محسن فخری زادہ: ایرانی جوہری سائنسدان کے قتل کے پیچھے کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟

زیادہ تر ایرانیوں نے جمعے تک جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کا نام بھی نہیں سنا ہوگا جب انھیں ایک حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔

مگر جو لوگ ایران کے جوہری پروگرام پر نظر رکھتے ہیں اُن کے لیے محسن کا نام نیا نہیں تھا، اور مغربی انٹیلیجنس ادارے انھیں اس کا اہم کردار قرار دیتے تھے۔

ایرانی میڈیا نے فخری زادہ کی اہمیت کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا بلکہ کہا کہ وہ سائنسدان تھے اور حالیہ ہفتوں میں ’ملک میں بننے والی کووڈ 19 ٹیسٹنگ کٹس‘ بنانے کے لیے تحقیق کر رہے تھے۔

لندن کے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ فیلو مارک فِٹزپیٹرک جو ایران کے جوہری پروگرام پر قریبی نظر رکھتے ہیں، انھوں نے بھی ٹویٹ کی کہ: ’ایران کا جوہری پروگرام اب اس نقطے سے کہیں آگے نکل چکا ہے جب یہ کسی ایک فرد پر منحصر ہوتا۔‘

مگر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ فخری زادہ پر جب حملہ کیا گیا تو ان کے ساتھ کئی باڈی گارڈز تھے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران اُن کی سیکیورٹی کے حوالے سے کتنا سنجیدہ تھا۔

چنانچہ ان کے قتل کے پیچھے موجود محرکات ایران کی جوہری سرگرمیوں کے بجائے سیاسی حقائق سے زیادہ منسلک نظر آتے ہیں۔

محسن فخری زادہ، ایران،
،تصویر کا کیپشنتہران کے قریب وہ سڑک جہاں مسلح افراد نے محسن فخری زادہ پر فائرنگ کی

دو ممکنہ محرکات سب سے زیادہ قابلِ غور ہیں: پہلا، ایران اور جو بائیڈن کے تحت نئی امریکی انتظامیہ کے درمیان تعلقات کی ممکنہ بہتری کو خطرے میں ڈالنا، اور دوسرا، ایران کو ردِعمل پر اکسانا۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے اس قتل پر اپنے پہلے بیان میں کہا: ’دشمن تناؤ سے بھرپور ہفتوں سے گزر رہے ہیں۔‘

’وہ جانتے ہیں کہ عالمی صورتحال تبدیل ہو رہی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ان دنوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے۔‘

جب حسن روحانی ایران کے ’دشمنوں‘ کا حوالہ دیتے ہیں تو وہ صاف طور پر ٹرمپ انتظامیہ، اسرائیل اور سعودی عرب کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔

اسرائیل اور سعودی عرب دونوں ہی مشرقِ وسطیٰ میں سیاست کی بدلتی لہر اور نو منتخب صدر جو بائیڈن کے عہدہ سنبھالنے پر خطے کی سیاست پر ہونے والے اثرات کے بارے میں فکرمند ہیں۔

جو بائیڈن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں دوبارہ شامل ہونا چاہتے ہیں جو 2015 میں باراک اوبامہ کے دور میں مذاکرات کے بعد طے پایا تھا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں امریکہ کو اس معاہدے سے دستبردار کروا لیا تھا۔

محسن فخری زادہ، ایران،
،تصویر کا کیپشنمحسن فخری زادہ حملے میں زخمی ہوئے اور بعد میں ہسپتال میں ہلاک ہوگئے تھے

اطلاعات کے مطابق ایران کے متعلق اسرائیل اور سعودی عرب کے تحفظات اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان گذشتہ اتوار کو نیوم میں ہونے والی مبینہ ’خفیہ ملاقات‘ میں زیرِ بحث آئے۔

سعودی وزیرِ خارجہ نے ایسی کسی بھی ملاقات کی تردید کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق نیتن یاہو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے پر بھی ولی عہد کو قائل نہیں کر سکے۔

پیر کو جب یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر کے قریب واقع شہر جدہ میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب پر حملہ کیا ہے تو یہ سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بنانے کا موقع بھی ہو سکتا ہے۔

ایران میں سخت گیر پریس نے حوثیوں کی جانب سے ’دلیرانہ قدس 2 بیلسٹک میزائل حملے‘ کے بارے میں فخریہ انداز میں بات کی۔

مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ’یہ ایک سٹریٹجک اقدام تھا جس کا وقت سعودی اور اسرائیلی ملاقات کے ساتھ ہم آہنگ رکھا گیا تھا تاکہ سعودیوں کو پیغام دیا جا سکے کہ وہ بغیر سوچے سمجھے قدم نہ اٹھائیں۔‘

اس حملے پر سعودی غصے میں امریکی بھی شریک نظر آئے۔

امریکہ کی قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن نے اپنی کتاب ’دی روم ویئر اِٹ ہیپنڈ‘ میں بتایا ہے کہ کیسے ٹرمپ انتظامیہ ایران کی جانب سے حوثیوں کی حمایت کو ’مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات کے خلاف مہم‘ کے طور پر دیکھتی تھی۔

نیوم میں ہونے والی یہ مبینہ ملاقات اطلاعات کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کروائی تھی جو حال ہی میں قطر اور متحدہ عرب امارات کے دورے سے آئے تھے جہاں ایران گفتگو کا مرکزی نکتہ تھا۔

امریکی میڈیا کے مطابق دو ہفتے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سینیئر مشیروں سے پوچھا تھا کہ کیا ان کے پاس ایران کی مرکزی جوہری سائٹ پر فوجی حملے کا آپشن موجود ہے یا نہیں۔

بظاہر وہ جاتے جاتے بھی ایران کے ساتھ معرکہ آرائی چاہ رہے تھے۔

جنوری میں صدر ٹرمپ نے عراق میں ایران کے صفِ اول کے فوجی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو ایک ڈرون حملے میں ہلاک کرنے کے بارے میں فخر کا اظہار کیا تھا، جسے بعد میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے نے ’غیر قانونی‘ قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے انھیں میری ہدایت پر فوراً روکا۔‘

چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان قاتلانہ حملوں کی صدر کی جانب سے یکسر مخالفت نہیں کی جاتی۔

ان کے ایرانی ہم منصب نے اسرائیل کو فخری زادہ کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

اور واقعتاً کئی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو دنیا کے اُن چند رہنماؤں میں سے تھے جنھوں نے براہِ راست اس سائنسدان کے بارے میں بات کی تھی۔

سنہ 2018 میں ایک ٹی وی پریزنٹیشن کے دوران انھوں نے ایران کے جوہری پروگرام میں فخری زادہ کے صفِ اول کے کردار کے بارے میں بات کی اور لوگوں پر زور دیا کہ وہ ’یہ نام یاد رکھیں۔‘

محسن فخری زادہ، ایران،
،تصویر کا کیپشنبنیامن نیتن یاہو اسرائیل کے جوہری پروگرام پر پریزنٹیشن دیتے ہوئے

اور جہاں اسرائیل یہ جانتا ہے کہ بائیڈن کی صدارت میں بھی امریکہ اسرائیل کی سلامتی یقینی بنائے رکھے گا، مگر وہیں اس کو یہ بھی تشویش ہے کہ بائیڈن کے نامزد کردہ وزیرِ خارجہ انٹونی بلینکن ایران سے جوہری معاہدے کے زبردست حامی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں بلینکن کی حکمتِ عملی سے فلسطینیوں کے لیے بھی مزید امکانات و مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ وہ صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے خلاف تھے تاہم بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ یہ اقدام واپس نہیں لیں گے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے فخری زادہ کی ہلاکت کے ذمہ دار افراد کے لیے ’یقینی سزا‘ کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اور ایران کی مصلحتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے سیکیورٹی اور انٹیلیجنس ناکامیوں کی جانب اشارہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایرانی انٹیلیجنس اداروں کو دراندازوں اور غیر ملکی جاسوسوں کا پتہ لگا کر قاتلانہ ٹیموں کی سرکوبی کرنی ہوگی۔

سوشل میڈیا پر کئی ایرانی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایران کی جانب سے اپنی عسکری اور انٹیلیجنس برتری کے دعووں کے باوجود اس قدر سخت سیکیورٹی رکھنے والے کسی فرد کو دن دیہاڑے کیسے قتل کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ بھی تشویش ہے کہ اس قتل کو بنیاد بنا کر ملک کے اندر مزید گرفتاریاں کی جائیں گی۔

اب جبکہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اپنا دور مکمل کرنے والی ہے تو اسرائیل اور سعودی عرب اپنا مرکزی اتحادی کھونے والے ہیں۔ ایران بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے پابندیوں میں نرمی اور اپنی معیشت کو دوبارہ کھڑا کرنے کے امکانات سامنے دیکھا رہا ہے۔

چنانچہ جوابی حملہ کرنا بے وقوفی ہوگی۔

ڈاکٹر معصومہ طورفہ لندن سکول آف اکنامکس اور سکول آف اوریئنٹل اینڈ ایفریکن سٹڈیز میں ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں۔ وہ ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا کی سیاست میں سپیشلائزیشن کر رہی ہیں۔ اس سے قبل وہ افغانستان میں اقوامِ متحدہ کی سٹریٹجک کمیونکیشن کی ڈائریکٹر رہ چکی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *