محسن بیگ کیس: ڈائریکٹر سائبر کرائم ایف آئی اے کو توہین عدالت کا نوٹس

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) کے تحت صحافی محسن بیگ کے گھر پر چھاپہ مارنے کے معاملے پر ڈائریکٹر سائبر کرائم ایف آئی اے بابر بخت قریشی کو توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

عدالت نے اس ضمن میں اٹارنی جنرل کو 24 فروری کو طلب کر لیا ہے اور اُن سے کہا ہے کہ وہ عدالت میں پیش ہو کر بتائیں کہ کیا وہ محسن بیگ کے خلاف ایف آئی اے کی طرف سے ہونے والی کارروائی کا دفاع کریں گے؟

عدالت کا کہنا ہے کہ افسر کی ڈیوٹی ہے کہ وہ کسی کی بات نہ سُنے کیونکہ وہ اپنے ہر عمل کا خود ذمہ دار ہوتا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو لگتا ہے کہ وزیراعظم کو اس کیس کے حقائق سے آگاہ ہی نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ کسی جمہوری ملک میں کسی ایجنسی یا ریاست کا ایسا کردار قابل برداشت نہیں ہے۔

’ایف آئی اے اہم شخصیات کی ساکھ بحال کرنے کے لیے کام کر رہا ہے‘

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے صحافی محسن بیگ کے گھر پر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے اہلکاروں کے چھاپے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ ادارہ اہم شخصیات کی ساکھ بحال کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

محسن بیگ کی طرف سے اُن کے خلاف مقدمہ کے اخراج پر درخواست کی سماعت کے دوران ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے ڈائریکٹر کو مخِاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے واشگاف الفاظ میں ایف آئی اے سائبر کرائم کو کہا تھا کہ ایس او پیز (قواعد و ضوابط) پر عمل درآمد کیے بغیر کوئی بندہ گرفتار نہیں ہو گا۔

بینچ کے سربراہ نے ایف آئی اے کے اہلکار سے پوچھا کہ اس مقدمے کے مدعی یعنی وفاقی وزیر مراد سعید اسلام اباد میں تھے تو مقدمہ لاہور میں کیوں درج کیا گیا؟ اس پر عدالت کو بتایا گیا کہ چونکہ وفاقی وزیر 15 فروری کو لاہور آئے تھے اس لیے انھوں نے وہاں پر درخواست دی تھی۔

عدالت نے سوال کیا کہ کیا وفاقی وزیر لاہور کے سرکاری دورے پر گئے تھے اور کیا ایف آئی اے نے وفاقی وزیر کی شکایت پر کوئی نوٹس جاری کیا؟ اس سوال پر ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ اس ضمن میں کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ پیکا کے قانون میں موجود ہے کہ ایف آئی اے پہلے انکوائری کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ ایف آئی اے نے کوئی انکوائری نہیں کی کیونکہ شکایت ایک وزیر کی تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کا کام لوگوں کی حفاظت کرنا ہے کسی ایلیٹ کی پرائیویٹ ریپوٹیشن بحال کرنا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایف آئی اے نے ہمیشہ اختیارات کا غلط استعمال کیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ عدالت ایف آئی اے کو کسی شخص کے بنیادی حقوق متاثر نہیں کرنے دے گی۔

عدالت نے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے ڈائریکٹر کو پیکا ایکٹ کا وہ سیکشن پڑھنے کا حکم دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے کسی بھی معاملے پر تادیبی کارروائی کرنے سے پہلے اس کی تفتیش کرے گی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایف آئی اے ڈائریکٹر سے یہ بھی پوچھا کہ جس نجی ٹی وی پرگرام میں محسن بیگ نے درخواست گزار کے خلاف بات کی، اس پروگرام میں کتنے لوگ شامل تھے؟ اس پر ایف آئی اے کے اہلکار نے جواب دیا کہ اس ٹاک شو میں چار لوگ شریک تھے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا باقی لوگوں سے بھی پوچھ گچھ کی گئی، جس پر ڈائریکٹر ایف آئی اے نے جواب دیا کہ چونکہ وفاقی وزیر نے درخواست ہی محسن بیگ کے خلاف دی تھی اس لیے اس گفتگو میں شامل دیگر افراد کو شامل تفتیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

ایک سوال کے جواب میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ ان کے پاس قانون موجود ہے کہ ایف آئی اے کسی کے بھی خلاف کاروائی کر سکتا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا ایف آئی اے کے اہلکار قانون سے بالاتر ہیں۔

عدالت میں ریحام خان کی کتاب کا حوالہ

ریحام خان کی کتاب کا حوالہ

عدالت کے حکم پر ایف آئی اے ڈائریکٹر سائبر ونگ نے اس پروگرام میں محسن بیگ کے الفاظ پڑھ کر سُنائے تو بینچ کے سربراہ نے ایف آئی اے ڈائریکٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو باتیں آپ نے پڑھیں ان میں کیا توہین آمیز ہے؟

ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے بتایا کہ ریحام خان کے کتاب کا ریفرنس توہین آمیز ہے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر ونگ کے اس جواب پر عدالت میں زوردار قہقہ بلند ہوا۔

ایڈشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریحام خان کی اس کتاب میں کیا لکھا ہے، وہ سب جانتے ہیں جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سب کیا جانتے ہیں یہ آپ ہی جانتے ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ یہ عدالت بار بار یہ کہتی رہی ہے کہ آپ محتاط رہیں مگر کیا پیغام دیا جا رہا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی نہیں؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت اختیار کے غلط استعمال کی اجازت نہیں دے گی۔

انھوں نے کہا کہ یہ عام شکایت ہوتی تب بھی گرفتاری نہیں بنتی تھی، یہ پبلک آفس ہولڈر کی شکایت پر کارروائی ہو رہی ہے اس سے عوام کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔

’وفاقی وزیر کی درخواست پر کارروائی دھمکی ہے‘

مراد سعید

انھوں نے کہا کہ وفاقی وزیر کی درخواست پر ایف آئی اے کی کارروائی ایک دھمکی ہے کہ اظہار رائے کی کوئی آزادی نہیں لیکن عدالت یہ برداشت نہیں کرے گی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے پبلک آفس ہولڈرز کے لیے مسلسل اختیارات کا غلط استعمال کر رہی ہے جس پر تشویش ہے۔ انھوں نے کہا کہ افریقہ کے ممالک نے بھی ہتک عزت کے معاملات کو فوجداری قوانین سے نکالا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صحافیوں کے لیے غیر محفوظ ممالک میں پاکستان کا آٹھواں نمبر ہے۔ چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ بتائیں کہ اگر کوئی کتاب کا حوالہ دے تو اس میں فحش بات کیا ہے؟

انھوں نے کہا کہ اگر کتاب میں کوئی بات موجود ہے جس کا کوئی حوالہ دے تو کیا ایف آئی اے اس کے خلاف کارروائی کرے گا۔

بینچ کے سربراہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے یہ بھی استفسار کیا کہ کیا ریحام خان کی اس کتاب میں یہ واحد صفحہ ہے جس پر شکایت کنندہ یعنی مراد سعید کا ذکر ہے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے ریحام خان کی کتاب نہیں پڑھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر کتاب نہیں پڑھی تو پھر مفروضوں پر تو بات نہ کریں۔

انھوں نے کہا کہ کسی کی ساکھ اختیارات کے غلط استعمال سے نہیں بچتی بلکہ پبلک آفس ہولڈرز پر لوگوں کا اعتماد ہی ان کی اصل ساکھ ہے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے اس وقت سارا کام چھوڑ کر عوامی نمائندوں کی عزتیں بچانے میں لگی ہوئی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملزم محسن بیگ نے چھاپے کے وقت جو کیا وہ الگ معاملہ ہے جو مجاز عدالت دیکھے گی۔

عدالت نے ایف آئی اے کے اہلکار سے استفسار کیا کہ کیا ریحام خان کی کتاب کا صفحہ نمبر محسن بیگ نے پروگرام میں بتایا ہے؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ یہ بات پروگرام میں نہیں کی گئی۔

ایف آئی اے ڈائریکٹر کو توہین عدالت کا نوٹس: 'ہم بھی آپ کے بچے ہیں'

بینچ کے سربراہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر رہی ہے جس پر ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ نے کہا کہ 'ہم بھی آپ کے بچے ہیں اور ایف آئی اے کے اہلکاروں کو مارا پیٹا گیا' جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’نہ آپ میرے بچے ہیں اور نہ میں آپ کا باپ ہوں۔‘

عدالت کے پوچھنے پر بتایا گیا کہ اس وقت سائبر کرائم ونگ کے پاس پورے ملک میں 14000 سے زیادہ درخواستیں زیر التوا ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کے خلاف وفاقی وزیر کی شکایت پر یہ کارروائی ہوئی تو وزیراعظم نے اجلاس بلا لیا جس میں اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل کو بھی طلب کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ اس اجلاس کے بعد ایڈووکیٹ جنرل نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت اس ایڈیشنل سیشن جج کے خلاف کارروائی کرنے جا رہی ہے جس نے محسن بیگ کے خلاف ایف آئی اے کے اس چھاپے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کسی جج کو دھمکایا نہیں جا سکتا۔

’تھانے میں تشدد کا گواہ کہاں سے دیں‘

محسن بیگ

سردار لطیف کھوسہ نے محسن بیگ پر تھانے میں مبینہ تشدد کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس انکوائری رپورٹ میں لکھا ہوا ہے کہ تھانے میں تشدد کا چشم دید گواہ نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کا موکل تھانے میں ہونے والے تشدد کا گواہ کہاں سے دے سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ محسن بیگ کو کچھ زخم آئے ہیں۔

سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ جس چھاپے کو ایڈیشنل سیشن جج نے غیر قانونی قرار دیا، اس وقت تک ان کے موکل کے کوئی مزید ایف آئی آر درج نہیں تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی آر درج ہوئی جس پر ملزم کے خلاف کچھ الزامات ہیں۔

ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر ایف آئی اے کی طرف سے یہ غیر قانونی چھاپہ نہ مارا جاتا تو اس کے بعد والا واقعہ ہونا ہی نہیں تھا۔

محسن بیگ کے ریمانڈ میں دو روز کی توسیع

دوسری جانب اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے محسن بیگ کو مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیتے ہوئے پولیس کو 23 فروری کو ملزم کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ چونکہ ملزم کا پولی گرافک ٹیسٹ کروانا ہے اس کے لیے ملزم کی موجودگی ضروری ہے لہذا ملزم کا مزید دو دن کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ ملزم کے وکیل نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے موکل پہلے سے ہی چھ روز سے پولیس کی تحویل میں ہیں اور جس ٹیسٹ کا پولیس اہلکار مطالبہ کر رہے ہیں وہ پہلے بھی کروایا جا سکتا تھا۔

تاہم عدالت نے استدعا منظور پر کرتے ہوئے محسن بیگ کا مزید دو روزہ ریمانڈ دے دیا۔

error: