مشترکہ پارلیمانی اجلاس کی منسوخی کی اصل وجہ انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن کو منانا ہے یا اتحادی جماعتوں کے تحفظات؟

تحریک انصاف کی حکومت نے جمعرات (آج) کو ہونے والا پارلیمان کا مشترکہ اجلاس ملتوی کر دیا ہے۔ اس التوا کی وجوہات پر حکومت، اتحادیوں اور اپوزیشن کے مؤقف میں واضح تضاد نظر آ رہا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر منانے کی ایک کوشش اور کر رہی ہے جبکہ حکومت کی اتحادی جماعتوں نے تصدیق کی ہے کہ یہ اجلاس حکومت نے اُن کے تحفظات کی وجہ سے ملتوی کیا ہے۔

اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے بدھ کو وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اتحادی جماعتوں کے ارکان کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس پر وزیر اعظم نے ان سے مزید مشاورت کا فیصلہ کیا اور جمعرات کا اجلاس ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔

حکومت کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر طارق بشیر احمد چیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اتحادی جماعتوں نے وزیر اعظم عمران خان سے کہا کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ جس پر سیاسی جماعتوں کی قیادت سے مشاورت ضروری ہو گی۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں دعویٰ کیا ہے کہ ’انتخابی اصلاحات ملک کے مستقبل کا معاملہ ہے اور ہم نیک نیتی سے کوشش کر رہے ہیں کہ اس پر اتفاق رائے پیدا ہو۔‘

انھوں نے مشترکہ اجلاس ملتوی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ‘اس سلسلے میں سپیکر اسد قیصر کو اپوزیشن سے ایک بار پھر رابطہ کرنے کا کہا گیا ہے تاکہ متفقہ انتخابی اصلاحات کا بل لایا جا سکے۔‘

بدھ کی شام ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات سے جب اتحادی جماعتوں کے اختلاف سے متعلق پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ اتحادی جماعتوں کے ارکان کابینہ کا حصہ ہیں اور اس معاملے پر کابینہ میں انھیں بھی بریفنگز دی گئی ہیں اور انھوں نے جب اعتماد کا اظہار کیا تو پھر اس بل کو منظور کر کے پارلیمنٹ کو بھیجا گیا۔

طارق بشیر چیمہ نے وزیر اطلاعات کی بات سے اتفاق کیا مگر ان کا جواب تھا کہ چونکہ وہ ذاتی حیثیت میں کابینہ میں اس بریفنگز کا حصہ رہے جبکہ یہ ایک ایسا قومی نوعیت کا معاملہ ہے کہ جس پر ان کی جماعت سے بھی مشاورت ہونی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ انتخابی اصلاحات ہوں مگر یہ سب سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر کیا جائے تو بہتر نتائج حاصل ہو سکیں گے۔

طارق بشیر چیمہ کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سوال ہوتا تھا کہ ای وی ایمز سے متعلق کیا پیش رفت ہے اور پھر اس کے بعد اس پر پیش رفت بتا دی جاتی تھی۔ مگر اب ہم نے وزیر اعظم سے کہا کہ اس قانون سازی پر اتحادی جماعت کو بھی آن بورڈ لیں۔ ان کے مطابق یہی مؤقف دوسری اتحادی جماعت ایم کیو ایم کا بھی تھا۔

عمران خان

متحدہ قومی موومنٹ کا مؤقف

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر امین الحق نے کہا کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین پر ایم کیو ایم کے تحفظات برقرار ہیں۔ ‏ان کے مطابق ای وی ایم پر ہمارے خدشات ہیں جو دور کیے جائیں۔ ق لیگ کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے امین الحق کا کہنا تھا کہ ’ایم کیو ایم کی خواہش تھی، رابطہ کمیٹی ارکان سے مشاورت کریں کیونکہ ‏جمہوری کلچر کا بنیادی نکتہ مشاورت اور اعتماد ہوتا ہے۔‘

انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ بطور اتحادی ایم کیو ایم نے بھی ‏وزیراعظم سے کہا کہ مشترکہ اجلاس سے پہلے ای وی ایم پر مشاورت کی جائے۔

ان کے مطابق ’پہلے ای وی ایم پر مشاورت ضروری ہے۔‘

امین الحق کے مطابق ’‏ایم کیو ایم پاکستان میں جمہوری کلچر کے ذریعے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ بھی التوا کے حق میں تھے: فواد چوہدری

