مذہبی کارڈ ہی تو سیاست کا حسن ہے

پیپلز پارٹی اگرچہ گذشتہ دنوں لاہور کے حلقہ این اے 133 کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کے بعد دوسرے نمبر پر رہی مگر اس نے اپنا ووٹ بینک پانچ ہزار سے بڑھا کر 35 ہزار ضرور کر لیا۔

کوئی اس کامیابی کا سبب ضمنی انتخاب میں تحریکِ انصاف کے امیدوار کی نااہلی کو قرار دے رہا ہے تو کوئی آصف علی زرداری کی سیاسی فراست کا نتیجہ بتا رہا ہے اور بطور فراستی نمونہ سوشل میڈیا پر پیپلز پارٹی کا وہ انتخابی پوسٹر دکھا رہا ہے جس میں ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی سی تصویر کے اوپر لکھا ہے ’لبیک یا رسول اللہ، مجاہدِ ختمِ نبوت شہید ذوالفقار علی بھٹو۔‘

ہماری سیاسی تاریخ سے ناواقف کچھ سادہ لوح صدمے میں ہیں کہ پیپلز پارٹی جو خود کو ترقی پسند سوچ کا دعویدار قرار دیتی ہے آخر کیوں پنجاب میں ایک مذہبی جماعت کا نعرہ چرا کر ووٹ اکٹھے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جبکہ سندھ میں یہی پارٹی حسبِ ضرورت قوم پرستی کی لاٹھی ٹیکنا شروع کر دیتی ہے اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں چاروں صوبوں کی زنجیر بن جاتی ہے۔

عرض یہ ہے کہ واہ واہ سمیٹنے کے لیے تو اصولی و نظریاتی سیاست بہت اچھی ہے مگر تساہل پسند اور شارٹ کٹس سے اٹے سیاسی کلچر میں راتوں رات ووٹ بینک دگنا کر کے کرسی تک پہنچنے کی دوڑ میں اصول اور نظریہ راستے میں ہی ہانپ کے گر پڑتے ہیں۔

جس طرح خوانچہ فروش دو وقت کی روٹی کے لیے موسم کا پھل اور سبزی بیچنے پر مجبور ہیں اسی طرح اقتداری خوانچہ فروشوں کا دھندہ بھی جیسا موسم ویسا پھل، جیسی جگہ ویسی بات، جیسا منھ ویسی چپیڑ، جیسا گاہک ویسا ریٹ کے اصول پر چلتا ہے۔

تم نے ہمارا دل خوش کیا ہم نے تمہارا دل خوش کیا، شکائیت کیسی۔

مذہب کو سیاست میں عموماً وہاں گھسیٹا جاتا ہے جہاں سیاست کا مقصد عوام کی خدمت کے بجائے خود خدمتی کا کاروبار ہوتا ہے۔ نئے آئیڈیاز کے ذریعے کون نیک نامی کمائے جب صدری مجربات اتنے ہی موثر ہیں جتنے کل تھے۔

سیاست میں مذہب کی ملاوٹ کرنے والوں کا خیال ہوتا ہے کہ پاک نظریے کے چند قطرے استعمال کر کے سیاست کو بھی پوتر بنایا جا سکتا ہے۔ انھیں یہ خیال تھوڑی ہوتا ہے کہ اس عمل سے وہ دراصل نظریے کو بھی نہ صرف ناپاک کر رہے ہیں بلکہ اگلی سیاسی پود کو یہی عمل اپنی مطلب براری کے لیے زیادہ شدت کے ساتھ جاری رکھنے کی راہ بھی دکھا رہے ہیں۔

گاندھی جی سیکولر بھی تھے اور رام راج بھی قائم کرنا چاہتے تھے۔ جناح صاحب سیکولر بھی تھے اور ایک ایسا وطن بھی بنانا چاہتے تھے جسے اسلام کے آفاقی اصولوں کے تجربے کی لیبارٹری بنایا جا سکے۔

ہندو مسلم ایکتا کے وکیل گاندھی جی کو یہ تھوڑی معلوم تھا کہ اسی برس بعد ان کی رام راجی لاٹھی ہندوتوائی اژدھا بن جائے گی۔ یا صاحبِ اخلاص جناح صاحب کو یہ علم تھوڑی تھا کہ وہ جس لیبارٹری میں ’دین میں کوئی جبر نہیں‘ کی آفاقی اسلامی تعلیم کی آزمائش کے خواہش مند ہیں وہی لیبارٹری ستر برس میں ہائی جیک ہو کر ایک بارود ساز فیکٹری بن جائے گی۔

انتخابی پوسٹر

ایوب خان نے بظاہر ملک کو سیکولر آئین دیا مگر 65 کی جنگ انڈیا کے بجائے ہندو بنئیے سے لڑی جس نے بقول ایوب خان دس کروڑ کلمہ گو مسلمانوں کو للکارا تھا۔ گویا یہ جنگ متحدہ پاکستان کی بائیس فیصد غیر مسلم پاکستانیوں کی تھی ہی نہیں؟

ستر کے انتخاب میں پیپلز پارٹی نے اسلام ہمارا دین ہے کے ساتھ جمہوریت ہماری سیاست ہے اور سوشلزم ہماری معیشت ہے کے تین مختلف پیغامات کو ایک ہی نعرے میں پرو کر اکثریت و اقلیت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کی۔

البتہ سب سے بڑے صوبے پنجاب میں پیپلز پارٹی نے جو انتخابی پوسٹر چھاپے ان میں جناح کیپ پہنوا کر، بائیں ہاتھ میں اسلام کا پھریرا تھموا کر، دائیں ہاتھ میں انتخابی نشان کو علی کی ذوالفقار قرار دے کر بھٹو صاحب کو صلاح الدین ایوبی کے گھوڑے پر سوار کروا کے انڈیا سے ہزار سال تک جنگ کے لیے روانہ کر دیا گیا۔

لوگ دیوانے ہو گئے اور فضا ’بھٹو جیوے صدر تھیوے‘ کے نعروں سے گونج اٹھی۔ جبکہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے مذہبی کارڈ کو قوم پرستی کے کارڈ سے بدل کر فتح کے ڈنکے پھاڑ دییے۔

بھٹو

جماعتِ اسلامی نے یومِ شوکتِ اسلام منانے اور بھٹو صاحب کی مسلمانی مشکوک قرار دینے کے باوجود صرف چار نشستیں جیتیں مگر مشرقی پاکستان میں وہ اسلام کا قلعہ بچانے کے لیے یحیٰی حکومت کی نظریاتی ساتھی بن گئی۔ جب ملک ٹوٹ گیا تو جماعت کے ہمنوا رسالوں اور اخبارات میں یحیٰی خان ’شرابی، کبابی، زانی‘ قرار پائے۔

بھٹو صاحب کا خیال تھا کہ ریاستی قانون سازی کے ذریعے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر وہ ووٹ بینک تاحیات مذہبی سیاسی جماعتوں سے چھین لیں گے۔ مگر 1977 کے آئین میں شامل مذہبی شقوں پر اظہارِ اطمینان کے باوجود صرف تین برس بعد پاکستان قومی اتحاد کی جماعتیں دوبارہ سڑکوں پر نظامِ مصطفی کے نفاذ کا نعرہ لگا رہی تھیں۔ لاہور کی اسلامی سربراہ کانفرنس، شراب پر پابندی اور جمعہ کی چھٹی بھی بھٹو صاحب کی پھانسی کو عمر قید میں نہ بدلوا سکی۔

لوگ کہتے ہیں سارا کیا دھرا ضیا الحق کا ہے۔ حالانکہ ضیا نے بس اتنا ہی تو کیا تھا کہ جو پودا ورثے میں ملا اسے برابر پانی دیتا رہا۔ حتیٰ کہ وہ ایسا گھنا برگد بن گیا جس کے سائے تلے آج تک کوئی متبادل بیانیہ نہیں پنپ سکا۔

لوگ کہتے ہیں کہ پاکستانی قوم مذہب پسند ضرور ہے مگر مذہبی جماعتوں کو اس نے کبھی برسراقتدار آنے کے قابل نہیں سمجھا۔سوال یہ ہے کہ جب مذہبی سیاسی جماعتیں اپنی غیر انتخابی طاقت کے ذریعے لیاقت علی خان سے عمران خان تک ہر حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی قوت رکھتی ہیں تو ان کا ووٹ بینک بڑھے نہ بڑھے کیا فرق پڑتا ہے۔

حالات جس ڈگر پر جا رہے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ حسبِ عادت جس طرح شیر کے ساتھ بھی دوڑ رہی ہے اور شکاری کے ہم قدم بھی ہے۔ مداری پن کی اس فضا میں شاید اگلے انتخابات میں یہ ارمان بھی نکل جائے کہ مذہبی سیاسی جماعتیں ہمیشہ کنگ میکر ہی بنی رہیں گی۔

مگر پاکستان کے معروضی حالات میں برسرِ اقتدار آنے کی اصطلاح کا اندھا دھند استعمال بھی غلط ہے۔ 1985 کے بعد سے یہاں شراکتِ اقتدار تو ممکن ہے۔ اقتدار کی مکمل منتقلی نہایت مشکل ہو گئی ہے۔

جس کے قبضے میں تاش کی گڈی ہے وہی بہتر جانتا ہے کہ بادشاہ کہاں جا رہا ہے، بیگم کس کے پاس ہے، اکا کسے ملا اور غلام کا پتہ کسے بٹا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.