں لگے رہتے ہیں اور یہی ایک مستحسن فعل ہے کہ ایک دن ہم سب نے مر جانا ہے اور جب مرنا ہی ہے تو ان عارضی خوشیوں کی بجائے اس دائمی دکھ میں زندہ رہنا چاہیے۔

غمگین سلیمانی خاصا کھاتا پیتا انسان ہے، صاحب اولاد ہے اور ساری اولاد ہی کامیاب زندگی بسر کر رہی ہے مگر وہ انہیں بھی سمجھاتا رہتا ہے کہ بچو زندگی میں ملنے والی خوشیوں کی بجائے چھوٹی موٹی تکلیفوں کو حرزِ جاں بنا کر بڑ بڑاتے رہا کرو، مگر ہر معاملے میں اس کی فرما نبردار اولاد اس معاملے میں اس کی نافرمان واقع ہوئی ہے۔ اس کے بیٹے کہتے ہیں کہ خوشیوں میں اتنامگن نہیں ہونا چاہیے کہ انسان دکھوں میں ساری زندگی گزارنے والے لاکھوں لوگوں کی داد رسی نہ کرے، مگر یہ کہاں لکھا ہے کہ غم کی گھڑیوں میں غم زدہ ہونا چاہیےلیکن خوشی کے لمحا ت بھی روتے پیٹتے گزارے جائیں۔ بس غمگین کی زندگی کا یہ واحد دکھ ہے کہ اس کی اولاد اسے کبھی دکھی اور مایوس کیوں نظر نہیں آتی؟

جیسا کہ میں نے آپ کو کالم کے آغاز میں بتایا تھا کہ جب کبھی رات کو میری نیند پوری نہ ہو، اس رات کی صبح مجھ پہ بہت بھاری ہوتی ہے، طبیعت میں درجہ سوم کی بیزاری غلبہ پالیتی ہے اور ہر آنے جانے اور ملنے ملانے والے کو اپنی اس بیزاری میں شریک کرتا ہوں۔ بیزاری، مایوسی اور جماہی متعدی بیماریاں ہیں، محفل میں کوئی ایک شخص پہاڑ سا منہ کھول کر جماہی لیتا ہے اس کے بعد اس کی یہ جماہی محفل کے شرکاء میں صدقہ جاریہ کی طرح پھیل جاتی ہے۔ چنانچہ میری کوشش ہوتی ہے کہ مثبت سوچ کے دوستوں کا انتخاب کروں اور زیادہ وقت انہی کی صحبت میں گزاروں، مگر آج میرا ایجنڈا قدرے مختلف ہے جیسا کہ میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ رات مجھے صحیح نیند نہیں آئی، صبح شیو کیلئے آئینے کے سامنے کھڑا ہوا تو اپنی شکل دیکھ کر اپنا ہی موڈ آف ہوگیا۔ اس کے بعد ضروری ہو جاتا ہے کہ میں کسی کو خوش نہ دیکھوں اور اپنے موڈ سے زیادہ دوسروں کا موڈ آف کروں۔

اب مجھے دیکھیں، رات کو صحیح نیند نہیں آئی اور میں ایسی ہزاروں راتیں بھول گیا ہوں جن میں مجھے میٹھی نیند میسر آئی تھی، اس وقت جو دوست میرا کالم پڑھ رہے ہیں میں ا ن سے بھی امید رکھتا ہوں کہ وہ بھی اپنی زندگی کی کسی بدمزگی کو یاد کرکے میرے ساتھ اظہار یک جہتی کیلئے اپنی طبیعت پر بیزاری مسلط کریں، ہر آنے جانے والے کو بتائیں کہ یہ زندگی دکھوں کا گھر ہے اور پاکستان کے بارے میں بھی مایوسی پھیلائیں کہ یہ ان کا حق ہے کیونکہ اس ملک میں جو کچھ انہیں ملا ہے اس میں پاکستان کا کوئی کمال نہیں یہ انہوں نے اپنی محنت سے حاصل کیا ہے، لیکن جو نہیں ملا اس کا رونا روئیں۔ انسان کی ہر خواہش پوری ہونی چاہئے۔ یہ سوچ آپ کو مسلسل دکھی رکھے گی کیونکہ آپ کی متعدد خواہشوں کی تکمیل کے بعد کوئی ایک ناکام خواہش آپ کی پہلی سب خوشیوں کو بھی غم و اندوہ کی کیفیت میں بدل دے گی۔ مجھے رات کو صحیح نیند نہیں آئی چنانچہ میں یہ کالم سخت بیزاری کے عالم میں لکھ رہا ہوں۔ گزشتہ رات سے پہلے مجھے Funny قسم کی فلمیں اچھی لگتی تھیں جو اگر کبھی میں اداس بھی ہوتا تھا تو وہ میری اداسی کو خوشگوارلمحوں میں تبدیل کر دیتی تھیں لیکن مجھے اب سب کچھ فضول سا لگ رہا ہے۔ میں آج رات کو کوئی دردناک کتاب پڑھوں گا یا آنسوئوں کا سیلاب لانے والی فلم دیکھوں گا، اس کے بعد ہر آنے جانے والے کو کتاب کے مندرجات سنا کر اسے بھی خون کے آنسو رلائوں گا اور فلم کے دردناک مناظر کو اپنے زور بیان سے مزید دردناک بنا کر انہیں آنسوئوں میں نہلا دوں گا۔ رونے دھونے کا بھی اپنا ہی مزا ہے، یہ کیسے ممکن ہےکہ میں خوش نہیں ہوں اور دوسروں کو خوش ہوتا دیکھوں۔

امید ہے میرے سمجھدار قارئین کو میری وہ بین السطور بات سمجھ آگئی ہوگی اور اگر سمجھ نہیں آئی تو میں کھل کر بات کرتا ہوں اور وہ یہ کہ اگر وہ میرے اس نوع کے کالموں کی تخریبی کارروائی سے بچنا چاہتے ہیں تو صدق دل سے دعا کریں کہ آج رات مجھے بہت اعلیٰ قسم کی نیند آئے بلکہ خواب میں حسب توفیق کچھ خوش نما مناظر کے لئے بھی دعا کریں، مثلاً جنت کی سیر کا موقع ملے اور مجھے وہ سب کچھ نظر آئے جس کی تفصیل میں نے ایک کتاب ’’جنت کی حوریں‘‘ میں پڑھی تھی۔ اس سے قطع نظر میرے آج کے کالم سے آپ کو یہ بات سمجھ آگئی ہوگی کہ مثبت سوچ والے مثبت اور منفی سوچ والے منفی رویوں کا پرچار کرتے ہیں۔ ایک دعا یہ بھی کریں کہ ہم کالم نگاروں کی نیند کبھی پوری نہ ہو ورنہ وہ اپنی ذاتی محرومیوں کو آپ کی محرومیاں قرار دے کر پورے معاشرے کو مایوسی اور ناامیدی کے اندھے غاروں کی طرف دھکیلتے رہیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: