محترم چنگیز خان و ہلاکو خان وغیرہ

آج کل ٹی وی چینلز سے منسلک کچھ اینکرز کسی سیاسی جماعت کے خود ساختہ ترجمان بنے بیٹھے نظر آتے ہیں جبکہ گزشتہ زمانے میں پبلک ریلیشننگ کا فن ترقی کا ذریعہ تھا اور یہ فن بہت پرانا تھا۔ اگر یہ فن پرانے زمانے میں بھی اتنا ہی مقبول ہوتا جتنا ان دنوں ہے تو لوگ بہت سی قباحتوں سے بچ جاتے مثلاً سکندر اور پورس میں لڑائی کی نوبت ہی نہ آتی بلکہ اس کی جگہ یوں ہوتا کہ ان دونوں سورمائوں کے پبلک ریلیشن آفیسرز اپنی اپنی کارروائیوں کا آغاز کرتے، پھر ان میں سے جو بول بچن کا زیادہ ماہر ہوتا، وہ اپنے باس کو وکٹری اسٹینڈ پر کھڑا کر دیتا اور اس کے صلے میں پبلک ریلیشن آفیسر کو بھی دوچار انکریمنٹس اکٹھی مل جاتیں اور خلقِ خدا بھی چین کی بانسری بجاتی۔ اس سلسلے میں ایسٹ انڈیا کمپنی والے خاصے زیرک نکلے، انہوں نے تاجروں کے روپ میں اپنے پبلک ریلیشن آفیسرز انڈیا بھیجے، اس کے نتیجہ میں کمپنی ہذا نے رفتہ رفتہ پورے برصغیر کو اپنا سب آفس بنا لیا۔

اس شعبے کی افادیت صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ سچ پوچھیں تو اس کے گن جلیبی کے چکروں سے بھی زیادہ ہیں۔ یہ اس فن سے نابلد ہونے یا اس کی افادیت سے کماحقہ آگاہ نہ ہونے ہی کا نتیجہ ہے کہ آج تاریخ کی بڑی بڑی شخصیتیں خواہ مخواہ منہ پر کالک ملے ہمارے سامنے پیش ہوتی ہیں۔ مثلاً اعلیٰ حضرت چنگیز خان اور اعلیٰ حضرت ہلاکو خان کچھ ایسے برے بزرگ نہ تھے بلکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ بدقسمتی سے انہیں اچھے پبلک ریلیشنز آفیسر نہ مل سکے۔ اگر انہوں نے اس شعبے میں بہتر لوگ بھرتی کئے ہوتے جیسے آج کل ٹی وی پر نظر آتے ہیں تو آج تاریخ کے اوراق میں ان کا ذکر سنہری حروف میں درج ہوتا۔

گزشتہ دور کے ’’پبلک ریلیشنز آفیسر‘‘ یہ بتاتے ہیں کہ اپنی اعلیٰ کارکردگی، لگن اور فرض شناسی کی بدولت وہ دن کو امور سلطنت انجام دیتے تھے اور رات کو ٹوپیاں سی کر بازار میں فروخت کرکے اپنی روزی کماتے تھے۔ کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے ساری عمر اپنی رعایا کے لئے تیار شدہ فلاح و بہبود کے منصوبوں پر عملدرآمد میں صرف کر دی اور ظاہر ہے یہ سب کام بادشاہوں کے کرنے کے تو نہیں ہیں، ان بیچاروں کو اتنی مشقت محض پبلک ریلیشنز آفیسروں کی عدم موجودگی یا اُن کی نااہلی کی وجہ سے اٹھانا پڑی۔ اگر اُنہوں نے محنتی، فرض شناس اور اپنے کام کے ماہر تعلقاتِ عامہ کے افسروں کی خدمات حاصل کی ہوتیں تو یہ بادشاہ اپنی زندگی بادشاہوں کی طرح گزار سکتے تھے اور جو نیک نامی انہیں عیش و عشرت کی قربانی دے کر اور رعایا کی فلاح وبہود کے لئے دن رات محنت کرکے نتیجے میں ملی اس کے بغیر بھی حاصل ہو سکتی تھی۔

ماضی میں کچھ اسی طرح کی غلطیاں ہمارے بعض ادیبوں، شاعروں سے بھی سردزد ہوئیں جن کا خمیازہ وہ آج تک بھگت رہے ہیں۔ مثلاً اپنے میر درد تصوف میں پڑے رہے، اللہ سے محبت کی، ان کے بندوں سے محبت کی مگر ان اللہ کے بندوں سے محبت نہیں کی جو ڈھول گلے میں ڈال کر گلی گلی، کوچے کوچے ان کی عظمت کی منادی کرتے یا ان لوگوں کے آستانے پر حاضری نہیں دی جو بڑے ادب پرور تھے اور جو ادیب کو اپنی چوکھٹ پر دیکھ کر ازراہِ لطف و کرم اپنے پائوں ان کی طرف بڑھا دیتے تھے تاکہ وہ قدم بوسی کی سعادت حاصل کر سکیں۔ اسی طرح غالب کے مقابلے میں ذوق کی پبلک ریلیشنگ کا سیل (CELL)بہت مضبوط تھا، چنانچہ وہ اپنے عہد کے ملک الشعراء کہلائے۔ یہ تو بعد میں ذوق کے پبلک ریلیشنز آفیسر ڈھیلے نکلے ورنہ آج بھی ذوق کا رتبہ غالب سے بلند ہوتا لیکن جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا ماضی میں اس فن کی افادیت کا صحیح طور پر اندازہ نہ کیا جا سکا جس کے نتیجے میں آج تاریخ کے صفحات میں بہت سے سرکار بدلے بدلے سے نظر آتے ہیں تاہم آج کی صورتحال ماضی سے قطعی طور پر مختلف ہے، اب حکومتوں کو تو چھوڑیے، کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جہاں ’’پبلک ریلیشن افسر‘‘ اپنی پوری افادیت کے ساتھ موجود نہ ہوں بلکہ شعبوں کو بھی چھوڑیے، کوئی اہم شخصیت ایسی نہیں جس کے ایک یا ایک سے زیادہ ’’پبلک ریلیشن افسر‘‘ ٹیلی وژن پر اُن کے قد و قامت کی لمبائی چوڑائی نہ بتاتے ہوں۔ خیراب تو یہ علم باقاعدہ سائنسی بنیادوں پر استوار ہے۔ یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے، اس میں ایم اے کیا جاتا ہے، اس پر پی ایچ ڈی کی ڈگری ملتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اب پوری دنیا کی سیاست، معاشیات، معاشرت، ادب اور ثقافت اس محور کے گرد گھومتے ہیں۔ خصوصاً سپر پاورز کا تو سارا کاروبار ہی اِن پبلک ریلیشن آفیسرز کے دم قدم سے ہے۔ اِن ماہرین نے اپنے فرائض منصبی کی بجا آوری کے دوران دنیا کی ڈکشنریوں میں بہت خوبصورت لفظ بھی GO IN کئے ہیں، مثلاً لوٹ مار کا مال مل کر کھانے کو اُنہوں نے ’’دیانت‘‘ کا نام دیا ہے۔ جغرافیائی توسیع کو یہ نظریاتی توسیع کہتے ہیں اور ان کی لغات میں ’’ویٹو‘‘ کا مطلب امن عالم کو برقرار رکھنا ہے۔ ان بڑی طاقتوں کے ان ماہرین نے بہت اعلیٰ درجے کے غازے بھی تیار کئے ہیں جن سے ان کے بوسیدہ چہروں کی جھریاں اور ان منہدم ہونے والی عمارتوں کی دراڑیں نظر نہیں آتیں۔ جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا تھا کہ اگر چنگیز خان اور ہلاکو نے بھی تعلقاتِ عامہ کے ماہرین کی خدمات حاصل کی ہوتیں تو آج ان کے چہرے بھیانک نظر نہ آتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *