مریم نواز اور ایون فیلڈ کیس: سپریم کورٹ، نیب کورٹ، نیب اور جے آئی ٹی سے غلطی ہوئی، مریم نواز کے وکیل کا دعویٰ

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے وکیل عرفان قادر نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ اُن کی مؤکلہ کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس ضابطے کے مطابق دائر نہیں کیا گیا اور اگر ضابطے پر عمل ہی نہ ہوا ہو تو احتساب عدالت کا کیس سننے کا دائرہ اختیار نہیں بنتا۔

انھوں نے کہا کہ اس کیس میں سپریم کورٹ سے پہلے غلطی ہوئی پھر نیب کورٹ سے، پھر نیب اور پھر جے آئی ٹی سے بڑی غلطی ہوئی۔

وہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں مریم نواز کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرینس کیس کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے لیے دائر کی گئی درخواست کے دوران دلائل دے رہے تھے۔

مریم نواز نے پانچ اکتوبر کو سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی تقریر، مرحوم سابق جج ارشد ملک کی ویڈیو اور دیگر شواہد کی بنا پر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے لیے متفرق درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی تھی۔

’یہ سیاسی انجینیئرنگ کا کیس ہے‘

سابق اٹارنی جنرل اور مریم نواز کے وکیل عرفان قادر نے کہا کہ اُن کی مؤکلہ کے خلاف یہ ’سیاسی انجینیئرنگ‘ کا کیس ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کیس ایسا ہے جس میں بہت سارے شکوک و شبہات موجود ہیں۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ نیب مریم نواز کی ضمانت منسوخ کر کے انھیں جیل بھیجنا چاہتا ہے جبکہ وائٹ کالر کرائم میں ملزم کو جیل بھیجنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب والے تو ہر ملزم کو جیل بھیجنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آج کل تو نیب ہر ایک کو پکڑ لیتا ہے، چاہے اس کے خلاف ثبوت ہو یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب تو نیب والے بھی تھانے کی طرح چلتے ہیں۔

مریم

مریم نواز کے وکیل کا کہنا تھا کہ تھوڑا بھی شک ہو تو اس کا فائدہ ملزم کو جاتا ہے، یہاں تو بہت سارے شکوک ہیں۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں میاں نواز شریف اور مریم نواز کے حوالے سے ایسی کوئی دستاویز موجود نہیں جس میں ہو کہ میاں نواز شریف کی اونرشپ ہے یا مریم نواز بینفیشل اونر ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بطور مالک میاں نواز شریف کا نام کہیں بھی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب مالک کا نام نہیں تو مریم نواز بینیفیشل اونر کیسے ہوئیں۔

عدالت کے استفسار پر نیب کے ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل مظفر عباسی نے بتایا کہ ایون فیلڈ کے چاروں فلیٹس نیلسن اور نیسکول نامی آف شور کمپنیوں نے لیے۔ انھوں نے کہا کہ برطانیہ سے جواب آیا تھا جس کے مطابق مریم نواز بینفیشل مالک ہیں۔

بینچ کے سربراہ جسٹس عامر فاروق نے نیب کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے نیب ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی ملکیت کی دستاویزات پیش کرے جس پر سردار مظفر عباسی کا کہنا تھا کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس نواز شریف نہیں بلکہ آف شور کمپنیوں کے نام ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ نواز شریف کا آف شور کمپنیوں سے تعلق کیسے جڑتا ہے، دستاویز دیں۔ اس پر نیب کے وکیل نے جواب دیا کہ نیلسن اور نیسکول کے ذریعے یہ اپارٹمنٹس خریدے گئے۔

عرفان قادر
،تصویر کا کیپشنمریم نواز کے وکیل عرفان قادر نے کہا کہ یہ ’سیاسی انجینیئرنگ‘ کا کیس ہے

بینچ کے سربراہ نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ ان آف شور کمپنیوں سے اپیل کنندگان کا تعلق کیسے بنتا ہے، جس پر نیب کے وکیل عدالت کو مطمئن نہ کر سکے۔

مریم نواز کے وکیل کا کہنا تھا کہ فوجداری مقدمے میں الزام ثابت کرنا استغاثہ کا کام ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایون فیلڈ کیس میں نواز شریف کو بے گناہی ثابت نہ کرنے پر سزا دی گئی۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ان کی مؤکلہ کو یہ سزا وراثت میں ملی ہے کیوں کہ نواز شریف کے خلاف تین ریفرنس بنا دیے گئے۔ انھوں نے کہا کہ اگر نواز شریف کے خلاف کوئی کیس نہیں بن رہا تو مریم نواز کے خلاف تو بنتا ہی نہیں۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ نیب سے پوچھیں کس فیملی کے خلاف پبلک آفس ہولڈر کے ریفرنس دائر کر دیے۔

انھوں نے کہا کہ پولیٹیکل انجینیئرنگ کے معاملے پر اگر عدالت کہے گی تو بات کروں گا۔

سابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس معاملے میں جے آئی ٹی بنانا چیئرمین نیب کا کام تھا لیکن سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے جے آئی ٹی تشکیل دی۔

انھوں نے کہا کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا تو کوئی کردار ہی نہیں مگر اُنھیں بھی مجرم بنا دیا گیا۔ عرفان قادر کا کہنا تھا کہ دوران ٹرائل اور بعد از ٹرائل کارروائیوں کے بارے میں بھی وہ عدالت کو آگاہ کریں گے۔

مریم نواز کے وکیل کا کہنا تھا کہ قبل از ٹرائل کارروائی سے مراد، نیب، سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی میں ہونے والی کارروائی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے خود کہہ دیا کہ میاں نواز شریف کے خلاف تین ریفرنس لازمی دائر کیے جائیں جبکہ ریفرنس دائر ہی چیئرمین نیب کی منظوری سے کیا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ

عرفان قادر نے بینچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتنی بڑی قانونی بے ضابطگی ہے اگر عدالت چاہے تو انھیں آج ہی تمام بری کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ اداروں سے متعلق کوئی بات ہو مگر کوئی چیز انصاف کے راستے میں بھی نہیں آنی چاہیے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر نیب کے وکیل کو اس درخواست پر دلائل دینے کی ہدایت کر دی۔

ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے لیے درخواست میں کیا ہے؟

مریم نواز نے دائر کی گئی متفرق درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ احتساب عدالت نے چھ جولائی 2017 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا سنائی، جو پاکستان کی تاریخ میں سیاسی انجینئرنگ اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کی کلاسک مثال ہے۔

درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بار سے خطاب کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ 'فاضل سابق جج نے کہا کہ چیف جسٹس کو اپروچ کیا گیا کہ ہمیں الیکشن تک نواز شریف اور ان کی بیٹی کو باہر نہیں آنے دینا۔ چیف جسٹس نے آئی ایس آئی والوں کو کہا کہ جس بنچ سے آپ مطمئن ہیں وہ بنچ بنا دیتے ہیں۔'

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی مرکزی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) عدالتی امور میں مداخلت کر رہی ہے۔

مریم نواز کا مؤقف ہے کہ جسٹس شوکت صدیقی نے بتایا کہ ڈی جی آئی ایس آئی نے ان سے 29 جون 2018 کو ملاقات کی۔

عمران خان، جنرل فیض، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

مریم نواز کے مطابق جسٹس شوکت صدیقی کے اس بیان سے عدالتی فیصلے کے غیر جانبدارانہ ہونے پر شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جج ارشد ملک کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی کہ ان پر نواز شریف کو سزا سنانے کے لیے بے حد دباؤ تھا۔

مریم نواز نے اپنی درخواست میں مزید کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے اس کیس میں تفتیش اور استغاثہ کی نگرانی کی، سپریم کورٹ نے ایک طرح سے اس کیس میں پورا عمل ہی کنٹرول کیا اور پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی ایسا کسی کیس میں نہیں کیا گیا۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا آئین میں کردار نہ تفتیش کار کا ہے نہ ہی پراسیکیوٹر کا اور اثاثوں کے الزام میں تین الگ ریفرنس دائر کرنا بھی قانون کی خلاف ورزی تھی۔

مریم نواز نے یہ بھی کہا ہے کہ نیب کے لیے لازم ہوتا ہے کہ وہ شفاف طور پر کارروائی کرے، ٹرائل کی ساری کارروائی اور ریفرنس فائل کرنے کے احکامات بھی دباؤ کا نتیجہ ہو سکتے ہیں لہٰذا عدالت قانون کی ان سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور انھیں تمام الزامات سے بری اور سزا کالعدم قرار دے۔

’ملک جادو ٹونے سے چلایا جا رہا ہے‘

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف نے وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئینی وزیر اعظم ہیں نہ منتخب اور ملک کو جادو ٹونے سے چلا رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ’مقدمات، گرفتاری اور جیل جانے سے نہیں ڈرتیں، ان کی ضمانت منسوخ کر کے انھیں گرفتار کریں تاکہ دنیا کو پتا چلے آپ کتنا ڈرتے ہیں؟‘

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کو کالعدم دینے کے مقدمے کی سماعت کے بعد انھوں نے عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیب نے میری ضمانت کی منسوخی کی درخواست دی ہے، اس درخواست گزار کا چہرہ قوم کو دکھایا جائے، میں نیب میں اپنے اس ہمدرد کو دیکھنا چاہتی ہوں۔ درخواست دینے والے کو 21 نہیں 22 توپوں کی سلامی دینی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ درخواست کو پڑھ کر لگا جیسے بچے ڈر رہے ہیں، درخواست دینے والا اتنا ذہین کون ہے۔ مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ گرفتاری سے ڈرتی ہوں نہ نیب سے، مجھے گرفتاری سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے ڈرانے والے کسی بھول میں ہیں۔

عمران خان

مریم نواز نے اس موقع پر حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کی اور الزامات عائد کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا اصول اور جمہوریت سے کوئی واسطہ نہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ عمران خان آئینی وزیراعظم ہیں نہ منتخب، (بلکہ) وہ سلیکٹڈ ہیں، عمران خان کے پاس عوام کا مینڈیٹ نہیں ہے اور وہ نواز شریف کے مینڈیٹ پر قبضہ کر کے بیٹھے ہیں۔

انھوں نے وزیر اعظم عمران خان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئین و قانون کے تحت حکومت کے معاملات چلانے کے بجائے جادو و ٹونہ اور حساب کتاب سے ملک چلا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 'ملک کے اہم اداروں کے سربراہوں کی تقرریاں جنتر منتر، طوطا فال اور جادو ٹونہ سے کی جاتی ہیں۔ یہ تقرریاں وہ نہیں بلکہ جنات کرتے ہیں۔'

’جو شخص جادو ٹونے اور جھاڑ پھونک سے حکومتی معاملات چلاتا ہو اور ملک کی اہم ترین تقرریاں جن کا پاکستان کی سلامتی سے براہ راست تعلق ہے، جادو ٹونے سے کرتا ہو، وزیر اعظم کی جگہ اہم ترین تقرریاں جنات کرتے ہوں، ان کی ٹائمنگ وہ طے کرتے ہوں تو ایسے حالات میں دنیا کے سامنے تماشا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔‘

انھوں نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 'اگر ان کا جنترمنتر اتنا ہی کامیاب ہے تو اسے عوام کی فلاح کے لیے استعمال کریں۔ آٹا سستا کریں، پیٹرول چینی سستی کریں۔'

صحافیوں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ اداروں اور جمہوریت کا مسئلہ نہیں بلکہ عمران خان کی جانب سے اپنی حکومت کو چند دن مزید طوالت دینے کا مسئلہ ہے۔

