محمد بن سلمان: کیا سعودی شہزادے کا نام امریکہ کی جمال خاشقجی ’بین لسٹ‘ میں شامل ہے؟

امریکی محکمہ خارجہ نے یہ بتانے سے انکار کیا ہے کہ آیا ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا نام ان 76 سعودی عہدے داروں کی فہرست میں شامل ہے جن پر صحافی جمال خاشقجی قتل کے الزام میں امریکی ویزا پابندیاں عائد کی گئیں ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ نے جمعے کے روز صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے الزام میں سعودی عرب کے شہریوں کے خلاف سخت پابندیوں کا اعلان کیا اور سابق سعودی انٹیلیجنس اہلکار احمد العسیری کو بھی ان افراد کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان 76 سعودی شہریوں میں وہ سعودی عہدے دار بھی شامل ہیں جو امریکہ میں رہائش پذیر سعودی شہریوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوششوں میں ملوث پائے گئے تھے۔

تاہم پیر کو محکمہ خارجہ کی جانب سے دی گئی پریس بریفنگ میں ترجمان، نیڈ پرائس نے یہ واضح کرنے سے انکار کر دیا کہ آیا ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے یا نہیں۔

ولی عہد کا نام شامل کیے جانے سے متعلق مزید سوالات کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس فہرست میں شامل 76 افراد کی شناخت کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں اور نہ ہی مستقبل میں اس فہرست میں شامل کیے جانے والے افراد کے متعلق معلومات دے سکیں گے۔‘

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ محمد بن سلمان کے حوالے سے براہ راست کوئی کارروائی کرکے سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتا ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل جیسے واقعات مستقبل میں نہ ہوں اور دونوں ممالک مل کر کام کریں۔

ان کے مطابق سعودی شہزادے کا امریکہ آنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں۔

سعودی بادشاہ اور امریکی صدر بائیڈن

بائیڈن کیا سوچ رہے ہیں؟

امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ان اقدامات کا مقصد بظاہر اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کی تکمیل ہے۔ یاد رہے ان کے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے عرب اتحادی اور سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ملک کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرتے آئے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے بائیڈن کے بہت سارے فیصلے پچھلی حکومت کے موقف کے بالکل مخالف ہیں۔

تاہم بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اس نقطہ نظر کا مقصد مشرق وسطی میں کوئی بنیادی رشتہ توڑے بغیر سعودی عرب سے نئے سرے سے تعلقات کا آغاز ہے۔

یمن کی جنگ اور سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کے قتل کے باعث دونوں ملکوں کے تعلقات سخت کشیدہ ہیں۔

لیکن اہم بات یہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ شہزادے کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہاں ہے، حالانکہ امریکی انٹلیجنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی نژاد امریکی صحافی جمال خاشقجی کو زندہ یا مردہ پکڑنے کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔

اس رپورٹ کے اجرا کے بعد وائٹ ہاؤس نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لے رہا ہے۔

تاہم انٹیلیجنس رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد سعودی ولی عہد پر واضح الفاظ میں سخت پابندیوں کے اطلاق کے حوالے سے کوئی اشارہ نہ دینے پر بائیڈن انتظامیہ پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

Image shows Hatice Cengiz

یاد رہے اس سے قبل پیر کے روز خاشقجی کی منگیتر خدیجہ چنگیز نے کہا تھا کہ شہزادے کو ’بلاتاخیر سزا دی جانی چاہیے۔‘

ترکی سے تعلق رکھنے والی محقق خدیجہ چنگیز نے عالمی رہنماؤں سے التجا کی تھی کہ وہ اپنے آپ کو ولی عہد شہزادے سے دور کر لیں اور سعودی عرب پر سخت پابندیاں عائد کریں۔

بائیڈن انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’ضروری ہے کہ تمام عالمی رہنما اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا وہ (شہزادہ محمد بن سلمان) سے ہاتھ ملانے کے لیے تیار ہیں؟‘

’میں سب سے گزارش کرتی ہوں کہ وہ اپنے دلوں پر ہاتھ رکھ کر ولی عہد شہزادے کو سزا دینے کی مہم چلائیں۔‘

جماا خاشقجی
،تصویر کا کیپشنجمال خاشقجی کئی بین الاقوامی نشریاتی اداروں سے وابستہ تھے

دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان کی صدر نینسی پیلوسی نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کانگریس، انسانی حقوق کے حوالے سے صدر جو بائیڈن کے فیصلے کی مکمل حمایت کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ حکومت کے ان اقدامات کی بھی حمایت کرتی ہیں جس میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے سلسلے میں سعودی عرب کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

یاد رہے اس رپورٹ کے منظرِ عام پر آنے سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان سے فون پر رابطہ کیا تھا جس میں انھوں نے امریکہ کی جانب سے انسانی حقوق اور قوانین کی پاسداری کی ’اہمیت پر زور‘ دیا تھا۔

صدر بائیڈن کی فون کال ایک ایسے وقت میں کی گئی تھی جب بظاہر امریکہ سعودی عرب سے اپنے تعلقات کو ایک نئی سمت میں لے جانے کے متقاضی تھے۔

امریکہ میں صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات پر مبنی خفیہ رپورٹ کو جاری کرنے کی تیاریاں کر رہی تھی جس میں قتل کا الزام سعودی ولی عہد شہزادے محمد بن سلمان پر عائد کیا گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *