مریم نواز: ’ایکسٹینشن کے گناہ میں شامل نہیں تھی‘، مسلم لیگ ن کی نائب صدر کے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی

پاکستانیِ پارلیمان میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے معاملے سے خود کو الگ کیے جانے کے بیان نے ایک بار پھر مسلم لیگ ن میں اختلافات کے خدشات کو تقویت بخشی ہے۔

مریم نواز نے جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا کے نمائندوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے ’گناہ‘ میں شامل نہیں تھیں۔

جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ ان کی جماعت نے تو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع دینے کے حق میں ووٹ دیا تھا تو اب وہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کی کیوں مخالفت کر رہی ہیں، مریم نواز کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب جاوید اقبال کی مدت ملازمت کے بارے میں وہ تبھی تبصرہ کریں گی جب یہ معاملہ ان کی جماعت کے سامنے آئے گا لیکن ’باقی کسی ایکسٹینشن میں، میں اس گناہ میں شامل نہیں ہوں۔‘

بعدازاں ایک صحافی نے جب یہی سوال دہرایا تو مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ اس سوال کا جواب دے چکی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے اگست 2019 میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین برس کی توسیع کر دی تھی تاہم سپریم کورٹ نے اس ضمن میں جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کو معطل کر دیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت اس ضمن میں چھ ماہ میں قانون سازی کرے۔

جنوری 2020 میں پارلیمنٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کر کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کر دی تھی اور اس وقت پاکستان مسلم لیگ نواز سمیت پارلیمان میں موجود حزب مخالف کی تمام جماعتوں نے اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مریم نواز کے اس بیان کے بعد اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز میں دو بیانیے موجود ہیں۔ مفاہمت کے بیانیے کے پیچھے میاں شہباز شریف ہیں جبکہ میاں نواز شریف جارحانہ یا مزاحمتی بیانیے کے حامی ہیں۔

تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ مریم نواز پہلے بھی اس حق میں نہیں تھیں کہ موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی جائے لیکن مزاحمتی بیانیے کی علامت سمجھے جانے والے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے حکم پر ہی ان کی جماعت نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

شہباز شریف، مریم نواز

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مریم نواز بھی خود کو مزاحمتی بیانیے کی علامت سمجھتی ہیں اس لیے بعض اوقات وہ اپنے والد سے بھی اختلاف کر جاتی ہیں۔

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی مفاہمتی بیانیے کی حامی ہے جبکہ اس جماعت کی تنظیمی اُمور کی نگرانی کرنے والے مزاحمتی بیانیے کی حامی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ لوگ اس جماعت کو ووٹ نواز شریف کے نام پر ہی دیتے ہیں۔

تاہم پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی محمود بشیر ورک کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت میں دو بیانیے نہیں ہیں بلکہ ایک ہی بیانیہ ہے تاہم یہ لوگوں پر ہے کہ وہ اس بیانیے کو کس تناظر میں لیتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کا بیانیہ صرف ووٹ کو عزت دینا اور اقتدار عوام کے نمائندوں کے حوالے کرنا ہے۔

انھوں نے آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ماضی میں کوئی ایسا کام ہوا ہے جس کو شاید پسندیدہ کی کیٹگری میں تو نہیں لیا جا سکتا تو ضروری نہیں ہے کہ اس کو دوبارہ دہرایا جائے۔

محمود بشیر ورک کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اداروں سے ٹکراؤ کے حق میں نہیں ہے اور ان کی جماعت کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ اقتدار حقیقی عوامی نمائندوں کے حوالے کیا جائے اور بااثر اداروں کا اثر و رسوخ ختم کر کے سویلین بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *