محمد علی جناح کی تصویر کے سامنے نوجوانوں کا فوٹو شوٹ ’عظیم قائد کی عزت کی پامالی ہے‘، شہری کی مدعیت میں مقدمہ درج

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایکسپریس ہائی وے پر موجود بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصویر اور ان کے فرمان ’ایمان، اتحاد، تنظیم‘ کے سامنے گذشتہ دنوں فوٹو شوٹ کرنے والے نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

یہ مقدمہ تھانہ کورال پولیس سٹیشن میں ایک شہری کی مدعیت میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 294 کے تحت درج کیا ہے۔

دور روز قبل ایک لڑکا اور لڑکی کا فوٹو شوٹ منظرِ عام پر آیا تھا جس میں وہ بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصویر کے سامنے کھڑے تھے جس کے بعد سے ان پر سوشل میڈیا پر خاصی تنقید بھی کی جا رہی تھی اور ان نوجوانوں کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا جانے لگا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق مقدمے کے مدعی نے بتایا کہ ’اسلام آباد میں کورال چوک پر نصب قائداعظم کے پورٹریٹ کے سامنے لڑکے اور لڑکی کا ڈانس کرنا اور تصاویر بنانا ہمارے عظیم قائد کی عزت کی پامالی ہے۔‘

ایف آئی آر میں درخواست گزار کی جانب سے تصاویر کا فرانزک ٹیسٹ کروانے اور جرم ثابت ہونے پر ان کے خلاف کارروائی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

دفعہ 294 کے تحت اگر کسی بھی شخص پر کسی عوامی مقام پر غیر اخلاقی حرکات، نازیبا کلمات ادا کرنے کا جرم ثابت ہو جاتا ہے تو اس پر زیادہ سے زیادہ تین ماہ قید یا جرمانہ یا دنوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

'آپ ان کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں‘

دو روز قبل، جب صحافی انصار عباسی نے اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کی توجہ اس جانب دلوائی تو انھوں نے فوری طور پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ: ’کسی کے پاس اگر اس بارے میں کوئی معلومات ہیں تو برائے مہربانی ہمارے ساتھ شیئر کریں۔‘

ایسے میں سوشل میڈیا پر کچھ افراد ڈپٹی کمشنر اسلام آباد پر تنقید کی تھی اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے سوشل میڈیا پر اعلان کر کے ان دو نوجوانوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالی ہیں۔

بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ کو اس طرح کے ’معمولی واقعات‘ کا نوٹس لینے کی بجائے، دیگر اہم مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔

جہاں اکثر صارفین ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے 'غیر ذمہ دارانہ' ٹویٹ کی مذمت کرتے دکھائی دیے وہیں اکثر نے لڑکا اور لڑکی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔

فاطمہ مسعود نے اس بارے میں ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ 'آپ اس ٹویٹ سے ان کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘

ماریانا بابر

’میرے نزدیک ان کے قائد کی تصویر کے سامنے تصویر بنوانا غیر اخلاقی تھا، لیکن شہر میں اس سے بھی بڑے مسائل موجود ہیں، میرے خیال میں آپ ان پرغور کر لیں۔‘

ماریانا بابر نے کہا کہ ’اگر میرے پاس معلومات ہوئیں بھی تب بھی میں آپ سے شیئر نہیں کروں گی۔ اپنے اصل کام کی طرف توجہ دیں، اور جوڑوں کا پیچھا چھوڑ دیں۔‘

’شہریوں کے گلے کاٹے جا رہے ہیں، غیر قانونی تعمیرات کی جا رہی ہیں جن سے سیلاب آ رہے ہیں، میرے پسندیدہ بسکٹ سے زیادہ آسانی سے یہاں منشیات دستیاب ہے۔‘

فاطمہ مسعود

باسط نامی صارف نے لکھا کہ 'بیٹھ جائیے، آپ کا کام لوگوں کی اخلاقی نگرانی کرنا نہیں ہے۔ ای الیون کا سیوریج کا نظام ٹھیک کرنے پر توجہ دیں۔'

تاہم کچھ صارفین نے ان نوجوانوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

محمد علی خان نامی ایک صارف نے لکھا کہ 'ہمارے بانی کی تضحیک کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ حکومت کو جوڑے کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔‘

جبکہ صارف عبدالرحمان کے مطابق 'اگر آپ نے تفتیش کرنی ہے تو قانونی طریقہ کار اپنائیں۔ تمام افراد کو بیچ میں لا کر ان افراد کی سکیورٹی کو خطرے میں نہ ڈالیں۔‘

ٹویٹ

صحافی محمد جنید نے لکھا کہ 'ڈپٹی کشمنر صاحب، آپ کے ساتھ یہ معلومات کسی کو بھی شیئر نہیں کرنی چاہییں۔ اپنا اصل کام کریں جو آپ واضح طور پر یہاں نہیں کر رہے، اس ملک کو یرغمال بنانا چھوڑ دیں۔‘

وقاص نامی ایک صارف کا کہنا تھا کہ 'جو بھی فرد ہماری تہذیب، مذہب اور قانونی ضابطوں کو توڑے گا اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔'

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: