محفلِ یاراں

ﷲ مستنصر حسین تارڑ کو لمبی زندگی، بہترین صحت کے ساتھ دے۔ آج مجھے وہ اور بہت سے دوسرے دوست یاد آ رہے ہیں۔ جن سے ایک طویل عرصے سے ملاقات نہ ہوئی، ﷲ نے ہم سب دوستوں کو مالی آسودگی تو عطا کر دی جس پر ہم اُس کے شکر گزار ہیں لیکن اِس آسودگی نے ہمارے درمیان ذمینی فاصلے بہت بڑھا دیے ہیں۔ میں ڈی ایچ اے کے ای ایم ای سیکٹر میں کب کا شفٹ ہو چکا ہوں۔ اصغر ندیم سید، مستنصر حسین تارڑ بھی ڈی ایچ اے کے مختلف فیزز میں جا آباد ہوئے ہیں لیکن میرے خیال میں اِن زمینی فاصلوں کے علاوہ ﷲ کی ایک اور رحمت بھی فاصلوں کا باعث بنی ہے۔ ﷲ نے ہم دوستوں کی رسی بھی دراز کر رکھی ہے، مستنصر ماشاء ﷲ 82برس کا ہے اور میں بھی اُس کے پیچھے پیچھے چلا آ رہا ہوں۔ میرا یار اصغر ندیم سید ابھی صرف 72سال کا ہے۔ ہمارا ’’برخوردار‘‘ ہی ہوا نا! تو گویا مسئلہ یہ بنا کہ پہلے تو ہم سب جوان کیا جوانِ رعنا تھے، پھر ہماری رہائش بھی ایک دوسرے کے تقریباً قرب و جوار ہی میں تھی۔ ہمارے پاس کار نہیں ہوتی تھی، موٹر سائیکل ہوتے تھے اور موٹر سائیکل کی پاور سے زیادہ ہماری اپنی پاور کے سامنے دور یا نزدیک کی کیا حیثیت ہوتی تھی۔ پرلے درجے کے ’’آوارہ گرد‘‘ تھے۔ رات کو ایک دو بجے گھر پہنچتے تھے۔ یہاں میں خصوصی طور پر اپنے یارِ غار خالد احمد (اُسے مرحوم کیسے لکھوں؟)، نجیب احمد اور اُن استاد شعراء کے شاگردانِ رشید کا ذکر کر رہا ہوں جنہوں نے رات کو ایک ریستوران کے بند ہونے کے بعد کسی دوسرے ریستوران کا رخ کرنا ہوتا تھا۔ یونس جاوید اور دوسرے بہت سے دوستوں کے ساتھ پاک ٹی ہائوس میں ملاقات ہو جایا کرتی تھی۔ اسلام آباد تو یوں سمجھیں میرا دوسرا شہر تھا، وہاں میرے شفیق رحمٰن، قدرت ﷲ شہاب، ممتاز مفتی، جوش ملیح آبادی، احمد فراز، ضمیر جعفری، پریشان خٹک، کرنل محمد خاں، غلام ربانی آگرو، مسعود مفتی، مظہر الاسلام، رشید امجد، منصور قیصر، جلیل عالی، اختر امان، انعام الحق جاوید، صدیق سالک، پروین شاکر، انور مسعود، سرفراز شاہد اور اُن سب کے علاوہ محمد منشاء یاد رہتے تھے۔ جو میرے سینئرز تھے۔ اُن کے ساتھ بھی کھلی گپ شپ تھی مگر منشاء یاد تو میری جند جان تھا، وہ جب میری جگتیں برداشت نہ کر پاتا تو تشدد پر اُتر آتا تھا اور میرے پیٹ میں گھونسے مارتا تھا۔ میرے اِن اسلام آبادی دوستوں میں اب دو تین ہی اِس دنیا میں ہیں اور اُن کی جگہ اب میرے نئے نوجوان دوستوں نے لے لی ہے اور یہ نوجوان بھی 60اور 70کی درمیانی عمر میں ہیں۔ بہت خوبصورت انسان اور شاعر توصیف احمد تبسم تو ماشاء ﷲ نوے کراس کر چکے ہیں اور ہاں ہمارا زندہ دل دوست ریاض احمد جس نے ابن انشاء پر پی ایچ ڈی کی ہے، اُس سے بھی تو ملاقات رہتی تھی۔

کراچی ٹرین میں آنا جانا بھی میرا معمول تھا۔ وہاں اپنے سینئر سلیم احمد، جمیل الدین عالی، سید محمد تقی، رئیس امروہوی، جون ایلیا، زہرہ نگاہ، ادا جعفری، خدیجہ مستور،قمرجمیل، رسا چغتائی، تابش دہلوی، صہبا لکھنوی، حاجرہ سرور، فہمیدہ ریاض، جمیل الدین جالبی کے قدموں کو چھونے کا موقع ملتا تھا، اپنے ہم عصروں میں انور مقصود، سلیم کوثر (ﷲ اُسے صحتِ کاملہ عطا کرے) عبیدﷲ علیم، ثروت حسین، جمال احسانی، شبنم رومانی، صغیرملال، عشرت آفرین، اطہر نفیس، تاجدار عادل، اعجاز رحمانی اور دوسرے بہت سے میرے ہم عصر تھے۔ اُن میں سے بیشتر کے ساتھ کراچی کے ایرانی چائے خانوں میں گپ شپ رہتی تھی اور فیصل آباد تو ہمارے ہمسائے میں تھا۔ یہاں ریاض مجید، انور محمود خالد ماشاء ﷲ حیات ہیں۔ انور محمود خالد تو کتاب کے کیڑے ہیں اور ریاض مجید شاعری کے بعد بذلہ سنجی میں یکتائے روزگار ہیں۔ وہاں مجید امجد ایسا عہد آفرین شاعر بھی رہتا تھا مگر اُس کی زیارت میرے مقدر میں نہیں تھی۔ پشاور کے دوستوں میں محسن احسان، فارغ بخاری، خاطر غزنوی، رضا ہمدانی، یوسف رجا چشتی اور شوکت واسطی سے ملے بغیر دورئہ پشاور ادھورا رہتا تھا۔

اور اب آ جاتے ہیں ایک بار پھر لاہور ۔۔۔ کیسے کیسے لوگوں سے یہ شہر آباد تھا۔ احمد ندیم قاسمی، انتظار حسین، عبدﷲ حسین، فیض احمد فیض، حفیظ جالندھری، سید محمد کاظم، عارف عبدالمتین، محمد خالد اختر، رشید ملک، میرزا ادیب، قتیل شفائی، اشفاق احمد، بانو قدسیہ اور کم از کم بیسیوں نام اور جو فی الحال ذہن سے نکل گئے ہیں۔ احمد ندیم قاسمی تو میرے ادبی رہنما تھے۔ فیض صاحب سے مجھے عشق تھا، مگر ملاقاتیں صرف تین ہوئیں اور ہاں خورشید رضوی تو میرے ہمسائے ہیں۔ مظفر وارثی اقبال ٹائون میں میری اگلی گلی میں رہتے تھے۔ ایک بہت بڑا نام مختار مسعود، یہ سب لاہور کی شان تھے۔ اُن میں سے میرے بہت عزیز دوست اور صفِ اول کے شاعر اور ہاں مصور اقبال اسلم کمال الحمدللہ حیات ہیں۔ میں اسی برصغیر کے اس ادبی اور ثقافتی مرکز لاہور کے گائیکوں، موسیقاروں، مصوروں، تاریخ دانوں، عالموں اور دوسری مایہ ناز ہستیوں کے نام نہیں لکھ رہا کہ اُس کے لئے دفتر کے دفتر درکار ہیں۔

اور آخر میں راز کی ایک بات، میں یہ کالم اپنے ہمدم دیرینہ مستنصر تارڑ کے بارے میں لکھنے جا رہا تھا مگر وہ کالم درمیان ہی میں رہ گیا۔ اب اُس کے لئے میرے آئندہ کالم کا انتظار کریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *