مصری قراء کی تلاوت آج بھی لوگوں کو مسحور کر دیتی ہے

رمضان کا مقدس اور بابرکت مہینہ جب آتا ہے تو قرآن کريم کی تلاوت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اس بارے میں فرمانِ باری تعالی :ترجمہ: ’ماہِ رمضان وہی مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو کہ لوگوں کیلئے رہنمائی، ہدایت اور حق و باطل میں تفریق کی نشانیوں پر مشتمل ہے‘(البقرۃ: ۱۸۵؍)۔ قرآن پر ایمان لانا، اس کی درست تلاوت کرنا ، اس میں غور و فکر کرنا، اس کے احکام پر عمل پیرا ہونا ایک دینی فريضہ ہے ، اس لئے لوگ قرآن کے ساتھ عقیدت ، محبت اور وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ انھیں اطمینان اور سکون نصیب ہوتا ہے۔ جبریل علیہ السلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہر رات کو آ کر قرآن مجید کا ورد کرتے تھے۔ اسکے علاوہ  وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر سال ایک بار مکمل قرآن مجید سناتے تھے۔ صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں قرآن مجید کی تلاوت کی، اور ان میں سب سے بہترین صحابی ’ ابی بن کعب‘ رضی اللہ عنہ تھے۔ اس عظیم صحابی کا شمار مدینہ میں وحی لکھنے والے اولین لوگوں میں ہوتا ہے، آپ نے قرآنی آیات کو حفظ کرنے اور ان کی خوبصورت آواز میں تلاوت کرنے میں کمال حاصل کیا، جس کی وجہ سے آپ کو صحابہ کرام میں بلند مقام حاصل ہوا، اور آپ کو اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کیا۔ کہتے ہیں کہ قرآن مجید مکہ اور مدینے میں نازل ہوا، استنبول میں اس کی چھپائی ہوئی اور مصر میں اس کی  دلکش تلاوت کی گئی۔ اس لئے مصر جو اسلامی ممالک میں ’الازہر الشریف کا ملک‘کے نام سےمشہور ہوا ۔اب قرآن کی تلاوت کا گہوارہ ہے، اور زیادہ تر مشہور قاری مصری ہیں، جنہوں نے نہ صرف بہترین تلاوت کی بلکہ پورےعالم اسلام کو منفرد باصلاحیت آوازوں کے ساتھ تلاوت کا ’فن‘ سکھایا۔
مصر میں قرآن کریم کی درسگاہیں تلاوت کے معاملے میں ایک خاص حیثیت رکھتی ہیں۔ان درسگاہوں کو مخصوص آوازوں کے ساتھ لامحدود تلاوت کرنے والوں سے ممتاز کیا جاتا ہے: آواز کی مٹھاس، کارکردگی میں مہارت، قرآن کا مکمل حفظ، اورتجويد کے فن کا بغور مطالعہ ان کی خصوصيات ہیں۔ ان درسگاہوں میں تعلیم حاصل کرنے والے لوگ قرآن کریم کی درست تلاوت کرتے ہیں۔  تجوید کے ضروری قواعد، خوش الحانی سے تلاوت اور الفاظ کو ٹھیک طریقے سے ادائیگی ان کا خاصہ ہے،اس سے سننے والا بھی سمجھ سکے اور اس کا ذہن پوری طرح کلام الٰہی کے مفہوم و مطالب کو سمجھ سکے اور اس کی آیات کا اثر دل میں اتر  جائے۔ 
رمضان المبارک کے بابرکت اور مقدس مہینے میں قرآن مجید کے مصری قراء رمضان کی راتوں کو کو روحانیت سے بھر دینے کے لیے مصر کے سفیر کی حیثیت سے دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کرتے ہیں۔ ان لوگوں  کو عرب اور اسلامی ممالک میں بہت عقیدت کے ساتھ مدعو کیا جاتا ہے۔اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی دعوت پریہ لوگ وہاں جاتے ہیں اور وہاں کے عوام مہمان نوازی کی اعلی قدروں کے ساتھ ان کا استقبال کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ یورپی ممالک میں بھی ان کا شاندار خیر مقدم ہوتا ہے۔مصری قاری ان ممالک میں رمضان المبارک کا پورا مہینہ تلاوت اور عبادت میں گزارتے ہیں ۔ مختلف ممالک میں قیام کے دوران  قراء حضرات وہاں کی اسلامی برادری کے افراد کے ساتھ رمضان کا مہینہ اس انداز میں گزارتے ہیں کہ وہ ہجوم کے درمیان بیٹھتے ہیں اور تراویح کے بعد سے سحری تک جاگتے رہتے ہیں، وہاں موجود عوام ان  سے قرآن کی تلاوت سنتے ہیں اور دن کے وقت قراء حضرات نمازوں کے اختتام پر بہت ہی پردرد انداز اور بلند آواز میں دعائیں پڑھتے ہیں اور دلکش لحن میں حمد و ثناءکرتے ہیں،جو حاضرین کے کانوں کو بھاتی  ہے اور ان کے دلوں کو مسرت بخشتی ہے۔چونکہ مصری قراء تلاوتِ قرآن کے دوران قرآن کی بہترین قراٴت کے ساتھ ساتھ اسلام کی ایک واضح تصویر پیش کرنے کا کام بھی کرتے ہیں ۔بالخصوص غیر اسلامی ممالک میں وہ حقیقی اسلام کی نمائندگی کرتے  ہیں تو ان کے طرز اور طور طریقوں کو دیکھ کر روزانہ درجنوں لوگ مشرف بہ اسلام ہوتے ہیں۔اس کا ایک سبب یہ ہے کہ تلاوت کرنے والے ان کو اپنی خوش الحانی کی معرفت اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ مصری قاریوں کا کمال ہے کہ وہ سامعین کے کانوں میں روحانیت کا رس اس طرح گھولتے ہیں کہ سامع کو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ کسی آبشار کی مسحور کن آواز سن رہا  ہے۔ مصری قاریوں کی مقبولیت اتنی بڑھ چکی ہے کہ غیر مسلم لوگ ان سے اسلام کے اصول سکھانے کی درخواست کرتے ہیں۔ غیر مسلم ممالک میں رہنے والے مسلم خانوادے بھی ان کے ساتھ افطار کرنے اور ان سے ان کے گھروں میں قرآن پڑھ کر برکت حاصل کرنے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔بہت سے لوگ ان کو اپنی شادیوں میں مدعو کر تے ہیں اور کچھ لوگ تو اپنی بیٹیوں کی شادی بھی ان سے کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ 
مصری قاریوں میں بہت سے ایسےنامور قاری بھی ہیں جن کی شہرت زمان و مکان کی رکاوٹوں کو عبور کر چکی ہے۔ ان ہی لوگوں نے قرآن کی دلکش انداز میں تلاوت کی بنیاد رکھی اور ان ہی لوگوں کی تلاوت نے آیات سننے والوں کو مسحور کرکے رکھ دیا۔ ان نامور قاریوں کی آوازوں سے فن تلاوت کو ایک نئی پہچان ملی اورلوگوں میں تلاوت سننے کا جذبہ بڑھا۔ ان کی آوازوں میں وہ جادو تھا کہ وہ کانوں سے سیدھے دل  میں اترتی تھیں۔ایسا لگتا تھا کہ آسمانی آوازیں زمین پر گونج رہی ہیں، ان کی آواز میں بلا کی مٹھاس تھی ۔ وہ قرآن پڑھنے کے قواعد و ضوابط پر بلا کی مہارت رکھتے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کی کارکردگی، سنجیدگی اور آواز پڑھنے میں ایک آزاد رجحان کی نمائندگی کرتی تھی۔ ہر شيخ کی تلاوت کا ایک منفرد طریقہ ہوتا تھا۔ان میں سے شیخ محمد رفعت، الحصری، مصطفی اسماعیل، عبد الباسط عبد الصمد، محمود علي البنا، صدیق المنشاوی، ابو العنين شعيشع کا نام بہت ادب و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ ان کے بعد دوسری نسلیں الطبلاوی اور نعينع آئیں۔
اسی نسل کے شیخ الحوصری وقار اور متانت میں ایک نمونہ تھے۔ نعينع میں گویا ہر باغ سے ایک پھول اکٹھا ہوا تھا، ہم کو ان کے لہجے میں حلاوت ملتی تھی۔ جہاں تک شیخ ابو العینین کا تعلق ہے تو ان کو قرآن کا خادم کہا جاتا تھا۔ ان کی آواز سننے والے کو اتنا   بلند کرتی تھی کہ ان کو لگتا تھا کہ وہ آسمان کی بلندیوں پر ہیں اور پھر ان کی آواز کا جادو سامع کو آہستگی سے اسے جنت کی دہلیز پر بٹھا دیتا تھا۔مشہور قاری شیخ مصطفی اسماعیل   کو اس بات کا امتیاز حاصل ہے کہ انہوں نے انیس مقامات اور ان کے شاخوں میں قرآن کی تلاوت کی۔ اپنے پراثر گلے کے ساتھ، شیخ مقامات کے درمیان آسانی اور پیار سے گھومتے ہیں، جو شاید آپ کو دوسرے قاریوں میں نہ ملے۔ مقبول قاری شیخ المنشاوی کو پردرد آواز کے نام سے جانا جاتا ہے،یعنی وہ خوش الحان پرندہ جس کی آواز لوگوں کے دلوں کو چھونے کے لیے آسمان سے اتری تازہ یہ دل آسمان تک پہنچ جائیں۔اسلامی دنیا میں بہت سے شیوخ اپنی آواز کی مٹھاس اور تجوید کے قواعد میں مہارت کے باعث مشہور تھے۔لیکن جو مقام مصری  شیخ عبدالباسط عبدالصمد( ۱۹۲۷ء تا ۱۹۸۸ء)کو ملا وہ کسی کو حاصل نہیں ہوا ان کی آواز کی شیرینی اور پاکیزگی کی وجہ ان کی مقبولیت کا باعث تھی، وہ قرآن پاک کی تلاوت کرنے والے پہلے ایسے شیخ مانے جاتے ہیں جن کو زریں آواز کا مالک اور مکہ کی آواز کہا جاتا ہے۔ قاہرہ ریڈیو پر شیخ عبدالباسط عبدالصمد کی آواز نے تلاوت قرآن کو اپنی میٹھی آواز، دلفریب انداز اور خوبصورت پرفارمنس کے ساتھ یوں پڑھا کہ ساری دنیا میں ان کی آواز سننے والوں کی تعداد روز بروز بڑھتی گئی ۔ ان کی تلاوت کے باعث بڑی تعداد میں لوگوں میں قرآن سننے کا ذوق و شوق پیدا ہوا۔ شیخ عبدالباسط عبد الصمد کے ریڈیو سے منسلک ہونے کی وجہ سے ریڈیو کے آلات کی مانگ میں اضافہ ہوا اور شیخ عبدالباسط کی آواز سننے کے لیے زیادہ تر گھروں میں ریڈیو خریدا گیا ۔ شیخ عبدالباسط عبد الصمد کے ساتھ ساتھ بے شمار مشائخ کی درجنوں ریکارڈنگ مصر ی ریڈیو پر دستیاب ہیں جو مصر کے قارئین ہر سال ماہ رمضان میں ریکارڈ کی  جاتی تھیں۔اور آج کل جدید ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ سائٹس اور یوٹیوب کے پھیلاؤ سے قرآن کریم کے نئے قارئین کے کئی چہرے نمودار ہورہے ہیں۔ پڑھنے والوں کی تعداد تو بڑھی ہے لیکن مصر کے قدیم قاری کی قدیم خوشبو ابھی تک باقی ہے اور لوگ ان کو سنتے ہیں۔
آخر ميں کہنا چاہوں گی کہ  قرآن مجید کی تلاوت رمضان میں افضل ترین عمل ہے۔ کم از کم ماہِ رمضان میں ایک بار قرآن مجید مکمل پڑھنا چاہیے۔ تلاوت قرآن سے غرض یہی ہے کہ قرآن کے الفاظ زبان سے کان تک اوروہاں سے دل تک پہنچ کر دل میں کیفیت پیدا کریں، کلامِ الٰہی کی عظمت ظاہر ہو۔ قرآن مجید کو سمجھیں، اثر قبول کریں اور قرآن مجید پر عمل کریں۔ اور جب قاری کی آواز عمدہ ہوتی ہے تو دل پر جلدی اثر کرتی ہے۔ تو رمضان میں کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ ہميں کثرت سے مشائخ کی تلاوت سننا ہے۔کیونکہ وہصحیح تلفظ اور درست ادائیگی کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں۔ نیز رمضان ختم ہونے کے بعد قرآن کریم کی تلاوت کو معمول بنانا چاہیے، اس لئے کہ قرآن کی تلاوت باعث اجر و ثواب بھی ہے اور روح کی غذا بھی۔ ہم سب کو کوشش کرنی چاہیے کہ قرآن کی تلاوت ترتیل و تجوید کے ساتھ کی جائے۔ اگر اس میں کوئی کمی اور کوتاہی ہو تو سیکھنے کی کوشش کی جائے۔ قرآن کریم کی درست تلاوت نہ صرف باعث اجر و ثواب ہے بلکہ ہر مسلمان پر یہ فرض بھی عائد ہوتاہے کہ وہ قرآن کی درست تلاوت کے اصول سیکھے اور ان اصولوں کے مطابق قرآن کی تلاوت کو اپنا معمول بنائے۔