Dunya Pakistan

مسئلہ کشمیر: دو ملکوں کے سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل آکن لیک کے کیریئر کے وہ چار دن جن میں مسئلہ کشمیر پہلے پیچیدہ ہوا، پھر ناقابل حل

دو میل کی پہاڑیوں کے پیچھے چھپتے ہوئے سورج کا نظارہ دیدنی ہوتا ہے لیکن اس سے پہلے جب دھوپ اپنا رنگ بدل کر منظر کا حصہ بنتی ہے تو دیکھنے والا مبہوت ہو کر رہ جاتا ہے، کچھ ایسی ہی کیفیت پرتھوی ناتھ وانچو کی تھی۔

یہ نوجوان ریاست جموں و کشمیر کی حکومت کا ایک اہلکار تھا جو معمول کے دورے پر یہاں پہنچا اور فطرت کی دل کشی کو دل دے بیٹھا۔ وہ ابھی اس منظر میں کھویا ہوا تھا کہ اسے خوف میں ڈوبی ہوئی ایک چنگھاڑ سنائی دی۔

’دشمن آ گیا، دشمن آ گیا۔‘

یہ ڈاک بنگلے کا ایک ملازم تھا جو خوف، ہمدردی اور احساس ذمہ داری کی ملی جلی کیفیات میں اُس کی طرف بھاگا چلا آ رہا تھا۔

اُس کے شور اور آہ زاری سے پرتھوی ناتھ وانچو گڑبڑا کر رہ گئے اور اُنھوں نے گھبرا کر نلوچی گاؤں کے اُس پار کشن گنگا پل پر نگاہ ڈالی جس سے شعلے بلند ہو رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ ڈوگرہ گیریژن بے خبری میں پِٹ چکی ہے اور اس کے فوجی بلند پہاڑیوں کی چوٹیوں پر اپنے مورچوں سے محروم ہو کر پسپائی اختیار کر رہے ہیں۔

(اُس زمانے کے) شمال مغربی سرحدی صوبے (اور اس عہد کے صوبہ خبیر پختونخوا) سے متصل اس علاقے میں اسی صوبے سے آنے والا مسلح لشکر فاتحانہ انداز میں داخل ہو چکا تھا۔

یہ 22 اکتوبر1947 کی بات ہے۔ یہ واقعہ جو مؤرخ جوزف کوربل نے اپنی کتاب ’ڈینجر اِن کشمیر‘ میں بیان کیا ہے، اس کا ایک پس منظر تھا جس کی ابتدا برصغیر کی مشترکہ فوج کے سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل آکن لیک سے شروع ہوتی ہے، اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے ہوتی ہوئی آج کے کشمیر تک آن پہنچتی ہے۔

جس قبائلی لشکر نے ڈوگرہ فوجیوں کو یوں آن کی آن میں تتر بتر کیا تھا، وہ اُن واقعات کے ردعمل میں حرکت میں آیا تھا جن کا آغاز 15 اگست 1947 کو ہوا۔

سابق وزیر اعظم پاکستان چوہدی محمد علی نے اپنی کتاب ’ایمرجنس آف پاکستان (ظہورِ پاکستان)‘ میں لکھا ہے کہ 15 اگست 1947 کو جب انڈیا نے اپنا پہلا یوم آزادی منایا، تو ریاست جموں و کشمیر اور اس کے تمام صوبوں میں ’یوم پاکستان‘ منایا گیا۔

،تصویر کا کیپشنبرصغیر کی مشترکہ فوج کے سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل آکن لیک

بس اسی روز سری نگر اور دلی میں خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ مشرقی پنجاب کی مسلم اکثریتی ریاستوں کپور تھلہ اور پٹیالہ کے مہاراجے سری نگر پہنچے، ان ریاستوں کے غیر مسلم حکمرانوں نے آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا تھا، اس سے متعلق مہاراجہ کشمیر کو آگاہ کیا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ پوری ریاست میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا جس میں کافی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔

چوہدری محمد علی کے مطابق نسل کشی کی اس مہم میں ڈوگرہ فوج کے علاوہ آر ایس ایس کے مسلح جتھوں اور سکھوں نے بھی حصہ لیا۔ سرکاری حکم کے تحت ریاست کی اکثریتی آبادی سے اسلحہ لے لیا گیا اور یہ نہتے لوگ ریاستی فوج سمیت دیگر مسلح گروہوں کا نشانہ بن گئے۔ انھوں نے اس کتاب میں بعض اخبارات کے حوالے سے ان جانی نقصانات کے اعداد و شمار بھی درج کیے ہیں۔

کولکتہ (اس زمانے میں کلکتہ) کے ممتاز روزنامے ’دی سٹیٹس مین‘ کے ایڈیٹر این اسٹیفنز نے لکھا کہ ریاست جموں و کشمیر میں ان واقعات کا آغاز اگست میں ہوا اور یہ واقعات آئندہ گیارہ ہفتوں تک جاری رہے جن میں ریاست پٹیالہ اور کپور تھلہ کے قتل عام کی طرح یہاں بھی خون ریزی ہوئی، جس میں پانچ لاکھ افراد ہلاک کر دیے گئے جبکہ لاپتہ ہونے والے دو لاکھ سے زائد تھی۔

اخبار ٹائمز لندن نے 10 اکتوبر 1947 کی اشاعت میں لکھا کہ اس عرصے کے دوران ہلاک ہونے والے مسلمانوں کی تعداد دو لاکھ 37 ہزار تھی۔

ان واقعات کا ردعمل دو طرح سے سامنے آیا۔

ڈوگرہ فوج کی کارروائیوں کے خلاف ضلع پونچھ کے علاقوں میں اگست 1947 میں ہی لوگ اُٹھ کھڑے ہوئے۔ صورتِ حال اتنی خراب ہو گئی کہ ان لوگوں کے پاس کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ اپنے اہل و عیال کو پنجاب میں بکھرے ہوئے اپنے رشتے داروں کی پناہ میں دے کر جوابی کارروائی شروع کر دیں۔

کسی باقاعدہ فوج سے جنگ ان کے لیے مشکل نہ تھی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ان لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو دوسری عالمی جنگ میں شرکت کا موقع ملا تھا۔ ان لوگوں نے سردار عبد القیوم خان کی قیادت میں متحد ہو کر جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں آئندہ چھ ہفتوں کے دوران وہ میرپور سمیت دیگر بہت سے علاقوں سے ڈوگرہ فوج کو نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔

جوزف کوربل لکھتے ہیں کہ وزیرستان کے محسود اور آفریدی قبائل تک مسلمانوں کی خونریزی کی داستانیں اور پونچھ کے عوام کی طرف سے مزاحمت کی خبریں پنجاب سے ہوتے ہوئے اِن تک پہنچیں تو وہاں کے لوگوں نے ’اپنے مسلمان بھائیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا اور لشکر کی صورت میں سری نگر کی طرف روانہ ہو گئے۔‘

،تصویر کا کیپشنتاریخ دان جوزف کوربل کے مطابق وزیرستان کے محسود اور آفریدی قبائل تک مسلمانوں کی خونریزی کی داستانیں پہنچیں تو وہاں کے لوگوں نے اپنے مسلمان بھائیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا

چوہدری محمد علی نے لکھا ہے کہ یہ قبائلی 26 اکتوبر تک سری نگر کے مضافات میں پہنچ چکے تھے ’لیکن ان کی روانگی کی اطلاع حکومت پاکستان کو نہیں تھی۔‘ بس یہی واقعہ تھا جو اونٹ کی کمر پر تنکا ثابت ہوا اور انڈیا نے ریاست اور خاص طور پر سری نگر میں اپنی فوج اُتار دی۔ ان کا موقف ہے کہ ’اس موقع پر اگر دونوں ملکوں کے مشترکہ سپریم کمانڈر آکن لیک نے اپنی غیر جانب داری ترک نہ کی ہوتی تو تاریخ مختلف ہوتی۔‘

زاہد محمود نے اپنی کتاب ’پاک بھارت تنازع اور مسئلہ کشمیر کا آغاز' میں لکھا ہے کہ بانی پاکستان اور گورنر جنرل محمد علی جناح تک سری نگر میں انڈین فوج کے اترنے کی خبر اگلے روز یعنی 27 اکتوبر کو پہنچی تو انھوں نے پاکستان کی مسلح افواج کے برطانوی قائم مقام کمانڈر ان چیف جنرل سر ڈگلس گریسی کو ہدایت کی کہ وہ فوج کو فوری طور پر متحرک کر کے پہلے راولپنڈی، سری نگر روڈ کے درے اور اس کے بعد درہ بانہال یعنی سری نگر جموں روڈ پر قبضہ کر کے انڈین فوج کے مواصلاتی رابطے منقطع کر دیں۔

گورنرجنرل نے انھیں جو احکامات دیے تھے، جنرل گریسی انھیں عملی جامہ پہنانے کے بجائے ٹیلی فون پر دونوں ملکوں کی فوج کے سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل سر کلاؤڈ آکن لیک تک پہنچا دیے۔ چوہدری محمد علی کے مطابق ایسا کر کے انھوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا تھا۔

اس سلسلے میں وی پی مینن نے اپنی کتاب ’دی سٹوری آف انٹی گریشن آف دی انڈین سٹیٹس‘ میں لکھا کہ جنرل گریسی نے ان سے کہا تھا کہ وہ سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل آکن لیک کی اجازت کے بغیر کسی کارروائی کے مجاز نہیں۔

زاہد محمود دعویٰ کرتے ہیں کہ انڈین فوج کی چھاتہ بردار بریگیڈ کو دیا جانے والا حکم 26 اکتوبر ہی کو پاکستانی فوج نے سن لیا تھا جس سے جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) راولپنڈی کو بھی آگاہ کر دیا گیا لیکن کیا وجہ تھی کہ فوج کے قائم مقام سربراہ جنرل گریسی نے اس کی خبر بانی پاکستان تک نہ پہنچائی، حالاںکہ اُس روز وہ لاہور میں ہی تھے۔ اس اہم سوال کا جواب بعد میں پیش آنے والے واقعات سے ملتا ہے۔

فیلڈ مارشل آکن لیک نے جنرل گریسی کو کارروائی سے روک دیا، اگلے روز خود لاہور پہنچ گئے اور بانی پاکستان سے ملاقات کی۔ انھوں نے بانی پاکستان کے سامنے تجویز پیش کی کہ پاکستان اور انڈیا کے گورنر جنرلز اور وزرائے اعظم کی کانفرنس منعقد کر کے مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کر لیا جائے۔

بانی پاکستان نے یہ تجویز قبول کر کے فوجی کارروائی کا حکم واپس لے لیا۔ انڈیا کے گورنر جنرل ماؤنٹ بیٹن بھی اس تجویز سے متفق ہو گئے لیکن سردار پٹیل نے اس کی مخالفت کر دی، اور وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی اس اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا۔

طے پایا تھا کہ یہ کانفرنس 29 اکتوبر کو لاہور میں ہو گی لیکن یہ کانفرنس آئندہ کبھی نہ ہو سکی۔ اس کا سبب کیا تھا، اس سوال کاجواب لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی سرگرمیوں سے ملتا ہے جو یکم نومبر کو اگرچہ لاہور آ تو گئے تھے لیکن اس سے حالات کو بہتر بنانے میں کوئی مدد نہ مل سکی۔

وی پی مینن نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اس کانفرنس کی تجویز بانی پاکستان نے پیش کی تھی لیکن سردار ولبھ بھائی پٹیل، نہرو اور ماؤنٹ بیٹن کے لاہور جانے کے مخالف تھے، ان کا کہنا تھا کہ جارحیت پاکستان کی طرف سے ہوئی ہے، اس لیے ’مسٹر جناح کو دلی آنا چاہیے۔‘ یوں یہ کانفرنس کبھی منعقد نہ ہو سکی۔

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے لیے لاہور نہیں گئے تھے

چوہدری محمد علی کے مطابق کشمیر کے انڈیا سے الحاق کے لیے کانگریسی قیادت نے ایک طویل المیعاد حکمت عملی اختیار کر رکھی تھی اور وہ چاہتے تھے کہ اس معاملے کو حیدر آباد دکن کے انضمام کے فیصلے تک نہ چھیڑا جائے۔ اس کے پس پشت ایک حکمت یہ تھی کہ حیدر آباد دکن ہندو اکثریتی ریاست تھی جس کے حکمراں مسلمان تھے جب کہ کشمیر مسلم اکثریتی ریاست تھی جس کے حکمراں ہندو تھے۔

کانگریس نہیں چاہتی تھی کہ حیدر آباد کے تصفیے سے پہلے مہاراجہ کشمیر انڈیا سے الحاق کرے، ایسی صورت میں مسلم اکثریتی ریاست کے انڈیا سے انضمام کا دعویٰ کمزور ہو جاتا اور امکان پیدا ہو جاتا کہ حکمران کے مذہب کی بنیاد پر انضمام کی نظیر پر عمل کرتے ہوئے نظام حیدر آباد پاکستان سے الحاق کا اعلان کر دیتے، لہٰذا اس منصوبے کے پیش نظر کانگریسی قیادت نے کشمیر کے بارے میں خاموشی اختیار کیے رکھی، البتہ الحاق کے سلسلے میں مہاراجہ سے خفیہ مفاہمت پر کام جاری رکھا۔ چوہدری محمد علی کے مطابق گاندھی جی کا دورہ سری نگر بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔

کشمیری قوم پرست سبز احمد بھاٹ نے اپنے تحقیقی مقالے میں ایک انڈین مؤرخ رام چند گوہانی کے حوالے سے لکھا ہے کہ گاندھی جی کے دورہ کشمیر کے دو مقاصد تھے، پہلے نمبر پر شیخ عبداللہ کی رہائی اور دوسرے انضمام کے سلسلے میں کشمیری عوام کے جذبات سے آگاہی حاصل کرنا۔

بھاٹ کے مطابق شیخ عبداللہ کی رہائی سے متعلق گاندھی درست انداز میں سوچ رہے تھے کیونکہ کشمیر میں ایک وہی تھے جو یہاں کے لوگوں میں اتحاد قائم کر سکتے تھے۔ ایک اور مصنف او پی شرما نے لکھا ہے کہ شیخ عبد اللہ امید کی سب سے بڑی کرن اس لیے تھے کہ انھوں نے حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے مسٹر جناح کے دو قومی نظریے کو مسترد کر دیا تھا۔

،تصویر کا کیپشنبھاٹ کے مطابق شیخ عبداللہ کی رہائی سے متعلق گاندھی درست انداز میں سوچ رہے تھے کیوں کہ کشمیر میں ایک وہی تھے جو یہاں کے لوگوں میں اتحاد قائم کر سکتے تھے

چوہدری محمد علی کے مطابق صرف انڈین حکومت قبائلیوں سے مقابلے کے لیے فوجی کارروائی کے لیے بے چین تھی اور فوری طور پر کوئی کارروائی کرنا چاہتی تھی۔

وی پی مینن لکھتے ہیں کہ کشمیر میں صورت حال خراب ہو چکی تھی، مظفر آباد میں ڈوگرہ فوج میں شامل مسلمان فوجی اپنے کمانڈر لیفٹننٹ کرنل اور اس کے عملے کو قتل کر کے حملہ آور قبائلی جتھے میں شامل ہو چکے تھے۔

ان کے مطابق ان جتھوں کی قیادت باقاعدہ فوجی کر رہے تھے اور وہ بھاری اسلحے سے لیس تھے۔ چوہدری محمد علی کے مطابق قبائلی لشکر غیر منظم اور غیر پیشہ ورانہ انداز میں آگے بڑھ رہا تھا، وہ لکھتے ہیں کہ ’قبائلی اگر منظم ہوتے اور مال غنیمت جمع نہ کرنے لگ جاتے تو 26 اکتوبر کو سری نگر ان کے قبضے میں ہوتا۔‘

وی پی مینن کے مطابق یہ پس منظر تھا جس میں مہاراجہ ہری سنگھ نے 24 اکتوبر کو مدد کی باقاعدہ درخواست کی لیکن لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا خیال تھا کہ جب تک اصل صورت حال سے واقفیت نہ ہو جائے، کوئی قدم اٹھانا مناسب نہ ہو گا، چناںچہ حالات کا جائزہ لینے کے لیے وی پی مینن کو کشمیر بھیجا گیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب وہ سری نگر اترے تو وہاں قبرستان جیسی خاموشی تھی، فوج اور پولیس منتشر ہو چکی تھی اور شہر کا انتظام نیشنل کانفرنس کے ڈنڈا بردار رضا کار چلا رہے تھے۔

یہ صورت حال دیکھ کر وی پی مینن نے مہاراجہ کو خاندان سمیت جموں منتقل ہونے کا مشورہ دیا اور خود دلی پہنچ کر دورے کی رپورٹ پیش کی لیکن ماؤنٹ بیٹن اب بھی کارروائی کرنے پر تیار نہیں تھے، ان کا کہنا تھا کہ جب تک انضام نہیں ہو جاتا، کارروائی نہیں ہو سکتی، چناںچہ وی پی مینن نے فوراً جموں جا کر مہاراجہ سے انضمام کی دستاویز دستخط لے کر انھیں دلی پہنچایا۔

وہ لکھتے ہیں کہ اب کارروائی کے راستے میں حائل رکاوٹ دور ہو چکی تھی۔ 26 اکتوبر سے ہی فوجی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔

چوہدری محمد علی کا اس پر اعتراض یہ ہے کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے 27 اکتوبر کو انضمام کی دستاویز پر دستخط کیے تھے، اس لیے کارروائی کا ایک دن پہلے شروع ہونے کا کوئی جواز نہ تھا۔ تاریخوں کے اسی فرق سے وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ انڈین حکومت کشمیر پر قبضے کے لیے پہلے سے ہی تیار تھی، صرف اعتراض دور کرنے کے لیے کاغذی کارروائی کی رسم پوری کی گئی۔ زاہد محمود نے پاکستانی فوج کے کمانڈر ان چیف جنرل فرینک میسروی کے حوالے سے بھی ایسی ہی بات لکھی ہے۔

چوہدری محمد علی نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے عملے میں شامل ایک اعلیٰ افسر کے حوالے سے لکھا ہے کہ الحاق کی دستاویز پر دستخط کرتے ہی لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے گورنر جنرل کی قبا اتار پھینکی اور کمانڈر ان چیف کا چولا پہن لیا۔ ایک مصنف آئن سٹیفنز نے لکھا کہ اس مرحلے پر گورنمنٹ ہاؤس انڈیا جنگ زدہ دفتر کا ماحول پیش کر رہا تھا جبکہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن اس جنگ کے پرعزم سپہ سالار دکھائی دیتے تھے۔

اس صورت حال پر مؤرخین کئی سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا وجہ تھی کہ کشمیر میں فوج اتارنے سے پہلے کسی کو، خاص طور پر مشترکہ فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل آکن لیک کو خیال ہی نہ آیا کہ ان کے کاندھوں پر دو ملکوں کی ذمہ داری ہے اور معاملات یک طرفہ شکل اختیار کر چکے ہیں۔ نہ کسی نے یہ سوچا کہ حکومت پاکستان سے بات کر کے بحران کو حل کر لیا جائے۔

لارڈ برڈوڈ لکھتے ہیں کہ اگر نہرو ایسا نہیں چاہتے تھے تو خود لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو کس نے روکا تھا؟ جوزف کاربل سوال اٹھاتے ہیں کہ انڈین قیادت کو ماؤنٹ بیٹن نے آخر یہ مشورہ کیوں دیا کہ کشمیر میں فوج اتارنے سے قبل الحاق بہت ضروری ہے؟ وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ انھیں اس سلسلے میں پہلے پاکستان سے مشورہ کرنا چاہیے تھا، دوسری صورت میں اقوام متحدہ کا رُخ کرنا چاہیے تھا۔ یعنی انضمام پر زور فوجی کارروائی کا جواز پیدا کرنے کے لیے تھا۔

،تصویر کا کیپشناس تصویر میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن (بائیں جانب) لیاقت علی خان (درمیان) سے مل رہے ہیں جبکہ ان کی دائیں جانب مشترکہ فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل آکن لیک ہیں

لارڈ ماؤنٹ بیٹن کشمیر سے پہلے الحاق پر زور کیوں دے رہے تھے؟

چوہدری محمد علی کے مطابق اس کا راز اس وقت کھلا جب فیلڈ مارشل آکن لیک نے 28 اکتوبر کو لاہور میں بانی پاکستان سے ملاقات کی اور پاکستان کی طرف سے انڈین فوج کی مداخلت کے اعتراض پر انھوں نے کہا کہ اس کارروائی کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا کیوںکہ مہاراجہ نے انڈیا کے ساتھ الحاق کر لیا ہے اور وہ بالکل قانونی اور جائز اقدام ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان فوجی کارروائی نہیں کر سکتے۔ ان کے اس استدلال پر اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ پاکستان اور انڈیا، دونوں کا ملکوں کا سپریم کمانڈر ہونے کے باوجود انھوں نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے اقدامات کی تائید تو بلاتردد کر دی لیکن پاکستان کے مؤقف کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔

زاہد محمود کے مطابق اس ملاقات میں فیلڈ مارشل آکن لیک کا ایک اور تضاد بھی سامنے آیا۔

27 اکتوبر کو الحاق کی دستاویز پر دستخط ہونے سے پہلے 26 اکتوبر اور اس رات انڈین فوج کے آپریشن کے لیے برطانوی فوجی ساری رات سرگرم عمل رہے تھے۔ انڈین فوجیوں کی نقل و حرکت کی نگرانی ایک انگریز جنرل ڈڈلے رسل کر رہے تھے۔ یہ سب کچھ ظاہر ہے کہ ان کے علم میں رہا ہو گا لیکن فیلڈ مارشل نے الحاق سے پہلے ہونے والی ان سرگرمیوں پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔

کشمیر برصغیر کی تقسیم کے بعد کشمیر کے انضمام کے لیے ہر فریق نے اپنے اپنے انداز میں کام کیا اور اس سلسلے میں مختلف وقتوں میں مختلف کردار متحرک ہوئے، ایک پیشہ ور فوجی کمانڈر کی حیثیت سے فیلڈ مارشل آکن لیک ان تمام سرگرمیوں میں کہیں دکھائی نہیں دیتے تو یہ ان کے ان کے منصب کے عین مطابق ہے۔

لیکن تاریخ ان سوالوں کے جواب فراہم نہیں کرتی کہ کشمیر کے الحاق سے پہلے فوجی کارروائی کی اجازت انھوں نے کیسے دے دی؟ اور یہ کہ دو ملکوں کا کمانڈر ان چیف ہونے کے باوجود انھوں نے ایک ملک کے مفادات کا خیال رکھا، اسی ملک کے گورنر جنرل کے احکامات پر عمل کیا اور دوسرے ملک کے گورنر جنرل کے احکامات کو نظر انداز کر دیا۔

تاریخی اور ایک اعتبار سے بدقسمت واقعے کے ٹھیک ایک ماہ اور چار دن کے بعد وہ دونوں ملکوں کے سپریم کمانڈر کے منصب سے سبکدوش ہو کر برطانیہ روانہ ہو گئے۔

اس طرح 26 اکتوبر کو ان کی قیادت میں ہونے والی فوجی کارروائی کی وجہ سے کشمیر کے مسئلے میں جو پیچیدگی پیدا ہوئی تھی، 30 نومبر کو ان کی رخصتی کے وقت تک مزید پیچیدہ ہو کر ناقابل حل بن چکی تھی۔

Exit mobile version