مشکوک ٹرانزیکشن کیس: آصف زرداری نے نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت بریت کی درخواست دائر کردی

اسلام آباد؛ سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں 8 ارب روپے سے زائد کی مشکوک ٹرانزیکشنز کے معاملے میں بریت کی درخواست دائر کردی۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے انہیں 8 ارب روپے کے مشکوک لین دین سے متعلق کیس میں آج فرد جرم عائد کرنے کے لیے طلب کر رکھا تھا۔

آصف زرداری کی جانب سے بریت کے لیے احتساب عدالت میں دائر کردہ درخواست میں نیب ترمیمی آرڈیننس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ آرڈیننس کی رو سے اس عدالت میں کارروائی نہیں چل سکتی اور اگر ایسی کوئی کارروائی ہوئی تو غیر قانونی ہو گی۔

احتساب عدالت کے جج سید اصغر علی نے سماعت کی جس میں آصف علی زرداری بھی پیش ہوئے۔

عدالت میں ان کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہم نے 265 ڈی کی درخواست دائر کی ہے، جب تک ہماری درخواست پر فیصلہ نہیں آجاتا آپ فرد جرم عائد نہیں کر سکتے۔

وکیل نے مزید کہا کہ 15 کروڑ روپے کی رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کا الزام ہے، نیب کا کہنا ہے کہ 18 چیکس کے ذریعے رقم دی گئی جبکہ ان سے ہمارا تعلق ہی نہیں۔

اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ پہلے آپ یہ بتائیں یہ درخواست قابل سماعت بھی ہے یا نہیں؟

فارق ایچ نائیک نے کہا کہ پہلے آپ نوٹسز جاری کریں اس کے بعد ہم دلائل دیں گے، ہمیں کیس سے متعلق سب کچھ پڑھنا پڑے گا، 161 کے بیانات کو بھی پڑھنا ہوگا، اس کیس میں قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا کوئی الزام نہیں۔

پراسیکیوٹر نیب وسیم جاوید نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر عدالت حکم کرتی ہے تو ہم جواب جمع کروا دیں گے۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ یہ کیس کرپشن اور کرپٹ پریکٹس میں آتا ہی نہیں اس لیے فرد جرم عائد نہیں ہوسکتی، نیب ترمیمی آرڈیننس کے بعد کیس نہیں بنتا کیوں کہ آصف زرداری پر اختیار کے ناجائز استعمال یا رشوت لینے کا الزام نہیں ہے۔

عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دیر بعد درخواست پر فیصلہ کر دیتے ہیں۔

وکیل آصف زرداری نے کہا کہ اس کیس میں اختیارات کے ناجائز استعمال یا غیرقانونی رقم لینے کا کوئی الزام نہیں، عدالت نیب کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کرے۔

جج اصغر علی نے کہا کہ درخواست قابل سماعت ہونے پر آپ کے دلائل سن لیے، کچھ دیر میں فیصلہ کردیں گے۔

جس پر فاروق ایچ نائیک نے مزید کہا کہ جب فیصلہ کریں تو تمام دستاویزات کو دیکھ لیں، اگر فرد جرم عائد نہیں ہوتی تو اس کا مطلب ہے کہ طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔

عدالت نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ نے نیب گواہ پر جرح کرنی ہے، 22 گواہ ہو گئے آپ نے کتنی جرح کی ہے؟

جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پہلے آپ بریت کی درخواست پر فیصلہ سنائیں ہم آج جرح نہیں کریں گے، آپ ہماری بریت کی درخواست تحمل سے سنیں تاکہ انصاف ہوتا نظر آئے، بریت کی درخواست پر نیب کا جواب آنے دیں پھر ہم کیس آگے چلائیں گے، نیب نے سارے کام روک دیے صرف آصف علی زرداری کا کیس سنا جا رہا ہے۔

حکومت نیب آرڈیننس اپنے دفاع کیلئے لائی ہے، آصف علی زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ حکومت نے قومی احتساب آرڈیننس (ترمیمی) 2021 اپنے دفاع کے لیے نافذ کیا ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے تقرر کے معاملے پر بات کی۔

مذکورہ معاملے پر پیپلز پارٹی کا مؤقف بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی پی پی کا شروع سے یہ مؤقف ہے کہ یہ (عمران خان) نااہل ہے، اس نے آرمی چیف کی مدت میں توسیع کے وقت بھی 5 مسودے تیار کروائے تھے۔

تعیناتی برقرار رہنے یا نہ رہنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے علم نہیں ہے کہ فیصلہ تبدیل ہوگا یا برقرار رہے گا، اللہ خیر کرے گا۔

احتساب کا عمل کب تک جاری رہے گا کہ جواب میں انہوں نے کہا ک جب تک ملک کی معیشت مزید نیچے نہیں آجاتی احتساب کا عمل چلتا رہے گا۔

ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا وزیراعظم عمران خان ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال سنبھال سکیں گے؟جس پر شریک چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اس نے اپنے سیاستدان ہی مشکل سے سنبھالے ہوئے ہیں۔

آئندہ حکومت سے متعلق آصف علی زرداری نے کہا کہ اگلی باری پیپلزپارٹی کی ہوگی۔

جعلی اکاؤنٹس کیس کا پس منظر

خیال رہے کہ سابق صدر آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور متعدد دیگر کاروباری افراد کے خلاف سمٹ بینک، سندھ بینک اور یو بی ایل میں 29 'بے نامی' اکاؤنٹس کے ذریعے 35 ارب روپے کی جعلی ٹرانزیکشنز سے متعلق 2015 کے کیس کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد اگست 2018 میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔

اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔

بعد ازاں کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔

اس کے بعد سپریم کورٹ نے یہ کیس نیب کے سپرد کرتے ہوئے 2 ماہ میں تحقیقات کا حکم دیا تھا اور نیب نے اس کے لیے مشترکہ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کی تھی، جس کے سامنے آصف زرداری پیش ہوئے تھے۔

15 مارچ کو کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی نیب کی درخواست منظور کی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: