مسلمان روزے کی حالت میں بھی کورونا ویکسین لگوا سکتے ہیں، برطانوی ڈاکٹروں، علما کا مشترکہ مؤقف

اسلامی علما اور برطانیہ کے صحت عامہ کے ادارے نیشنل ہیلتھ سروس کے رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ رمضان کے مہینے میں روزے کی حالت میں کورونا ویکسین لگوائی جا سکتی ہے اور اس کے لیے انھیں روزہ چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ماہ رمضان میں مسلمان دن کے اوقات میں کھانے پینے سے اجتناب برتتے ہوئے روزہ رکھتے ہیں۔

مذہب اسلام کی تعلیمات کے مطابق روزہ اختیار کرنے والے مسلمانوں کے صبح صادق سے مغرب تک ’جسم میں کچھ بھی داخل کرنے‘ یعنی کھانے پینے کی ممانعت ہوتی ہے۔

لیکن برطانیہ کے شہر لیڈز کے ایک امام قاری عاصم کا کہنا ہے کہ کیونکہ کورونا کی ویکسین جسم میں خون کے بہاؤ کے بجائے جسم کے پٹھوں میں لگائی جاتی ہے اور اس میں کوئی غذائیت نہیں ہے اس لیے اسے لگوانے سے روزہ ٹوٹنے کا اندیشہ نہیں ہے۔

قاری عاصم برطانیہ میں مساجد اور علما کے قومی مشاورتی بورڈ کے سربراہ ہیں۔ اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اسلامی علما کی اکثریت کا کہنا ہے کہ رمضان میں روزے کی حالت میں ویکسین لگوانے سے روزہ مکروہ یا ٹوٹنے کا اندیشہ نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مسلم برادری کو میرا پیغام ہے کہ اگر آپ ویکیسن لگوانے کے اہل ہیں اور آپ کو رجسٹریشن نمبر کے تحت ویکسین لگوانے کا دعوت نامہ مل چکا ہے تو آپ کو خود سے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ آپ کورونا کی ویکیسن لگوائیں گے جس کی کورونا کے وبائی مرض کے خلاف افادیت ثابت ہو چکی ہے اور یہ آپ کو اس سے محفوظ رکھ سکتی ہے یا آپ کورونا کا شکار ہونے کا خطرہ مول لیں گے جو آپ کو کافی بیمار کر سکتا ہے، اور آپ ممکنہ طور پر رمضان کے تمام روزے چھوڑ کر علالت کے باعث ہسپتال داخل ہو سکتے ہیں۔‘

نوٹنگھم اور برائٹن کے علاقوں میں نیشنل ہیلتھ سروس نے اپنے چند ویکسین سینٹرز میں ویکسین لگانے کے اوقاتِ کار میں اضافہ کیا ہے تاکہ مسلم افراد اپنا روزہ افطار کرنے کے بعد آ کر ویکسین لگوا سکیں۔

تاہم مشرقی لندن کے دی سرجری پروجیکٹ کی ڈاکٹر فرزانہ حسین کا کہنا ہے کہ اس ویکسین کو لگوانے کے لیے دن کے اوقات سے اجتناب کرنا ضروری نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم جانتے ہیں کہ بہت سے مسلم افراد رمضان کے مہینے کے دوران اپنی کورونا ویکسین لگوانے پر تشویش کا شکار ہوں گے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ٹیکہ لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ اس کو غدائیت کے طور پر نہیں تصور کیا جاتا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مسلمانوں کی الہامی کتاب قرآن میں کہا گیا ہے اپنی جان بچانا سب سے اہم ہے، ایک شخص کی جان بچانا تمام انسانیت کی جان بچانا ہے۔ یہ مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنی ویکسین لگوائے۔‘

برطانیہ میں چند مساجد کو بھی ویکسین سینٹرز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ برطانیہ کی اقلیتی مسلم برادری میں ویکسین لگوانے کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

اپسوس موری غیر سرکاری تنظیم کے ایک سروے کے مطابق برطانیہ کی اقلیتی برادریوں میں ویکیسن لگوانے کے فیصلے میں ڈرامائی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس سروے کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں 77 فیصد افراد ایسے تھے جنھوں نے یا تو ویکسین لگوائی تھی یا ویکسین لگوانے پر رضا مندی ظاہر کی تھی جبکہ مارچ میں یہ تعداد بڑھ کر 92 فیصد ہو گئی ہے۔

مسلمانوں کے اہم اور مقدس مہینے رمضان کا آغاز پیر کی شام سے متوقع ہے جس میں مسلم افراد صبح سے شام تک روزے کی حالت میں رہتے ہیں اور مغرب کے وقت مشترکہ افطار کرتے ہیں۔

برطانیہ میں سماجی فاصلے کے ساتھ مساجد میں نماز کی اجازت ہے تاہم رشتہ داروں کے ایک دوسرے کے ہاں جانے کی ممانعت ہے۔

برطانیہ کی اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (بیما) نے رمضان کے دوران مساجد کے لیے ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں نماز تراویح کو مختصر رکھنے اور ہوادار جگہ پر پڑھانے کے ساتھ ساتھ امام کو ’مناسب طریقہ سے دو ماسک‘ پہننے کا کہا گیا ہے تاکہ نمازیوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔

ڈاکٹر شہلا امتیاز عمر
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر شہلا امتیاز عمر لوگوں کو ویکسین لگوانے پر قائل کر رہی ہیں

برطانیہ کی اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کی نمائندہ اور ڈربی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر شہلا امتیاز عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے اپنی برادری میں کورونا کی وجہ سے بہت تباہی دیکھی ہے۔ ہم اس بات کی کوشش کریں گے اور اسے یقینی بنائیں گے کہ ہمارے آئندہ آنے والے رمضان اس وبا سے اس حد تک متاثر نہ ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے گذشتہ برس اور رواں برس یہ متاثر ہوا ہے لیکن اگر ہم اپنی ویکسین لگوائیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہم سب ویکسین کے باعث محفوظ ہیں تو ہم اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ اگلے برس رمضان میں ہم معمول کی تقریبات منعقد کر سکیں گے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.