مسز سری لنکا 2021: ’مسز ورلڈ‘ کیرولین جوری کو ’مسز سری لنکا‘ کو زخمی کرنے کے الزام میں سری لنکن پولیس نے گرفتار کر لیا

سری لنکا کی پولیس نے مسز ورلڈ کیرولین جوری کو ملک کے سب سے بڑے مقابلہِ حسن کے دوران سٹیج پر لڑائی کے بعد اس سال کی فاتح حسینہ کو مبینہ طور پر زخمی کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

سنیچر کو سری لنکا کے سرکاری ٹی وی پر دکھائے گئے مسز سری لنکا کے مقابلہ حسن میں مسز ورلڈ کیرولین جوری نے فاتح پشپیکا ڈی سلوا کو تاج پہنایا تھا۔ لیکن پشپیکا کو تاج پہنائے جانے کے کچھ ہی لمحوں بعد 2019 میں یہ مقابلہ جیتنے والی کیرولین جوری نے پشپیکا سے ان کا تاج چھین لیا اور دعویٰ کیا کہ ان کو طلاق ہو گئی ہے لہذا انھیں یہ اعزاز نہیں دیا جاسکتا۔

کیرولین جوری نے پشپیکا ڈی سلوا سے ان کا تاج چھینے کے بعد انتظامیہ کو مقابلے کا وہ قانون یاد کروایا تھا جس کے مطابق مقابلے میں حصہ لینے والی خاتون کو ’شادی شدہ ہونا چاہیے، طلاق یافتہ نہیں‘۔

اس جھگڑے کے دوران پشپیکا کے سر پر چوٹیں آئیں تھی۔

اس مقابلہ حسن کے دوران سٹیج پر ہوئی لڑائی میں ملوث ایک اور سری لنکن ماڈل کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس ترجمان اجتھ روہانا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پولیس نے کیرولین جوری اور ماڈل چولا پدمیندرا کو اتوار کے واقع میں جھگڑا کرنے اور زخمی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔‘

سری لنکا
،تصویر کا کیپشنایک ویڈیو میں کیرولین جوری کو رنر اپ (دوسرے نمبر پر آنے والی خاتون) کے سر پر تاج رکھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

یاد رہے کہ اتوار کو اس مقابلہ حسن کے ججز نے کولمبو کے ایک تھیٹر میں مسز سری لنکا کے فائنل میں پشپیکا ڈی سلوا کو 2021 کی فاتح قرار دیا تھا۔

اس مقابلے کے منتظمین نے پشپیکا ڈی سلوا سے معافی مانگی اور تصدیق کی کہ وہ طلاق یافتہ نہیں ہیں۔ پشپیکا ڈی سلوا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شوہر سے الگ ہو گئی تھیں تاہم وہ طلاق یافتہ نہیں ہیں۔

انھوں نے بعدازاں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’سری لنکا میں میری طرح کی بہت سے سنگل مائیں ہیں جنھیں بہت کچھ سہنا پڑ رہا ہے۔ یہ تاج ایسی خواتین کے نام کرتی ہوں جنھیں اپنے بچوں کی اکیلے پرورش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ وہ ’اس ہتک آمیزانہ اور غیر مناسب رویے‘ کے خلاف جس کا انھیں سامنا کرنا پڑا قانونی کارروائی کریں گی۔

شو کے بعد سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسز جوری نے وہاں پر موجود شائقین سے کہا کہ ’اس مقابلے میں ایک قانون ہے، جو یہ کہتا ہے کہ حصہ لینے والی کی شادی ہوئی ہو اور وہ طلاق یافتہ نہ ہو۔ لہذا میں ایک ایسا قدم اٹھا رہی ہوں جس سے یہ تاج دوسرے نمبر پر آنے والی خاتون کو ملے گا۔‘

انھوں نے تاج دوسرے نمبر پر آنے والی خاتون کے سر پر رکھ دیا۔ یہ سب کچھ دیکھنے، سننے اور سہنے کے بعد پشپیکا ڈی سلوا آبدیدہ ہو کر سٹیج سے چلی گئیں۔

منگل کو پولیس نے سری لنکا کے مسز سری لنکا مقابلہ حسن کے مہتمم اعلیٰ چندیمل جیاسنگھے اور مسز کیرولین جوری سے واقعے کے متعلق پوچھ گچھ کی ہے۔

مسز پشپیکا ڈی سلوا کو مقابلہ حسن کا فاتح قرار دیا جا چکا ہے اور اس کے آگنائزرز کا کہنا ہے کہ وہ کیرولین جوری سے اس پر عوام کے سامنے معافی کی متوقع کرتے ہیں۔

سری لنکا

’ابھی میں طلاق یافتہ عورت نہیں‘

فیس بک پر ایک پوسٹ میں ڈی سلوا نے بتایا کہ وہ اپنے سر پر چوٹیں آنے کے بعد ہسپتال گئیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ابھی میں طلاق یافتہ عورت نہیں ہوں۔ ایک اچھی عورت اور حقیقی کوئین وہ ہوتی ہے جو تاج حاصل کرنے میں دوسری عورت کی مدد کرے نا کہ ایسی عورت جو اس سے اس کا جیتا ہوا تاج بھی چھین لے۔‘

مسز سری لنکا ادارے کے ڈائریکٹر چندیمل جیاسنگھے نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’ہمیں بہت مایوسی ہوئی ہے۔ کیرولین جوری نے جس طرح کا رویہ سٹیج پر دکھایا وہ ذلت آمیز تھا۔ ہمارے ادارے نے اس کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔‘

مسز سری لنکا کا شمار ملک کے بڑے مقابلوں میں ہوتا ہے۔ اس تقریب میں ملک کے وزیر اعظم کی اہلیہ نے بھی شرکت کی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *