’مری میں اس سے بھی زیادہ برفباری ہوچکی ہے، بدانتظامی نے سانحے کو جنم دیا‘

اسلام آباد: اگر سرکاری محکمے اور مقامی اتنظامیہ بروقت کارروائی کرتی تو ہمیں مری میں اس پیمانے کا سانحہ نہیں دیکھنا پڑتا۔

 رپورٹ کے مطابق امدادی کارروائیوں میں رضاکاروں کے ایک گروہ کی سربراہی کرتے ہوئے قاری عبدالواجد عباسی نے کہا کہ ’یہ حکومت کی مکمل ناکامی اور صریح بدانتظامی تھی کہ محکمہ موسمیات کے انتباہات اور مسلسل برفباری کے باوجود کسی نے پہاڑی علاقے میں سیاحوں کی حالت دیکھنے کی زحمت نہ کی‘۔

یاد رہے کہ جمعہ کی شب مری کی سڑک پر برفباری کے باعث اپنی گاڑیوں میں پھنس کر بچوں سمیت 20 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

عبدالواجد عباسی نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر معاملہ منظرِ عام پر آجانے کے بعد پھنسے ہوئے مسافروں کو ہفتے کو نکالا جاسکتا تھا تو جمعہ کی شب ہی کوئی کارروائی کیوں نہ کی گئی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہیں اس سانحے کا علم سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ ’جب مجھے معلوم ہوا کہ لوگ پھنسی ہوئی کاروں میں وفات پاگئے ہیں تو میں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے اپنے دوستوں سے رابطہ کیا‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے رضاکاروں کا ایک گروپ تشکیل دیا، بسکٹس اور خشک میوہ جات خریدے اور پھنسی ہوئی کاروں کو نکالنے کے لیے بھوربن سے جھیکا گلی اور کلڈنہ آئے‘۔

رضاکار جھیکا گلی سے کلڈنہ پیدل سفر کرتے ہوئے آئے اور وہاں متعدد لوگوں کی مدد کی۔

عبدالواجد عباسی نے بتایا کہ ’جب تک ہم وہاں پہنچے بہت سے خاندانوں کو نکالا جاچکا تھا لیکن ہم نے سیاحوں کی ان کی کاروں سے نکلنے میں مدد کی‘۔

45 سالہ رضاکار کا مزید کہنا تھاکہ ماضی میں اس علاقے میں اس سے بھی زیادہ برفباری ہوئی ہے لیکن اس سال بدانتظامی کی وجہ سے سانحہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے یاد ہے کہ اکیسویں صدی کے اوائل میں مری میں اس سے بھی زیادہ برفباری ہوئی تھی، اس مرتبہ تو میں جھیکا گلی سے پیدل چل کر اپنے گھر پہنچ گیا‘۔

قاری عبدالواجد نے ریسکیو آپریشن میں فعال طریقے سے حصہ لینے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر اور کھانا فراہم کرنے پر مقامی آبادی کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ ’بڑی تعداد میں مقامی افراد نے مختلف علاقوں میں ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا اور سیاحوں کو کھانا اور سر چھپانے کی جگہ بھی فراہم کی، جبکہ کچھ ہوٹل مالکان نے بھی سیاحوں کو کھانا اور مفت قیام کی پیشکش کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تاہم ایسے ہی وقت میں کچھ ہوٹل مالکان نے صورتحال کا استحصال کیا اور ایک رات کے لیے فی کمرہ 20 ہزار روپے کرایہ بھی لیا۔

امدادی رضاکار نے مری کے نام نہاد ’مددگاروں‘ پر بھی تنقید کی جنہوں نے مالکان سے ہزاروں روپے لینے کے بعد ان کی پھنسی ہوئی گاڑیاں نکلوائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ زنجیروں اور دیگر آلات رکھنے والے لالچی لوگوں نے پھنسے ہوئے لوگوں سے ڈیل کرنے کے بعد ہی ان کی مدد کی، ایسے لوگ مری کے مہمان نواز لوگوں کے منہ پر دھبہ ہیں جنہوں نے برف میں پھنسی کاروں کو دھکا لگانے کے لیے 5 سے 20 ہزار روپے وصول کیے۔

خیال رہے کہ مری اور گلیات میں شدید برفباری کی پیش گوئی کے باوجود انتظامیہ نے جمعہ تک کوئی پیشگی اقدامات نہیں کیے۔

حکام نے برفباری کے 4 روزہ اسپیل کے دوران ایک لاکھ سے زائد گاڑیوں کو مری میں داخل ہونے کی اجازت دی جس کے نتیجے میں علاقے میں رش لگ گیا۔

دوسری جانب سرکاری محکموں نے جمعہ کی رات پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کی کوشش نہیں کی جس کے نتیجے میں 20 سے زائد سیاحوں کی اموات ہوئیں البتہ ہفتہ کے روز تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے ریسکیو آپریشن کیا گیا۔

error: