Site icon Dunya Pakistan

مرحومہ اسما نبیل کے لکھے گئے آخری ڈرامے پر کام کا آغاز

رواں برس جولائی میں کینسر سے زندگی کی بازی ہارنے والی ڈراما نگار اسما نبیل کے لکھے گئے آخری ڈرامے پر کام شروع کردیا گیا۔

پروڈیوسر شازیہ وجاہت نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں تصدیق کی کہ ان کے پروڈکشن ہاؤس نے اسما نبیل کے لکھے گئے آخری ڈرامے پر کام کا آغاز کردیا۔

پروڈیوسر نے شوہر وجاہت رؤف اور ہدایت کار نجف بلگرامی کے ساتھ کھچوائی گئی تصاویر کو شیئر کرتے ہوئے لمبی اور جذباتی پوسٹ میں بتایا کہ مذکورہ ڈراما ان سب کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

شازیہ وجاہت نے بتایا کہ وہ جس ڈرامے کو مکمل کرنے جا رہے ہیں، اسما نبیل نے انہیں زندگی کے آخری ایام میں لکھا تھا اور وہ ڈراما ساز کے لیے انتہائی معنی خیز اسکرپٹ تھا۔

ان کے مطابق انہوں نے اسما نبیل کے ہمراہ مذکورہ ڈرامے کے اسکرپٹ پر جنوری 2020 میں کام کا آغاز کیا تھا۔

شازیہ وجاہت نے لکھا کہ مذکورہ ڈرامے کی آخری قسطیں لکھنے کے دوران ہی اسما نبیل ہم سے بچھڑیں مگر ان کا مشن مکمل کیا جائے گا۔

پروڈیوسر نے بتایا کہ اسما نبیل مذکورہ ڈراما لکھتے وقت متعدد مرتبہ جذباتی ہوکر رو پڑی تھیں اور انہیں بھی رلادیا تھا اور اب وہ کوشش کریں گے ایسے ہی مناظر ڈرامے میں شامل کرکے ان کا قرض ادا کیا جائے۔

شازیہ وجاہت کے مطابق اسما نبیل نے مذکورہ ڈراما لکھنے کو اپنی ذمہ داری اور مشن سمجھ کر مکمل کیا، جب کہ وہ انہیں کہتی رہتی تھیں کہ وہ اتنا پریشر نہ لیں۔

پروڈیوسر نے لکھاکہ ممکن ہے کہ اسما نبیل کو احساس ہو چکا ہو کہ ان کے پاس وقت کم ہے، اس لیے انہوں نے مشن سمجھ کر آخری ڈراما مکمل کیا، جسے نجف بلگرامی حقیقت کا روپ دے کر ڈراما ساز کا قرض ادا کریں گے۔

اگرچہ شازیہ وجاہت نے تصدیق کی کہ ڈرامے پر کام کا آغاز کردیا گیا لیکن انہوں نے اس کی کہانی سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کی اور فوری طور پر کاسٹ کے حوالے سے بھی کوئی اعلان نہیں کیا۔

خبریں ہیں کہ اسما نبیل نے آخری ڈرامے میں بریسٹ کینسر کے حوالے سے بھی کردار شامل کیے تھے اور اس موضی مرض سے متعلق شعور اجاگر کرنے کی کہانی کو بیان کیا تھا۔

اسما نبیل میں ابتدائی طور پر 2013 میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی تھی، چند سال زیر علاج رہنے کے بعد اسما نبیل نے کینسر کو تقریبا شکست دے دی تھی مگر بعد ازاں موضی مرض نے دوبارہ انہیں جکڑا اور وہ 2018 کے بعد دوبارہ زیر علاج رہیں۔

کینسر کے علاج کے دوران اسما نبیل اپنے سر کے بالوں سے بھی محروم ہوگئی تھیں لیکن اس کے باوجود وہ شوبز تقریبات میں دکھائی دیتی تھیں۔

کینسر میں مبتلا ہونے کے بعد اسما نبیل نے کینسر کی آگاہی، جلد تشخیص اور اس کے علاج کے حوالے سے بھی کئی تشہیری مہموں میں حصہ لیا جب کہ 2019 میں انہوں نے فیشن ڈیزائنر علی ذیشان کے ساتھ بھی ایک تشہیری مہم کی تھی۔

اسما نبیل نے 2019 میں علی ذیشان کے ساتھ گلابی رنگ کا دوپٹہ متعارف کرانے کی مہم میں حصہ لیا تھا، مذکورہ دوپٹے کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو شوکت خانم میموریل ہسپتال کو عطیہ کیا گیا تھا۔

ان کے مقبول ڈراموں میں ’خانی، باندی، دمسی، خدا میرا بھی ہے، دل کیا کرے اور سرخ چاندنی‘ سمیت دیگر شامل ہیں۔

اسما نبیل کینسر کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی تھیں—فائل فوٹو: فیس بک/ انسٹاگرام

Exit mobile version