متعصبانہ شور سے کرونا کو نظرانداز کرنیکی کوشش

فیض احمد فیض کے بیان کردہ ’’درد‘‘ کی طرح کرونا وائرس بھی ’’دبے پاؤں‘‘ آتا ہے۔ اس کے ہاتھوں میں اگرچہ ’’سرخ چراغ‘‘ نہیں ہوتا۔وہ ہمارے گھروں کی دہلیزوں،کمروں کا دروازہ کھولنے والے ہینڈلوں،کھانے کی میز اور بستروں میں گھات لگائے چھپا بیٹھا ہوتا ہے۔ ہمارے جسم میں کسی نہ کسی طرح د اخل ہوجائے اور فطرت کا فراہم کردہ مدافعانہ نظام اس کا مقابلہ نہ کرپائے تو ہمارے سانس کو رواں رکھنے والے اعضاء کو اپنی جکڑ میں لے لیتا ہے۔ اس کا علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوا۔ اس کی زد میں آئے شخص کو مسلسل چودہ دنوں تک اپنے مدافعتی نظام کے سہارے ہی اس کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔خوش قسمتی فقط اتنی ہے کہ مریضوں کی بے پناہ اکثریت اسے بالآخر ازخود شکست دے دیتی ہے۔صحت یاب ہونے تک مگر اس کی زد میں آیا شخص کرونا جراثیم کو بے پناہ لوگوں تک منتقل کردیتا ہے۔ مریضوں کی تعداد اس کی وجہ سے ایک سے دو نہیں ہوتی۔دو سے چار،چار سے آٹھ اور آٹھ سے سولہ کو چھوتی ہوئی برق رفتاری سے بلندی کی جانب بڑھنا شروع ہوجاتی ہے۔ اس کے پھیلاؤ کا واحد طریقہ شہروں کا لاک ڈاؤن اور سماجی دوری ہے۔گھروں میں دب کر اپنائی تنہائی۔یہ تنہائی مگر دیگر حوالوں سے جان لیوا بھی ہے۔ معاملہ کسی فرد کے محض اداس ہونے تک محدود نہیں ہے۔زندہ رہنے کے لئے انسانوں کو رزق کی ضرورت ہے۔رزق کمانا ہوتا ہے جس کے لئے کوئی نہ کوئی دھندا ضروری ہے۔لاک ڈاؤن بے پناہ دھندے بند کردیتے ہیں۔رزق کمانے کے امکان سے محروم ہوئے افراد اس کی بدولت اگر کرونا سے بچ جائیں تو فاقوں سے مرنا شروع ہوجائیں گے۔انسانوں کی اکثریت لہذا ’’یہ جینا بھی کوئی جینا ہے؟‘‘والے رویے کے ساتھ زندگی ’’معمول‘‘ کے مطابق رواں کرنے کو بے چین ہوجاتی ہے۔پاکستانی عوام کی اکثریت بھی ان دنوںایسی ہی بے چینی کا شکار ہے۔ اس بے چینی میں نرمی لانے کے لئے دُنیا بھر کی حکومتوں کی طرح ہمارے حکمرانوں کو بھی چند اقدامات لینا ضروری تھے۔ ’’بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام‘‘ کو ’’احساس‘‘ کا نام دے کر Cash Transferکا سلسلہ شروع ہوا۔ ہمارے لئے ضروری تھا کہ اس پروگرام کےMethodیعنی طریقہ کار پر نگاہ رکھتے۔ یہ جاننے کی کوشش کرتے کہ نقد رقوم واقعتاََ مستحق افراد تک سرعت سے پہنچ رہی ہیں یا نہیں۔سوال یہ بھی اہم ہے کہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ رقم ایک عام دیہاڑی دار گھرانے کو مزید کتنے دنوں تک اپنے گھروں میں محدود رہنے کو مائل کرے گی۔ اس سوال کو مگر بھلادیا گیا ہے۔سوشل میڈیا میں ’’پہلی دفعہ‘‘ والے ٹرینڈ کا چرچا ہے۔ عمران خان صاحب کی اس حوالے سے دادوتحسین ایک انتہا کو پہنچی تو ’’جوابی وار‘‘ شروع ہوگئے۔ہفتے کی صبح سے اندھی نفرت وعقیدت گالیوں کی بوجھاڑ کے ساتھ سوشل میڈیا پر حاوی ہوچکی ہے۔نام نہاد ’’ریگولر‘‘ میڈیا بھی ’’خبر‘‘ کو ترجیح دینے کے بجائے Ratingsکے بارے میں پریشان ہے۔آٹے اور چینی کے ’’بحران‘‘ کے بارے میں تیار ہوئی رپورٹ منظرِ عام پر آئی تو جہانگیر خان ترین کے ون آن ون انٹرویو شروع ہوگئے۔ ’’اندر‘‘ کی چند کہانیاں بتاچکے تو ہفتے کے دن ’’خبر‘‘ یہ آئی کہ چودھری پرویز الٰہی کی لاہور کے خواجہ برادران سے ملاقات ہوگئی۔’’نئی گیم‘‘ کے لگ جانے اور اس کی کامیابی یا ناکامی کے امکانات کا جائزہ شروع ہوگیا۔ پاکستان کے بقول عمران خان صاحب برطانیہ سے بھی زیادہ ’’آزاد‘‘ اور ’’بے باک‘‘ میڈیا کے سیلیبرٹی اینکرز کی اکثریت کا اگرچہ اصرار ہے کہ کپتان ڈٹ گیا ہے۔وہ اپنی حکومت کے فارغ ہونے یا اسے برقرار رہنے کی فکر سے آزاد ہوچکا ہے۔وزیر اعظم صاحب یقینا اپنی حکومت کے مستقبل کی فکر سے آزاد ہوچکے ہوں گے۔22کروڑ سے زائد آبادی والے ملک نے جو عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت بھی ہے کرونا کی وجہ سے نازل ہوئے عذاب کا مقابلہ مگر کیسے کرنا ہے۔اس سوال پر کماحقہ توجہ نہیں دی جارہی۔چسکہ فروشی مزید کتنے دن ہمارے کام آئے گی؟ سوچنا یہ بھی ضروری ہے کہ وباء کے اس موسم میں جب سعودی عرب کئی برسوں کی ضد کے بعد یمن میں جاری خانہ جنگی میں اپنا کردار کم کرنا چاہ رہا ہے تو بھارت نے کشمیر پر قائم لائن آف کنٹرول کو گرم کرنا کیوں شروع کردیا ہے۔نہتی شہری آبادیاں اس کی جانب سے براہِ راست ہوئی گولہ باری کی زد میں ہیں۔لائن آف کنٹرول پر وباء کے دنوں میں بڑھائی کشیدگی پر غور کرتے ہوئے یاد یہ بھی رکھنا ہوگا کہ بھارت کی ہندوانتہا پسند حکومت نے اپنے متعصب میڈیا کی غلامانہ مدد سے کرونا کو ’’مسلمانوں‘‘ کا لایا ہوا وائرس بنادیا ہے۔بھارتی میڈیا پر نگاہ رکھیں تو محسوس یوں ہوتا ہے کہ جیسے کرونا کا وائرس چین کے شہرووہان سے نہیں چلایا تھا۔یہ غالباََ ’’تبلیغی جماعت‘‘ والوں کی بغل میں چھپا بیٹھا تھا اور بالآخر بھارت میں نمودار ہوگیا۔امریکی صدر ٹرمپ اور اس کے حمایتی میڈیا نے کرونا کے حوالے سے چین کے بارے میں ایسا ہی متعصبانہ رویہ اختیار کیا تھا۔ ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے مگر ایک تحقیقی رپورٹ کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ امریکہ میں کرونا وائرس چین سے نہیں یورپ کے ذر یعے آیا تھا۔ہفتے کی رات سونے سے قبل ٹرمپ نے ایک تلخ ٹویٹ لکھ کر ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کی مذکورہ تحقیق کو جھٹلایا۔ طیش میں اس حد تک چلا گیا کہ اپنے حامیوں کو یاد دلایا کہ ’’جھوٹی خبریں‘‘ دینے کی وجہ سے چین نے اس اخبار کے نمائندوں کو اپنے ملک سے ’’کتوں کی طرح‘‘ اٹھاکر باہر پھینک دیا ہے۔ٹرمپ کی مذکورہ ٹویٹ پڑھی تو ہمارے سوشل میڈیا پر گزشتہ دو دنوں سے اندھی نفرت وعقیدت میں جو واہی تباہی بکی جاری تھی،اس کے بارے میں احساس جرم وشرمساری کم ہوگیا۔اس حقیقت کا ایک بار پھر احساس ہوا کہ کرونا نے دنیا بھر کی حکمران اشرافیہ کے اذہان کو مائوف بناڈالا ہے۔وہ خلقِ خدا کی پریشانیوں کے تدارک کے ذرائع ڈھونڈنے کے بجائے تعصبات کی آگ کو بھڑکاتے ہوئے لوگوں کی توجہ فروعی معاملات کی جانب موڑنا چاہ رہے ہیں۔بھارت کی مودی سرکار کا21دنوں سے کڑے انداز میں لاگو ہوئے لاک ڈائو ن نے Back Fireکرنا شروع کیا تو جنتاکا غصہ تبلیغی اور بعدازاں مسلمانوں کے خلاف موڑنے کی کوشش ہوئی۔ لائن آف کنٹرول پر بمباری کا آغاز بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ٹرمپ سارا دوش چین کے سرتھونپناچاہ رہا ہے اور ہمارے جی کو یہ بتاکر خوش رکھنے کی کوشش ہورہی ہے کہ آٹے اور چینی کا بحران پیدا کرنے والے مافیا کا سراغ لگالیا گیا ہے۔جہانگیر ترین چینی سے متعلق مافیا کے مبینہ ڈان تھے۔ عمران خان صاحب کے قریب ترین مصاحبین میں شمار ہوتے تھے۔وزیر اعظم نے مگر اپنی جماعت سے احتساب کا آغاز کرتے ہوئے ’’تاریخ ‘‘ بناڈالی۔کرونا وائرس کے پھیلائے عذاب سے متعلق بے تحاشہ سوالات کو دُنیا بھر میں فروعی معاملات پر متعصبانہ شورشرابہ مچاتے ہوئے نظراندازکرنے کی کوشش ہورہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *