مذاکرات اور عام معافی کا مغالطہ

چوبیس سال کی نور مقدم کو قتل کرکے اُس کی لاش کی بوٹیاں کرنے والا ظاہر جعفر اِس وقت جیل میں ہے ، عدالت اسے پھانسی کی سزا سنا چکی ہے اور قاتل نے اِس سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔ یہاں میرا ایک سوال ہے۔کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ریاست پاکستان ظاہر جعفر سے’’مذاکرات‘‘ کرے اور اگر وہ مستقبل میں پُرامن شہری بننے کی یقین دہانی کروادے تو ریاست اسے رہا کردے؟

گزشتہ دنوں ایف نائن پارک اسلام آباد میںیونیورسٹی کے ایک طالب علم کو ڈاکوؤں نے گولی مار کر ہلاک کردیا، لڑکے کی عمر بمشکل پچیس سال تھی ، وہ فارغ وقت میں نجی کمپنی میں ملازمت کرتا تھا اور اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا ۔ ملزمان تا حال تو گرفتار نہیں ہوسکے البتہ اُن کی گرفتاری کی صورت میں کیا اُن سے اِس شرط پر مذاکرات ہوسکتے ہیں کہ اگر وہ ہتھیار پھینک دیں اور ڈکیتی کا شغل ترک کردیں تو انہیں معاف کردیا جائے گا؟

میں جانتا ہوں کہ یہ دونوں سوالات بچگانہ ہیں ،دنیا کے کسی بھی قانون میں اِن سفاک مجرموں کی معافی کی گنجائش نہیں ۔ لیکن دوسری طرف ہم اکثر یہ خبریں بھی سنتے ہیں کہ فلاں ملک میں ریاست اورعلیحدگی پسندوں کے درمیان مذاکرات کامیاب، ریاست نے عام معافی کا اعلان کردیا، تشدد پسند گروہ اب ایک سیاسی جماعت بنا کر انتخابات میں حصہ لے گا اور ملک امن کی طرف گامزن ہوگا۔لیکن کیا دنیا میں واقعی مسلح گروہوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا جاتاہے ؟کولمبیا کی مثال لیتے ہیں ۔ 2016میں حکومت کولمبیا اور بائیں بازو کے مسلح باغیوں کے درمیان ایک امن معاہدہ طے پایا جس کے نتیجے میں باغیوں نے باون سال سے جاری گوریلا جنگ ختم کرتےہوئے ایک پُر امن جماعت کے طور پر سیاسی عمل میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ شروع میں اِس معاہدے کی توثیق عوام نے ریفرنڈم کے ذریعے کرنی تھی مگر کولمبیا کے عوام نے معمولی اکثریت کے ساتھ اسے رد کردیا تاہم بعد میں یہ معاہدہ کچھ ترامیم کے بعد کولمبین کانگریس سے منظور کروا لیاگیا ۔ یہ سارا کام ایک دن میں نہیں ہوا، اِس میں کئی سال لگے ، اقوام متحدہ اور کئی ممالک نے اِس امن معاہدے کو ممکن بنانے میں مدد کی ،مذاکرات بہت مرتبہ ناکام ہوئے اور سب سے زیادہ ڈیڈلاک اِس بات پرپیدا ہوا کہ پانچ دہائیوں کی اِس جنگ میں مرنے والوں کے لواحقین کو کیا منہ دکھایا جائے ۔ اصل میں یہ جنگ The Revolutionary Armed Forces of Columbia (Farc)نے1964میں مارکسٹ انقلاب برپا کرنےکیلئے شروع کی تھی ، اِس کا مقصد حکومت کا تختہ الٹ کر مارکسٹ نظام قائم کرنا تھا ،اِس خوں ریزی میں اڑھائی لاکھ سے زیادہ افراد مارے گئے ۔ Farc کا کہنا تھا کہ اس کی جدو جہد جائز اور قانونی تھی اور اُس نظام کو اکھاڑ پھینکنے کیلئے تھی جس کے تحت اب کولمبین حکومت جنگ کے متاثرین کو انصاف دلانے کی بات کر رہی ہے۔ مذاکرات میں سب سے زیادہ پیچیدہ بات ہی یہ تھی کہ جنگ میں مارے جانے والوں کے لواحقین کو انصاف کیسے دلایا جائے ، اِس نکتے پر مذاکرات کئی مرتبہ تعطل کا شکار ہوئے مگر بالآخر فریقین میں چند اصول طے پاگئے ۔ وہ اصول کچھ اِس طرح تھے کہ سب سے پہلے متاثرین کی شناخت کا عمل مکمل کیا جائے گا ، پھر اُن کے مجرمان کی نشاندہی ہوگی ، متاثرین کے حقوق کا تعین کیا جائے گا، ایک سچائی کمیشن بنا کر سچ کی پڑتال کی جائے گی، متاثرین کے لیے معاوضے کا تعین کیا جائے گا، آئندہ کیلئے اُن کےتحفظ اور سلامتی کی ضمانت دی جائےگی۔اِن تمام اصولوں پر عمل درآمد کے لیے ٹربیونل اور کمیشن قائم کیے گیے اور اِس امر کو یقینی بنایا گیا کہ متاثرین میں یہ احساس پیدا نہ ہوکہ ریاست نے باغیوں کے سامنے گھٹنے ٹیک کر اُن کے حقوق کا تحفظ نہیں کیا۔تاہم معاہدے کی اِن تمام شقوں کے باوجود کولمبیا کے عوام نے رائے شماری میں اسے رد کردیا۔کولمبیا سے پاکستان واپس آتے ہیں۔ آج کل یہاں بھی شدت پسندوں سے مذاکرات کی خبریں چل رہی ہیں ، ماضی میں بھی کئی مرتبہ طالبان سے مذاکرات ہو چکے ہیں اور وہ سب ناکام ہوئے ۔ ہاں یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ اِس قسم کے مذاکرات ایک صبر آزما عمل کے نتیجے میں ہی کامیاب ہوتے ہیں مگر یہاں معاملہ کافی مختلف ہے ۔پاکستان میں کوئی سیاسی جدو جہد نہیں کی جا رہی اور نہ ہی یہاں مسلح گروہ اتنے طاقتور ہیں کہ وہ نظام حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اِس قسم کے مذاکرات اُس صورت میں کیے جاتے ہیں جب ریاست باغیوں کے سامنے خود کو بے بس اور لاچار سمجھے اورمسلح جدو جہد کرنے والوں کے مطالبات بھی جائز نوعیت کے ہوں ۔ پاکستان کے کیس میں یہ دونوں شرائط پوری نہیں ہوتیں ۔ طالبان کے مطالبات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ، وہ آئینِ پاکستان کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ، وہ کسی ایسے نظام کا حصہ بننے کو تیار نہیں جو اُن کی تعبیر ِدین سے ذرہ برابر بھی مختلف ہو، وہ ماضی میں نہ صرف سیکورٹی اداروں، بے گناہ شہریوں بلکہ عورتوں اور بچوں کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں ۔ ایسے کسی مسلح گروہ سے مذاکرات کے ذریعے امن قائم کرنے کی مثال کم از کم حالیہ تاریخ میں تونہیں ملتی۔ اِس کے علاوہ بھی طالبان نے اِس بات کا کوئی عندیہ نہیں دیا کہ وہ ہتھیار پھینک کر سیاسی عمل کا حصہ بن جائیں گے ، انہوں نے تو فاٹا کو بحال کرکے وہاں اپنا قانون نافذ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے جس کا سیدھا سادا مطلب ہے کہ یہ علاقہ پاکستان سے کٹ کر باہرہو جائے گا ۔ رہی بات دہشت گردی کے متاثرین کی تو ان کا دور دور تک کوئی ذکر اذکار نہیں ، کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ نہتے شہریوں پر بم برسانے والوں کو عام معافی کیونکر دی جائے گی ۔بالفرض محال اگر وقتی جنگ بندی ہوبھی گئی تو اِس قسم کے مسلح گروہوں میں یہ ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ وہ سب گروہ ایک کمان کے تابع ہوکر امن معاہدے کی پاسداری کریں گے ۔ ماضی میں ایسا ہوچکا ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوگا۔یہ ملک بد ترین دہشت گردی کا دور دیکھ چکا ہے ، اِس دہشت گردی کو ختم کرنے میں ہمارےسیکورٹی اداروں کے جوانوں کا خون شامل ہے ، کیا یہ مسلح گروہ اتنے طاقتور ہیں کہ اِن سے خون کا حساب نہیں لیا جا سکتا ؟یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہمیں دینا ہے،توکیوں نہ یہ سوال ریفرنڈم کے ذریعے پوچھ لیا جائے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.