مسولینی اور سلطنت کا بحران

ایک بوڑھی خاتون جانے کن وقتوں سے انصاف کی امید پر مقدمہ لڑ رہی تھی۔ اس کیخلاف فیصلہ آیا تو اس نے ماؤں جیسے ٹھہراؤ میں رندھی آواز میں صرف یہ کہا، " پھر یہ عدالت تو نہ ہوئی… " منصف کی کرسی پر رستم کیانی بیٹھے تھے۔ جذبے اور خیال کا تعلق سمجھتے تھے۔ لرز کر رہ گئے۔ بزرگ خاتون کو روسٹرم کے قریب بلایا اور فرمایا، ’اماں جی، آپ سے کس نے کہا تھا کہ یہ عدالت ہے، یہاں تو کچہری لگتی ہے…" کچہری کے ضمن میں ہمارا تجربہ اچھا نہیں، تانگہ آ گیا کچہریوں خالی تے سجناں نوں قید بول گئی۔ یہ محض امائوس کی رات میں فراق کے مارے دلوں کا المیہ نہیں، اس میں شہر بے چراغ کی کسی مانوس چاپ سے خالی گلیوں کا نوحہ بھی سنائی دیتا ہے۔ غیر ملکی حکمرانی سے آزادی کا خواب سلطنت سے قوم کی طرف سفر کی نوید تھا۔ ہماری سواری باد بہاری نے غلط راستہ پکڑ لیا۔ کچھ دور تک نظر آئی اور پھر فارم گیٹ ڈھاکہ کی طرف مڑ گئی۔ لوٹا نہیں آدمی ہمارا… انصاف کی تمنا کچہری کو عدالت میں بدلنے کی آرزو تھی۔ ہمارا وکیل پھسڈی نکلا، کراچی صدر میں پرانی کتابوں کی دکان سے ہانس کیلسن کی کتاب ’قانون کا نظریہ مطلق‘ (Pure Theory of Law) کا تحریف شدہ نسخہ اٹھا لایا جس میں کسی حاشیہ بردار نے مفید مطلب حواشی کا اضافہ کر رکھا تھا۔ نظریہ ضرورت قوم کے مفاد پر فرد کی ضرورت کو بالادستی

عطا کرنے کی شرارت ہے۔ جمہوریت کی پکار فرد سے خلاصی پانے کی لڑائی نہیں، قوم کی نجات کیلئے پیش قدمی کا خروش آفریں طبل ہے۔ یہ قصہ ان دنوں پھر سے کھڑا ہوا ہے۔ جنرل (ر) عبدالقادر فرد کی جوابدہی کو ادارے کی اجتماعی توقیر پر یورش قرار دے رہے ہیں۔ ادھر تحصیل جنڈ ضلع اٹک سے آنے والا جوان رعنا بھی روباہ صفت کرداروں اور ندامت آلود واقعات کے دفاع میں تلوار علم کئے ہوئے ہے۔ پڑھنے والے تاریخ کے اس صفحے کا کونا ابھی سے موڑ دیں۔ کل اس کا حوالہ دینے کی ضرورت پیش آئے گی۔ عبدالولی خان فرمایا کرتے تھے کہ تاریخ بڑے کام کی چیز ہے۔ اسد مینگل سے بے نظیر بھٹو اور بشیر بلور سے شجاع خانزادہ تک، کشتگان شب الم کی ایک طویل فہرست ہے۔ طالب علم عرض کئے دیتا ہے کہ جس زمین پر غیر جمہوری بندوبست کا عذاب اتر آئے، وہاں چھوٹے موٹے انفرادی جرائم کو چھوڑ کے حقیقی اور بدترین جرام کی تہ میں ہمیشہ پوشیدہ اقتدار اور پیوستہ مفاد کا تانا بانا کارفرما ہوتا ہے۔ محض پچھلے چالیس برس میں ہماری قوم کے خلاف بدترین جرائم کی فہرست دیکھ لیجئے۔ ایک امر نے ذاتی اقتدار کیلئے افغانستان میں جاری عالمی طاقتوں کے کھیل میں پاکستان کو مہرہ بنایا۔ سرمائے، اسلحے اور لام بندی کی ضرورتوں کے تحت نمودار ہونے والی بنیاد پرستی، فرقہ واریت اور دہشت گردی کی خوفناک برمودا تکون نے اسی سازش سے جنم لیا۔ اس جرم کے سود و زیاں کا تخمینہ آپ خود لگا لیجئے۔ سندھ میں سیاسی کانٹ چھانٹ کی غرض سے لسانی سیاست کو جنم دیا گیا۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اپریل 85ء میں بشری زیدی کی ہلاکت، دسمبر 86ء میں قصبہ کالونی، مئی 1990 ءمیں پکا قلعہ حیدر آباد اور 12 مئی 2007 ءکے قتل عام میں کوئی داخلی ربط نہیں تھا۔ ہم نے ملک کے سب سے ترقی یافتہ شہر کراچی کو جرائم پیشہ عناصر کا پاڑہ بنا ڈالا۔ جنوری 2002 میں چمن بارڈر کا کیف و کم جاننے والے خوب سمجھتے ہیں کہ کوئٹہ کی ہزارہ کمیونٹی پر نسلی تطہیر کا عذاب کیسے اترا؟ جنوری 2005ءمیں ڈاکٹر شازیہ خالد کے سانحے کے ڈانڈے اکبر بگتی کی شہادت سے ہوتے ہوئے ٹھیک مارچ 2018ء کے سینٹ انتخاب تک پہنچتے ہیں۔ سرد جنگ ختم ہونے کے بعد بھی چند گھرانوں کے چراغ روشن رکھنے کے لئے طفیلی معیشت کا گھن چکر قائم رکھا، کروڑوں گھروں کے دیے بجھا دیے، قوم کی مالی اور ذہنی معیشت برباد کر دی۔ دنیا بھر میں پاکستان کو رسوائی کی علامت بنا ڈالا۔ کیا محض اتفاق ہے کہ سپر پاورکی سابق وزیر خارجہ کو ایک بدنام زمانہ سیاسی اصطلاح کی مثال دینے کیلئے دنیا کی 198 ریاستوں میں ہمارے ملک کا نام یاد آیا۔ اسے اپنے پڑوس میں لاطینی امریکا کی یونایٹڈ فروٹ کمپنی کیوں یاد نہیں آئی۔ ٹھیک اسی طرح جیسے ننکانہ صاحب سے آنے والے ریٹائرڈ بریگیڈیئر صاحب کو حرف نصیحت کے لئے بشیر بلور اور میاں افتخار حسین کے شہید اکلوتے بیٹے ہی کے نام کیوں یاد آئے؟ ذرا بتا دیجئے کہ خڑقمر کے واقعے میں علی وزیر اور محسن داوڑ کے خلاف مقدمہ واپس لے لیا گیا۔ کیوں اور کیسے؟ ٹھیک اسی طرح جیسے ایک روز میموگیٹ کیس کی فائل لپیٹ دی گئی تھی۔ سرکار وہ تو غداری کا مقدمہ تھا؟ ٹھیک اسی طرح جیسے جون 2014 کے ماڈل ٹاؤن سانحے کی کارروائی گہری نیند میں چلی گئی ہے۔ وہاں بھی چودہ بے چہرہ لاشے لہو کا سراغ مانگتے ہیں؟ ایک صاحب کو ہم نے گم شدگان شب تیرہ و تاریک کے بازیابی کا فرض سونپ رکھا ہے ٹھیک ایسے ہی جیسے انہیں قوم کے چرائے گئے اربوں ڈالر کی بازیابی کیلئے کلیسائی احتساب کی ذمہ داری دے رکھی ہے۔ ہم ان سے درخواست کیوں نہیں کرتے کہ جناب، مجلس واعظ تو تادیر رہے گی جاری۔۔ آپ اس ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ بازیاب کروا دیجئے جس کی سربراہی بھی آپ ہی کی ذات گرامی کے سپرد تھی۔ یہ درخواست اس لئے بھی مناسب ہے کہ نیب کا سربراہ بننے سے پہلے جسٹس جاوید اقبال نے خود بھی ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ عام کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ صاحبان ذی قدر، جولائی 1944ء میں اٹلی کے بادشاہ نے مسولینی کو معزول کرنا چاہا تو فسطائی رہنما نے ایک معنی خیز جملہ جملہ بولا تھا جو ہمارے موجودہ حالات کی عمدہ وضاحت کرتا ہے۔ You have provoked the crisis of the regime. تو جناب ایک تو ہوتی ہے حکومت اور ایک ہوتی ہے رجیم۔ ہم حکومت کے نہیں، سلطنت کے بحران سے دوچار ہیں۔ آج کی رات جئیں گے تو سحر دیکھیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *