مسلم لیگ (ن) تحریک عدم اعتماد کی حمایت کیلئے مشروط طور پر رضامند

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کہا ہے کہ اگر پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) قابل عمل تجویز پیش کرے تو وہ حکومت گرانے کے لئے تحریک عدم اعتماد کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے۔

 رپورٹ کے مطابق ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پی ایم ایل این کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ ’ہم پی پی پی کے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے پی ٹی آئی کی حکومت گرانے کے اقدام کی حمایت کریں گے لیکن اس کے لیے انہیں قابل عمل تجویز پیش کرنا ہوگی‘۔

پارٹی ترجمان مریم اورنگزیب کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ اگر پیپلزپارٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف کامیاب تحریک عدم اعتماد پیش کرتی ہے تو مسلم لیگ (ن) پنجاب اسمبلی میں یہی کام کرے گی جہاں پیپلز پارٹی کی صرف 6 نشستیں ہیں۔

خیال رہے کہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) سے پنجاب میں اِن ہاؤس تبدیلی کا مطالبہ کرتی آرہی ہے اور ساتھ ہی یہ یقین دہانی بھی کروائی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے متعدد اراکین بھی اس کی حمایت کریں گے۔

قومی احتساب بیورو(نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے اپوزیشن بالخصوص مسلم لیگ(ن) کو نشانہ بنائے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ چیئرمین نیب ’حکومت کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں‘ کیوں کہ حکومت کے پاس ان کی کچھ قابل اعتراض ویڈیوز ہیں۔

انہوں نے چیئرمین نیب کو کہا کہ ہمت ہے تو جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ سے سوال پوچھیں کہ انہوں نے ’اپنی تنخواہ‘ سے کس طرح لاکھوں ڈالر کے اثاثے بنالیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح کرتار پور راہداری منصوبہ سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی سے اجازت لیے بغیر 17 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا لیکن نیب میں اس پر اعتراض کرنے کی ہمت نہیں ہے کیوں اس معاملے میں ’ڈنڈا‘ شامل ہےجبکہ گزشتہ 3 سال سے شہریوں کے خلاف الزامات لگائے جارہے ہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ ’پشاور میٹرو بس منصوبے میں اربوں روپے کی کرپشن کی گئی لیکن انسداد بدعنوانی کے ادارے نے اس پر اپنی آنکھیں بند رکھی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 2014 کے دھرنے کے دوران پی ٹی وی پر ہونے والے حملے کے سلسلے میں عمران اور دیگر پر مقدمہ نہ چلا کر ان کی جماعت نے بہت بڑی غلطی کی، حملہ آوروں کو عبرتناک سزا سنائی جانی چاہیے تھی۔

رہنما مسلم لیگ کا کہنا تھا کہ وہ ایک کنال کے کرایے کے گھر میں رہتے ہیں لیکن انکم ٹیکس اس وزیراعظم سے زیادہ ادا کرتے جو 300 کنال سے وسیع محل میں رہتا ہے، پی ٹی آئی کارکنان عوام کے سامنے اس بے ضابطگی کی وضاحت کریں۔

وزیراعظم کو مافیا کا سربراہ قرار دیتے ہوئے احسن اقبال نے مزید کہا کہ مختلف ریاستی اداروں میں بدعنوانی کی رپورٹس قومی اسمبلی میں جمع کروائی گئی ہیں لیکن حکومت انہیں جاری نہیں کرتی کہ کہیں اس کی کرپشن سامنے نہ آجائے۔