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق یہ حکومت نے ایک آخری کوشش کی ہے کہ اپوزیشن کو اس معاملے پر قائل کر لیں۔ ان کے مطابق اگر اپوزیشن نہ مانی تو پھر اگلے ہفتے مشترکہ اجلاس طلب کر لیں گے۔

ان کے مطابق نہ صرف کابینہ میں اتحادی جماعتوں کی نمائندگی کرنے والے ارکان نے بلکہ ان دونوں اتحادی جماعتوں نے بھی اس متعلق پہلے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا ہے۔

فواد چوہدری نے مشترکہ اجلاس کے التوا پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے بہت سارے دوست اپوزیشن کو موقع دینا چاہتے ہیں، ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے کر لیں آپ بات، ہم نے تو بہت بات کی ہے۔ سپیکر اور چیئرمین سینیٹ کا بھی یہی خیال ہے کہ اپوزیشن کو ایک موقع اور دینا چاہیے۔‘

اپوزیشن کو حکومتی تجویز پر کیا اعتراض ہے؟

اپوزیشن

اپوزیشن جماعتیں یہ الزام عائد کرتی ہیں کہ کہ متنازع انتخابی اصلاحات کے بل کو تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے جلد بازی میں پارلیمان سے پاس کروانے کا واحد مقصد اگلے عام انتخابات میں 'منظم دھاندلی' کی راہ ہموار کرنا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے ملتوی ہونے والے اجلاس سے قبل منگل کے روز ایک مشترکہ اجلاس کیا اور پھر قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ ’ہم مل کر پارلیمان کے اندر بھرپور کردار ادا کریں گے اور حکومتی سازش کو روکنے کے لیے تمام قانونی اور سیاسی اقدام اٹھائیں گے۔‘

جب حکومت نے بدھ کو یہ اجلاس اتحادی جماعتوں سے ظہرانے کے بعد ملتوی کر دیا تو پھر شہباز شریف نے تبصرہ کیا کہ وزیر اعظم نے ایک اور یوٹرن لے لیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت سنجیدہ قانون سازی کو بھی محض ایک کھیل سمجھ رہی ہے۔

دوسری جانب حکومتی وزرا یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ اس مجوزہ بل میں شامل شقیں جیسا کہ 'بیرونِ ممالک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دلوانا' اور 'آئندہ عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال' وغیرہ درحقیقت ملک میں انتخابی عمل کو شفاف بنانے کی غرض سے ہیں اور 'شفافیت پر مبنی یہی اقدامات' اپوزیشن کو پریشان کیے ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی سے ایک ہی روز میں 21 بل 'انتہائی عجلت' میں منظور کروائے گئے تھے جن میں 'الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2020' بھی شامل تھا۔

اگرچہ حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف ایک ہی روز میں منظور کروائے گئے تقریباً تمام بلوں پر تنقید ہوئی مگر سب سے زیادہ تنقید الیکشن ایکٹ ترمیمی بل پر ہوئی تھی، جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ مجوزہ بل کو قومی اسمبلی میں لانے سے قبل اس کو قائمہ کمیٹی میں اُس طور زیر بحث نہیں لایا گیا جس طرح کی بحث اس انتہائی اہم معاملے پر ہونی چاہیے تھی۔

یاد رہے کہ یہ بل قومی اسمبلی میں اتفاق رائے سے منظور کیا گیا تھا مگر اب اہم مرحلہ اس کا سینیٹ سے پاس ہونا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی جانب سے پارلیمانی قواعد کو معطل کر کے عجلت میں اس بل کو منظور کروانے پر اپوزیشن جماعتوں نے اُن کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا تھا۔

مگر اہم سوال یہ ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو اس بل پر اعتراض کیا ہے اور حکومت اس کی کیا وضاحت پیش کرتی ہے؟

ای وی ایم

الیکٹرانک ووٹنگ مشین

اس بل میں ایک شق آئندہ عام انتخابات میں الیکڑانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال سے متعلق ہے۔

حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی محسن شاہنواز رانجھا نے چند روز قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ پاکستان میں شرح خواندگی اتنی تسلی بخش نہیں ہے۔ ’جس ملک میں لوگوں کی اکثریت کو پیسے نکلوانے کے لیے اے ٹی ایم مشین استعمال نہ کرنا آتا ہو وہاں ووٹنگ مشین کا درست استعمال کیسے ممکن ہو پائے گا۔‘

انھوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ دیہاتوں میں رہنے والے مستحق افراد کو جب یہ رقم ان کے اکاؤنٹ میں بھجوائی جاتی تھی تو مستحق افراد مل کر ایک شخص کی خدمات حاصل کرتے تھے جو اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے میں ان کی مدد کرتا تھا اور اسی دوران فراڈ اور باقاعدگیوں کے الزامات بھی سامنے آتے رہے۔

محسن شاہنواز رانجھا کے مطابق دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی یہ نظام اتنا کامیاب ثابت نہیں ہوا اور اِس کی شفافیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی ممبر قومی اسمبلی شازیہ مری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی متنازع قانون سازی 'ملک کے بااثر اداروں' کو جمہوری اداروں میں مداخلت کے زیادہ مواقع فراہم کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے الیکشن ایکٹ سنہ 2017 میں جس جلد بازی میں ترامیم متعارف کروائی ہیں اس سے یہی لگ رہا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت نے قائمہ کمیٹی سے جب اس مجوزہ بل میں کچھ ترامیم کو منظور کروایا تھا تو اس وقت مجموعی طور پر اٹھ ارکان اس قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شریک تھے جس میں سے پانچ ارکان کا تعلق حکمراں جماعت سے جبکہ تین کا تعلق حزب مخالف کی جماعتوں سے تھا۔

شازیہ مری کا کہنا تھا کہ نہ صرف قائمہ کمیٹی بلکہ قومی اسمبلی میں بھی اس رپورٹ پر بحث کرنے کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا گیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت حزب مخالف کی جماعتوں کے ساتھ الیکشن اصلاحات سمیت تمام اہم امور پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین رائے شماری کی شفافیت کے معاملے میں سب سے زیادہ مؤثر ہے اور ان کے بقول لوگوں کو سب سے زیادہ اعتبار اس مشین پر ہے۔

الیکٹرانک ووٹنگ

الیکشن کمیشن کے تحفظات

انتخابی اصلاحات کے بل اور آئندہ عام انتحابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے بارے میں الیکشن کمیشن نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ایسا کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنا ضروری ہے لیکن حکومت سادہ اکثریت سے اس بل کو پارلیمنٹ سے منظور کروا کر اس پر عمل درآمد کرنے پر بضد ہے۔

الیکشن کمیشن کے حکام نے ای وی ایم کے استعمال کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے37 نکات تحریری شکل میں پارلیمانی امور کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتائے تھے۔

ان تحفظات میں سب سے بڑا نکتہ ہے کہ الیکٹرانک مشین قابل بھروسہ نہیں ہے اور اس کے استعمال سے دھاندلی کو نہیں رو کا جا سکتا اور اس مشین کو کسی وقت بھی ہیک کیا جاسکتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے اپنے تحفظات میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ اس مشین کے سافٹ ویئر میں کسی وقت بھی تبدیلی لائی جا سکتی ہے اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ ہر مشین ایک ہی دن میں صحیح طریقے سے کام کرے گی۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ملک میں شرح خواندنگی کم ہونے اور ووٹروں میں اس مشین کے استعمال کے بارے میں میں آگہی نہ ہونے کی وجہ سے اس مشین کو انتخابات میں استعمال کرنا ٹھیک نہیں ہوگا۔

الیکشن کمیشن نے اپنے تحفظات میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے سٹاف کو اس مشین کے استعمال کی تربیت دینے میں وقت بہت کم ہے اس کے علاوہ سب سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ اس مشین کے استعمال کے سلسلے میں سٹیک ہولڈز یعنی سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے موجود نہیں ہے اور ایسی صورت حال میں انتخابات میں غیر جانبدارانہ ہونے پر سوال اٹھیں گے۔

اپنے تحفظات میں الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا معاملہ جلد بازی اور عجلت میں کیا گیا ہے جو کہ بین الاقوامی معیار کی نفی ہے۔

الیکشن کمیشن نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بارے میں اپنے تحفظات میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ یہ مشین ووٹروں کے کم ٹرن آؤٹ، ریاستی مشینری کے ناجائز استعمال، الیکشن میں دھاندلی، بددیانت پولنگ سٹاف کی تعیناتی اور انتخابی لڑائی جھگڑوں کو بھی نہیں روک سکتی۔

الیکشن کمیشن نے اپنے تحفظات میں ان یورپی ملکوں کا بھی ذکر کیا ہے جہاں پر الیکٹرانک ووٹنگ کا استعمال اس مشین پر اٹھنے والے اعتراضات کی وجہ سے روک دیا گیا ہے۔ ان ملکوں میں جرمنی، ہالینڈ، اٹلی، فرانس اور آئرلینڈ شامل ہیں۔

error: