محبت کی سائنس

سنا تو یہی تھا کہ محبت منطق سے بالا تر کوئی چیز ہے۔ مگر کیا کیا جائے اوسا کا شہر کی واسیدا یونیورسٹی کا جس نے محبت کا مطالعہ کے عنوان سے پیار پڑھانا اور محبت کرنے کے طریقے سکھانا شروع کیا ہوا ہے۔ واسیدا یونیورسٹی کے متعلقہ شعبے میں رومانیت کا منطقی اورسائنسی انداز میں تجزیہ کیا جاتا ہے اور اس تجزیے کو باقاعدہ تعلیمی مضامین کے طور پر طلباء و طالبات کو پڑھایا جاتا ہے۔ اس شعبہئ تعلیم کی دن بدن بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں نا صرف جنس مخالف سے بات چیت کے گُر سکھائے جاتے ہیں، بلکہ تبادلہئ خیال کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔
اس باب میں اردو شاعروں کی وساطت سے جو ناقص معلومات ہم تک پہنچی تھیں ان کا خلاصہ تو کچھ یوں تھا کہ

مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا


مگر یہاں کا تو باوا آدم ہی نرالا ٹھہرا۔ محبت میں مبتلا ہونے کی ترکیبیں سیکھنے کے بعد طلباء و طالبات دھڑا دھڑ فارغ التحصیل بھی ہو رہے ہیں۔ تازہ خبر یہ پہنچی ہے کہ ”محبت کی سائنس“ نامی اس شعبے میں صنفِ نازک کی تعداد بڑھتے بڑھتے اسّی فیصد ہو گئی ہے، جبکہ لڑکے بیس فیصد ہی داخلے کے لیے اہل قرار پا سکے ہیں۔ اسی خبر کے سبب سے یہ دوستوں کی محفلوں میں گفتگو کا محبوب موضوع بنا ہوا ہے۔ آئیے ہم آپ کو عشق کا ہنر سکھانے والے اس شعبے کی تھوڑی سی سیر کرواتے ہیں اور محبت کا درس دینے والے ایک پریم گرو سے آپ کی ملاقات کرواتے ہیں۔ ”ساتھی کے انتخاب کی تھیوری“ کے موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے واسیدا یونیورسٹی کے پروفیسر تھومونوری میل ملاپ کے مجوزہ طور طریقوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب محبوب، بلکہ مجوزہ محبوب کو دعوت طعام دی جائے تو انداز کلی طور پر مثبت ہونا چاہیے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں کہ مثلاً فلاں فرانسیسی ریستوران میں کھانا کھائیں یا پھر فلاں اطالوی ریستوران کھانا کھانے کے لیے بہتر رہے گا؟ یعنی دعوت دیتے ہوئے انتخاب کے لیے ہاں یا پھر ناں کا سوال نہیں کرنا چاہیے بلکہ دونوں صورتوں میں ”ہاں“ میں سے کسی ایک کی چوائس رکھی جائے۔ پروفیسر صاحب فرماتے ہیں کہ اگر اس انداز میں کھانے کی دعوت دی جائے تو انسان کے لیے انکار کرنا مشکل تر ہو جاتا ہے۔ اس تفصیل میں جانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کو بھی کورس کا اندازہ ہو سکے اور پتا چل سکے کہ محبت کے نام پر کیا خرافات پڑھائی جا رہی ہے۔ ہمارے ممدوح پروفیسر، جنہیں بے ساختہ ناہنجار کہنے کو جی چاہتا ہے، سال 2008 سے یونیورسٹی میں یہی الٹی پٹّی پڑھا رہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کے طلباء و طالبات میں بڑی تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سال داخلے کے خواہشمند ایک ہزار طلباء و طالبات نے درخواستیں جمع کروائیں، جبکہ داخلہ فقط ڈھائی سو لوگوں کو مل سکا، جن میں سے اکثریت، جیسا کہ پہلے عرض کیا، خواتین کی تھی۔ لڑکوں کے برعکس لڑکیوں کے لیے زیادہ معاشقوں میں ناکام ہونا یہاں بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ شاید اسی سبب سے وہ معاملات عشق کے متعلق کامل آگاہی حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں، تاکہ ناکامی کے امکانات کم سے کم باقی رہ جائیں۔
مذکورہ پروفیسر صاحب اپنے تئیں تو قوم کی خدمت کر رہے ہیں، فرماتے ہیں ملکی آبادی مسلسل گھٹتی جا رہی ہے۔ لوگوں میں تمام عمر کنوارے رہنے کا رجحان فروغ پاتا جا رہا ہے۔ ایسے عالم میں لوگوں کی پسندیدگی کے معیار کا تجزیہ کرتے ہوئے، بیالوجی، نفسیات اور معاشیات کے پہلوؤں کو ساتھ ملا کر موجودہ نوجوان نسل کو محبت کی جانب مائل کرنا ایک نیک کام ہے۔ میں طلباء و طالبات کو محبت میں کامیابی کے کلیدی طریقے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں، اس سے بہتر کام بھلا کیا ہو سکتا ہے؟
بات اگر یہاں تک ہی رہتی تو پھر شاید یہ کالم لکھنے کی نوبت نہ آتی، ستم ظریقی یہ ہے کہ اس پروگرام کو حکومت کی آشیرباد اور سرپرستی حاصل ہو گئی ہے اوساکا شہر کی مقامی حکومت سرکاری خرچ پر ہمارے ممدوح پروفیسر ناہنجار سمیت ”محبت کی سائنس“ کے شعبے سے وابستہ دیگر تمام پروفیسروں کے کئی لیکچرز کا اہتمام کر چکی ہے۔ مقامی حکومت ان خطبات میں شرکت کرنے کے لیے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مرد و زن کو دعوت دیتی ہے، تشہیری مہم کا خصوصی اہتمام ہوتا ہے جس میں نوجوان لوگ توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ حکومت کے لیے مسلسل گرتی ہوئی آبادی کا رجحان ایک مستقل دردِ سر بنا ہوا ہے۔ ضلعی حکومت کے ترجمان کا موقف یہ ہے کہ نوجوان نسل میں اجنبی اورنئے لوگوں کے ساتھ گپ شپ اور تبادلہئ خیال کرنے کی صلاحیت زیادہ مضبوط نہیں ہے۔ اسی لیے یہ ناکافی ہے کہ ان کو باہم میل جول کا موقع فراہم کر دیا جائے اور باقی کام ان پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ خود ہی محبت میں گرفتار ہو جائیں گے اور اس سے آگے کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیں گے۔ حکومت کے ترجمان کا خیال ہے کہ متذکرہ پروگرام سے نوجوانوں کو مکالمہ کرنے کی اہلیت اور صلاحیت کو بہتر بنانے کا موقع ملنے کے علاوہ جنسِ مخالف کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے بھی مدد ملے گی، نیز نوجوان زیادہ پر اعتماد اور پرکشش انداز میں خود کو پیش کر سکیں گے۔
میرے خیال میں محبت کے نام پر جو یہ سب کچھ سکھایا جا رہا ہے خالصتاً دنیاداری ہے، محبت تو ہرگز نہیں ہے۔ درس گاہوں میں دنیاداری ہی سکھائی جا سکتی ہے چاہت تو سکھائی نہیں جا سکتی۔ محبت بھی اگر دیگر علوم کے تعلیمی نصاب اورکتابی اصولوں کے عین مطابق کی جائے تو وہ محبت کہلوانے کی حقدار ہی نہیں ہے۔
تاہم مجھے اصل اعتراض اس شعبے کے نام پر ہے، کہ جس میں محبت کو سائنس کہا گیا ہے، جبکہ اس مضمون پر پوری دنیا میں سب سے مقبول اور شہرہ آفاق کتاب ”آرٹ آف لونگ“ کے جرمن مصنف ایرک فرام سے لے کر محبت کے موضوع پر لکھنے والے تمام جید مصنفین نے محبت کو آرٹ مانا ہے سائنس نہیں۔ ویسے بھی پاکستانی ہونے کے ناتے ہم سائنس سے ذرا بدکتے ہیں، خواہ وہ محبت کے نام پر ہی کیوں نہ ہو۔ سائنس کا نام سن کر ہماری قوم کو ذرا خشکی کا احساس ہوتا ہے۔ ذاتی طور پر مجھے گورنمنٹ کالج لاہور سے بائیو کیمسٹری میں گریجوایشن کرنے کے بعد بھی اس خشکی کے احساس سے نجات نہیں مل سکی اور ابھی تک سائنس کے ساتھ بے تکلفی پیدا نہیں ہو سکی ہے۔
دوسرا اعتراض نما خدشہ ابن انشاء کے اس زریں قول سے پیدا ہوتا ہے کہ جس تحریر سے پوری ایک نسل کو بیزار اور متنفر کرنا مقصود ہو اسے درسی نصاب میں شامل کر دیا جائے۔ یوں اس تیر بہدف نسخے کی روشنی میں یہ اندیشہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ محبت کی سائنس کا مطالعہ کرنے کے بعد طلباء و طالبات کہیں جذبہئ عشق سے ہی دست بردار نہ ہو جائیں۔ ان اطلاعات سے گمان تو یہی جنم لیتا ہے کہ اب محبت بھی کمرشل ہو گئی ہے، بلکہ اس قدر کمرشل ہو گئی ہے، مگر دل یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ اس طرح کے یونیورسٹی کورسز سے جذبہئ محبت کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ جاپانی طبعاً شرمیلے اور کم آمیز ہیں، پھر بھی محبت کو درسی مضمون کے طور پر پڑھنا، پڑھانا ایک غیر فطری سا عمل لگتا ہے۔ یہ بات بہر حال باعث اطمینان ہے کہ چلیں محبت کی سائنس ہی پڑھائی جا رہی ہے نفرت کا مطالعہ تو نہیں کروایا جا رہا۔