مسجد اور یہودیوں کی عبادت گاہ پر حملے میں ملوث شخص کو دوسری مرتبہ عمر قید

کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملے سے متاثر ہو کر مسلمانوں اور یہودیوں کی عبادت گاہ پر حملے کے ساتھ ساتھ خاتون کو قتل کرنے کے الزام میں 22سالہ امریکی شہری کو دوسری مرتبہ عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق سفید فاموں کی بالادستی کے قائل امریکی شہری نے جنوبی کیلیفورنیا میں 2019 میں مسجد کو آگ لگانے کے 3ماہ بعد یہودیوں کی عبادت گاہ میں فائرنگ کر کے ایک خاتون کو ہلاک اور تین کو زخمی کردیا تھا ، انہیں تین ماہ قبل بھی حملے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی اور اب دوسری مرتبہ یہ سزا سنائی گئی ہے۔

عدالت میں ملزم جان ٹی ارنیسٹ نے کہا کہ ان کے موکل بات کرنا چاہتے ہیں لیکن جج نے انہیں اجازت دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ نفرت آمیز تقریر کے لیے پلیٹ فارم فراہم نہیں کر سکتے۔

ملزم کے وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکل تسلیم کرتے ہیں ان کا عمل نامناسب تھا اور وفاقی پراسیکیوٹر نے ان کے اس بیان کا خیرمقدم کیا۔

امریکی ڈسٹرکٹ جج اینتھونی بٹاگلیا نے کہا کہ وفاق اور ریاست کی جانب سے دی جانے والی عمر قید کی سزائیں بیک وقت نہیں چلیں گی بلکہ ایک سزا ختم کے بعد دوسری سزا کی مدت شروع ہوگی اور اس کا مقصد سخت پیغام دینا ہے۔

اس موقع پر ملزم کو اسٹیٹ کی جیل میں رکھنے کی درخواست کی گئی لیکن جج نے ملزم کے وکیل کی یہ درخواست بھی مسترد کردی۔

دو گھنٹے کی سماعت کے دوران ملزم ارنیسٹ بالکل خاموش کھڑے رہے اور آج سزا سنائے جانے کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی اختتام پذیر ہو گئی ہے۔

رواں سال ستمبر میں محکمہ انصاف نے ملزم کو سزائے موت نہ دینے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ملزم نے ان نفرت آمیز جرائم کے ارتکاب کا اقرار کر لیا تھا اور پراسیکیوٹر نے انہیں 30سال سے زائد مدت کی عمر قید دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

عدالت نے مسجد کو آگ لگانے اور یہودی عبادت گاہ پر حملے کے ساتھ ساتھ قتل کے الزام میں ملزم کو 137 قید سمیت ناقابل ضمانت عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

جس وقت یہودی عبادت گاہ پر حملہ کر کے فائرنگ کی گئی اس وقت وہاں مصر میں غلامی کی یاد میں ایک ہفتہ طویل تقریبات جاری تھیں۔

ملزم نے فائرنگ کے بعد 911 پر کال کرکے عباد گاہ میں فائرنگ کے حوالے سے آگاہ کیا تھا اور جب ایک افسر اسے گرفتار کرنے کے لیے پہنچا تو اس نے گاڑی سے نکل کر گرفتاری دے دی تھی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 27اپریل 2019 کو حملے سے قبل ملزم نے یہودی مخالف پوسٹ آن لائن شیئر کی تھی۔

حملے سے ایک دن قبل انہوں نے سین ڈیاگو میں قانونی طور پر ایک نیم خودکار رائفل خریدی تھی اور جب وہ یہودی عبادت خانے میں داخل ہوئے تو رتائفل میں 10 گولیاں لوڈڈ تھیں جبکہ 50 گولیاں ان کے پاس اضافی موجود تھیں۔

البتہ گولیاں ختم ہونے پر وہ انہیں دوبارہ لوڈ کرنے میں ناکام رہے تھے اور جائے واردات سے فرار ہو گئے تھے جس کے بعد لوگوں نے ان کا پیچھا بھی کیا تھا۔

اس حملے میں 60سالہ خاتون ہلاک ہو گئی تھیں جن کو تین گولیاں لگی تھیں جبکہ ایک ربی سمیت تین افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

ارنیسٹ پر اس واقعے سے ایک ماہ قبل ایک مسجد کو بھی آگ لگانے کا بھی الزام لگا تھا۔

امریکی اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے کہا کہ اس ملک میں تمام لوگوں کو کسی حملے کے خوف کے بالاتر ہو کر مذہب پر آزادانہ طور پر عمل کرنے کی آزادی ہونی چاہیے، ملزم کا یہ جرم ہماری قوم کے بنیادی اصولوں پر حملہ تھا۔

فائرنگ کے بعد ملزم کے والدین نے صدمے اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیٹوں کے عمل کو خوفناک معمہ قرار دیا اور کہا کہ ہمارے لیے بڑی شرم کی بات ہے کہ وہ اب تاریخ کے انچ بدترین کرداروں میں سے ایک ہے جو صدیوں سے یہودیوں پر ظلم کا ارتکاب کررہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.