انھوں نے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام لیے بغیر کہا کہ وزیر اعظم ان کو اس سے اس عہدے پر رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ ان کے سیاسی مخالفین کو دبانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔

'نواز شریف بننے کی کوشش بھی نہ کریں'

ملک میں سول بالادستی اور جمہوریت کے متعلق ایک سوال میں ان کا کہنا تھا کہ آج وزیر اعظم عمران خان کو آئینی حق اور ووٹ کو عزت دو یاد آ گیا ہے۔ 'آپ کو نواز شریف بننے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔'

نواز شریف

ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف ایک سیاسی پہچان کے ساتھ ایک لمبی سیاسی جدوجہد کر کے آئے تھے، وہ عوامی مینڈیٹ کے ساتھ آئے تھے، جلاوطنی اور جیلیں برداشت کرکے آئے تھے، وہ اپنی حکومتوں کی قربانی دے کر آئے تھے۔

عمران خان کی سیاسی پہچان اور سیاسی تشخص کیا ہے۔ ان کی سیاسی پہچان منتخب وزیر اعظم اور منتخب حکومت کے خلاف سازش کرنا، 126 دن کا دھرنا دینا، منتخب حکومت کے مینڈیٹ کو چھیننا ہے۔ ان کا مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کہ اگر تحریک انصاف کی حکومت یہ سمجھتی ہیں کہ ان کی دور حکومت میں بدترین نالائقی، بد انتظامی اور کرپشن کے بعد وہ سیاسی شہید بننا چاہتے ہیں تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'آپ کو تاریخی بد انتظامی، کرپشن اور نالائقی کا جواب دینا پڑے گا۔ آپ کو ملک کو بلند ترین قرضے کے بوجھ تلے لانے کا جواب دینا پڑے گا۔ آپ اگر بدترین کارکردگی کو چھپانا چاہتے ہیں تو ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔'

اگر عمران خان کی حکومت کے خلاف کوئی غیر آئینی اقدام ہوتا ہے تو کیا مسلم لیگ ان کا ساتھ دے گی کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ خود غیر آئینی ہیں اور ان کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے۔

یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے چھ اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینٹ جنرل فیض حمید پر تنقید کی تھی اور الزامات عائد کیے تھے۔

جنرل فیض حمید پر تنقید و الزامات

انھوں نے الزام عائد کیا کہ 'جنرل فیض حمید نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی ایسا بینچ نہ بنے جو 2018 کے الیکشن سے پہلے نواز شریف صاحب اور مریم نواز کو ضمانت دے۔ کیونکہ اگر ضمانت دے دی اور انتخابات سے پہلے مریم نواز اور نواز شریف باہر آ گئے تو میری تو دو سال کی محنت خراب ہو جائے گی۔'

مریم نواز شریف نے لیفٹینٹ جنرل فیض حمید پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ درست ہے کہ کسی ایک فرد کی وجہ سے ادارے کا نام نہیں لینا چاہیے لیکن 'جب فرد واحد ادارے کے پیچھے چھپتا ہے تو کیا وہ ادارے کے وقار میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔'

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں میاں نواز شریف کو دس سال، مریم نواز کو سات سال جبکہ کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ایک سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملزمان کی درخواست پر ان سزاؤں کو معطل کر رکھا ہے۔

لندن کے علاقے پارک لین میں واقع ایون فیلڈ فلیٹس کے بارے میں مزید جانیے۔

جب مریم نواز سے سوال کیا گیا کہ انھوں نے جو اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں سابق جج جسٹس شوکت صدیقی کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس آئی پر الزام عائد کیا گیا ہے، کیا وہ اس سے دستبردار ہو گئی ہیں یا کوئی مصالحت ہوگئی ہے جس پر پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے، ابھی تو صرف ان کی درخواستوں کے تکنیکی معاملات پر بحث ہو رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر انھیں اس بارے میں اپنا مؤقف واضح کرنے کے لیے ایک اور درخواست دینی پڑی تو وہ اس سے بھی گریز نہیں کریں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: