محمد علی جناح پر قاتلانہ حملہ: جب رفیق صابر مزنگوی نے بانیِ پاکستان کو جان سے مارنے کی کوشش کی

26 جولائی 1943 کی دوپہر محمد علی جناح ممبئی میں ماؤنٹ پلیزنٹ روڈ پر اپنے گھر میں قائم آفس میں کام کر رہے تھے۔ ایک اجنبی شخص ان کے دفتر میں داخل ہوا اور ان کے سیکریٹری سید احمد سید یعقوب سے کہا کہ ’میں جناح سے ملنا چاہتا ہوں۔‘

سید یعقوب نے کہا ’جناح کسی سے اس وقت تک نہیں ملتے جب تک اس نے پیشگی وقت نہ لے رکھا ہو۔‘

’اگر تم ملاقات کا مقصد بتا دو، میں تمھیں ملنے کے وقت اور تاریخ سے آگاہ کر دوں گا۔‘

اس اجنبی شخص نے اردو میں ایک کاغذ پر کچھ لکھنا شروع کیا۔ اتنے میں جناح کسی فائل کی تلاش میں سیکریٹری کے کمرے میں آئے تو اس شخص کو دیکھ کر انھوں نے سیکریٹری سے پوچھا ’یہ کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں؟‘

سیکریٹری نے بتایا ’یہ آپ سے ملنے کے خواہش مند ہیں۔‘ اس پر جناح نے اس شخص سے مخاطب ہو کر کہا ’آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں ایک کاغذ پر لکھ دیجیے، میں اسے دیکھ کر ایک دو دن میں ملاقات کا وقت دے دوں گا۔‘

ملاقاتی نے اسی وقت ملاقات پر زور دیا تو جناح نے کہا کہ ’میں بہت مصروف ہوں، اس لیے فوری طور پر ملاقات نہیں کرسکتا۔‘

وہ شخص یہ جواب سن کر بپھر گیا۔ اس نے ایک زبردست مکا جناح کے جبڑے پر مارا اور اپنی جیب سے ایک کھلا ہوا چاقو نکال کر ان پر حملہ کر دیا۔

اس کا ارادہ تھا کہ جناح کو قتل کر دیا جائے۔

جناح نے جان بچانے کے فطری جذبے کے تحت اپنا بایاں ہاتھ اٹھایا اور حملہ آور کی کلائی پکڑ لی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حملے کا زور ٹوٹ گیا۔

حملہ آور جوان آدمی تھا، اس نے زور لگایا اور اپنے ہاتھ کو جھکا کر چاقو کی نوک کو جناح کی ٹھوڑی تک لے گیا۔ جناح زخمی ہوگئے۔

ظاہر ہے حملہ آور ان کی گردن کو نشانہ بنانا چاہتا تھا لیکن جناح کی گرفت کی وجہ سے گردن کے بجائے ٹھوڑی میں زخم لگ گیا۔

اتنی دیر میں جناح اور سید احمد سید یعقوب کی مدد کے لیے بنگلے کا پٹھان چوکیدار شاہ محمد بھی شور سن کر اندر آگیا۔ جناح صاحب کا ڈرائیور عبدالغنی بھی اندر آگیا۔ ان سب نے مل کر حملہ آور کو دبوچ لیا اور اس کا ہتھیار چھین لیا۔

اس کے بعد محمد علی جناح کو اوپر والی منزل لے جایا گیا جہاں فاطمہ جناح بھی موجود تھیں۔ عارضی مرہم پٹی کے بعد جناح خاندان کے معالج ڈاکٹر مسینا اور پولیس کو اطلاع دے دی گئی۔

تھوڑی دیر بعد گام دیوی پولیس سٹیشن کے انگریز انسپکٹر ولیم جارج کیلبرن اپنے عملے کے ساتھ جناح کے بنگلے پر پہنچ گئے۔

انھوں نے جناح ہاؤس کے ملازمین کی تحویل میں موجود ملزم کو اپنی حراست میں لیا اور محمد علی جناح کا بیان خود ریکارڈ کیا۔

جناح پر قاتلانہ حملہ

جناح پر اس قاتلانہ حملے اور مقدمے کی روداد جناح کے بھانجے اکبر اے پیر بھائی نے اپنی کتاب ’جناح فیسز این اسیسن‘ (جناح پر قاتلانہ حملہ) میں قلم بند کی تھی۔

جناح پر حملہ کرنے والا کون تھا؟

پولیس کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ حملہ آور کا اصل نام محمد صادق تھا۔ وہ مجلس احرار اور اتحاد ملت جماعتوں کا رکن رہا تھا۔

مولانا ظفر علی خان نے ان کی کارکردگی سے خوش ہوکر انھیں کامریڈ کا خطاب دیا تھا جسے ترجمہ کر کے انھوں نے اپنا نام رفیق رکھ لیا تھا۔ صابر ان کا تخلص تھا اور وہ مزنگ (لاہور) کا رہنے والا تھا۔ یوں ان کا نام رفیق صابر مزنگوی مشہور ہوگیا۔

بتایا جاتا ہے کہ جب ظفر علی خان مسلم لیگ میں شامل ہوئے تو یہ شخص بھی مسلم لیگ کا رکن بن گیا۔ ظفر علی خان نے انھیں مسلم لیگ مزنگ کا پروپیگنڈا سیکریٹری بھی مقرر کیا۔

ایک اور روایت یہ بتاتی ہے کہ رفیق صابر مزنگوی کا تعلق مسلم لیگ سے نہیں بلکہ خاکسار تحریک سے تھا۔ رئیس احمد جعفری نے اپنی کتاب ’قائداعظم اور ان کا عہد‘ میں لکھا ہے کہ ’یہ وہ زمانہ تھا جب خاکسار، مسلم لیگ اور قائداعظم کے خلاف ہمہ تن جہاد بن گئے تھے اور انھوں نے یونینسٹوں سے سازباز، کانگریس سے یارانہ اور احرار سے میل جول شروع کردیا تھا اور مسلم لیگ کے خلاف ایک محاذ قائم کر دیا تھا۔‘

ہیکٹر بولیتھو نے اپنی کتاب ’جناح، معمار پاکستان‘ میں لکھا ہے کہ ’1943 کی گرمیوں میں کچھ دن کے لیے جناح کے انہماک میں خلل پڑ گیا۔ خاکسار جو ازل سے ان کے مخالف تھے اب دشمنی پر اتر آئے اور جون اور جولائی کے مہینے میں ان کے لیے اچھا خاصا خطرہ بن گئے۔

’انھوں نے ملک کے مختلف حصوں سے جناح کو بے شمار خطوط لکھے جن میں ان پر الزام لگایا گیا کہ انگریزوں کے خلاف کانگریس کا ساتھ نہ دے کر انھوں نے قوم سے غداری کی ہے۔ ان کے پاس کبھی کبھی ایک دن میں پچاس، پچاس تار، خطوط اور پوسٹ کارڈ آ جاتے جن میں ان پر لعنت بھیجی جاتی اور ان میں قتل کی دھمکی دی جاتی۔‘

ایسے میں 26 جولائی 1943 کا دن آتا ہے اور رفیق صابر مزنگوی جناح پر حملہ کر دیتا ہے۔

جناح پر قاتلانہ حملہ
،تصویر کا کیپشنرفیق صابر مزنگوی

رفیق صابر مزنگوی چھ جولائی کو ممبئی آئے جہاں انھوں نے حاجی اسماعیل، حاجی حبیب ٹرسٹ کے مسافر خانے میں قیام کیا۔

انھوں نے اپنے اصل کوائف چھپا لیے اور اپنا نام محمد صادق مولانا عمر دین بتایا۔ انھوں نے ممبئی آنے کا مقصد اپنے بھائی کی تلاش بتائی اور رجسٹر میں محمد صادق کے نام سے دستخط کیا۔

انھوں نے 13 جولائی تک مسافر خانے میں قیام کیا اور انجمن خاکساران ممبئی کے دفتر میں منتقل ہوگئے۔

اس دفتر میں ان کی پہلی ملاقات خالد اختر افغانی سے ہوئی جو اس وقت خاکساروں کے نائب حاکم اعلیٰ تھے۔ خالد اختر افغانی نے بعد ازاں خاکسار تحریک سے علیحدگی اختیار کر لی اور وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ انھیں جناح کے اولین سوانح نگار ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ان کی کتاب ’حالات قائداعظم‘ 1946 میں شائع ہوئی۔

رفیق صابر نے انھیں بتایا کہ وہ خاکسار ہیں اور علامہ عنایت اللہ مشرقی کا لٹریچر فروخت کرتے ہیں۔ ان کے پاس سرخ خاکسار بیج بھی موجود تھا، خاکی وردی بھی ان کے پاس تھی اور علامہ صاحب کا فوٹو بھی ہر وقت ان کے بٹوے میں موجود رہتا تھا۔

جناح اس زمانے میں کراچی اور بلوچستان کے دورے کے سلسلے میں ممبئی سے باہر تھے، اس لیے رفیق صابر کے پاس انتظار کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا۔

جناح 23 جولائی 1943 کو ممبئی واپس تشریف لائے۔ ریلوے سٹیشن پر ان کا استقبال کرنے والے ہزاروں افراد میں رفیق صابر بھی موجود تھے۔

اگلے روز انھوں نے ایک سیاسی چال کے تحت قدرت اللہ کے نام سے مسلم لیگ کی رکنیت حاصل کر لی اور فارم کو اپنی جیب میں رکھ لیا۔

جناح
،تصویر کا کیپشنجناح (بائیں) اپنی بہن فاطمہ جناح کے ہمراہ (فائل فوٹو)

اسی دن انھوں نے ایک چاقو حاصل کیا اوراسماعیل دادا میاں کی دکان پر جاکر اپنی چاقو کی دھار تیز کروائی۔ دو دن بعد وہ اپنے منصوبے کے تحت جناح کی قیام گاہ پہنچے اور پھر جو کچھ ہوا اس کا احوال آپ پڑھ چکے ہیں۔

جناح کے قتل کی افواہیں سن کر جی ایم سیدبے ہوش ہوگئے

جناح پر قاتلانہ حملے کا ہندوستان بھر میں شدید ردعمل آیا۔ مختلف اخبارات نے اس خبر کو جلی انداز میں شائع کیا اور مذمتی اداریے تحریر کئے۔

سندھ کے نامور رہنما غلام مصطفی بھرگری نے مشہور صحافی منیر احمد منیر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، جو ان کی کتاب ’دی گریٹ لیڈر جلد دوم‘ میں شامل ہے بتایا کہ ’جناح پر ہونے والے اس قاتلانہ حملے کی خبر سننے کے بعد سیاسی رہنما جی ایم سید کا بُرا حال ہوگیا۔

’یہ خبر سندھ اسمبلی پہنچی تو جی ایم سید (صدمے سے) بے ہوش ہوگئے۔ انھیں پانی وانی ڈال کر ہوش میں لایا گیا۔ جی ایم سید ہوش میں آئے تو انھیں بتایا گیا کہ جناح سلامت ہیں اور یہ اطلاع غلط ہے کہ انھیں قتل کردیا گیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جی ایم سید کو اس زمانے میں جناح سے کیسی عقیدت تھی۔‘

خالد اختر افغانی نے اپنی کتاب ’حالات قائداعظم‘ میں لکھا ہے کہ جناح پر حملے کی خبر بجلی کی طرح پورے انڈیا میں پھیل گئی۔

’اگلے دن اخبارات میں علامہ مشرقی کا ایک بیان شائع ہوا جس میں علامہ صاحب نے رفیق صابر کے متعلق لکھا کہ وہ خاکسار نہیں۔‘

خط میں لکھا تھا: ’آج جب کے ہم علامہ صاحب کے چنگل سے چھٹکارا حاصل کرسکے ہیں اب آکر معلوم ہوا کہ رفیق صابر کے خاکسار ہونے کے باوجود علامہ صاحب نے یہ بیان کیوں دیا تھا، اگر ان میں سیاسی بصیرت ہوتی تو کہہ سکتے تھے کہ یہ ایک فرد کا قصور ہے اور فرد کا قصور جماعت کا قصور نہیں ہوا کرتا۔ مگر چور کی داڑھی میں تنکے والی مثال کے تحت علامہ صاحب بھڑک اٹھے اور فوراً کہہ دیا کہ وہ خاکسار نہیں حالانکہ اس کے بعد علامہ صاحب کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ علامہ صاحب کو رفیق صابر سے گہری ہمدردی ہے۔‘

خالد اختر افغانی مزید لکھتے ہیں کہ ’کم و بیش یہی بات روزنامہ انقلاب نے 29 جولائی 1943 کو اپنے اداریے میں بھی کچھ اس طرح تحریر کی۔

انقلاب

اس اداریے کے مطابق ’اب یہ امر محتاج ثبوت نہیں رہا کہ مسٹر محمد علی جناح پر قاتلانہ حملہ کرنے والا نوجوان لاہور کا ایک معروف خاکسار ہے اور مزنگ کے لوگ اس کو اچھی طرح جانتے ہیں۔

’باقی امور تفتیش کے بعد کھلیں گے کہ وہ بطور خود ممبئی گیا تھا یا کسی کا بھیجا ہوا تھا۔ اس کی نیت ہی جناح کو قتل کرنے دینے کی یا اس نے فوری اشتعال کے ماتحت ان پر حملہ کردیا تھا۔ ان امور کے متعلق خیال آرائی جائز ہے نہ مفید۔ ہر شخص کو انکشاف حقیقت کا انتظار کرنا چاہیے، لیکن اس حقیقت سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا کہ علامہ مشرقی نے مسلم لیگ کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے کی ہرگز کوشش نہیں کی۔ لیکن گاندھی کی چٹھی کے سلسلے میں مسٹر جناح کے رویے کی مخالفت کرکے اور خاکساروں کو ہزارہا تار بھیجنے کی تلقین کرکے انھوں نے خاکسار حلقوں کے اندر مسٹر جناح کو غیر ہردلعزیز بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔‘

اسی اداریے میں انقلاب نے مزید لکھا کہ ’اس نوجوان نے جو حرکت کی وہ بہرحال کسی عقیدت مند کی حرکت تو نہیں ہوسکتی، دشمن ہی سے سرزد ہوسکتی ہے اور اس خاکسار نے مسٹر جناح سے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ہم نے آپ کو ہزاروں تار بھیجے آپ نے کچھ نہ کیا لہٰذا اب میں خود آیا ہوں تاکہ آپ سے زبانی جواب طلب کروں۔‘

جناح: ’مسلمان پُرامن رہیں‘

قاتلانہ حملے میں محفوظ رہنے کے بعد جناح نے فوری طور پر ایک اخباری بیان جاری کیا جس میں انھوں نے کہا کہ ’اگرچہ یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا لیکن اللہ کے فضل و کرم سے مجھے کوئی شدید زخم نہیں آیا۔

’میں اس وقت زیادہ کہنا نہیں چاہتا ہوں لیکن مسلمانوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کرتا ہوں۔ ہمیں شکر ادا کرنا چاہیے کہ میں معجزانہ طور پر بچ گیا لیکن مجھے شدید افسوس ہے کہ یہ بزدلانہ حملہ ایک مسلمان نے کیا تھا۔‘

جناح

13 اگست 1943 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے اعزازی سیکریٹری نوابزادہ لیاقت علی خان کی درخواست پر جناح کی زندگی بال بال بچ جانے پر ملک بھر میں یوم تشکر منائے جانے کا اہتمام کیا گیا۔

مسلم لیگ کی جانب سے نواب صدیق علی خان کی قیادت میں مسلم لیگ نیشنل گارڈز کے نام سے ایک رضاکار تنظیم قائم کی گئی اور محمد علی جناح کی حفاظت کی ذمہ داری اس تنظیم کے سپرد کر دی گئی۔

مقدمے میں جناح سے غیر متعلقہ سوالات

آٹھ ستمبر 1943 کو قاتلانہ حملے کے ملزم رفیق صابر مزنگوی پر قاتلانہ حملے کے الزام میں مقدمے کا آغاز ہوا۔ اس میں خود جناح نے بھی گواہی دی۔

اس مقدمے کے وکیل استغاثہ سوم جی تھے جنھوں نے استغاثہ کے گواہان پیش کئے اور ملزم پر جرح کی۔ خود ملزم نے بھی جناح پر جرح کی اور ان سے غیر متعلقہ سوالات پوچھے۔

مثلاً انھوں نے مسلم لیگ کے سلسلے میں کتنا روپیہ وصول کیا اور اسے کس طریق پر خرچ کیا یا انھوں نے جو سوٹ پہن رکھا ہے وہ کتنے کا ہے۔

مقدمے کی کارروائی تقریباً دو ہفتے جاری رہی۔ 4 نومبر 1943 کو عدالت کے سربراہ جسٹس بلیگ ڈن نے جیوری کے اراکین کے اتفاق سے ملزم رفیق صابر کو محمد علی جناح پر قاتلانہ حملے کا مجرم ٹھہرایا اور پانچ سال قید بامشقت کی سزا سنا دی۔

جناح پر اس قاتلانہ حملے اور مقدمے کی روداد جناح کے بھانجے اکبر اے پیر بھائی نے اپنی کتاب میں قلم بند کی تھی تاہم اس کتاب کے سرورق پر ان کا نام درج نہیں تھا اور صرف اتنا لکھا تھا ’بائے اے بیرسٹر ایٹ لا۔‘ یہ کتاب دسمبر 1943 میں تھیکر اینڈ کمپنی لمیٹڈ نے شائع کی تھی۔

اکبر اے پیربھائی، جناح کی چھوٹی بہن مریم بھائی عابدین پیربھائی کے بیٹے تھے۔

ان کے بھانجے لیاقت مرچنٹ نے 1986 میں ان کی یہ کتاب کراچی سے دوبارہ شائع کی تو اس وقت پہلی مرتبہ اس کتاب پر ان کا نام درج کیا گیا۔

اکبر اے پیر
،تصویر کا کیپشناکبر اے پیر بھائی (دائیں) جناح کی چھوٹی بہن مریم بھائی عابدین پیربھائی (درمیان) کے بیٹے ہیں

اسی دوران 1985 میں آتش فشاں پبلی کیشنز، لاہور نے اس کتاب کا اردو ترجمہ شائع کیا جس پر اکبر اے پیر بھائی کے بجائے ’ایک بیرسٹر کے قلم سے‘ تحریر تھا۔ یہ ترجمہ منیر احمد منیر نے کیا تھا۔

سنہ 1976 میں لاہور ہی سے محمد حنیف شاہد کی کتاب ’قائداعظم پر قاتلانہ حملہ‘ نامی کتاب شائع ہوئی۔ اس کتاب کا بیشتر حصہ اکبر اے پیر بھائی کی کتاب کا ترجمہ تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *