Site icon Dunya Pakistan

مصر میں مسحراتی

رمضان جو روحانیت اور سب کے لئے اچھے جذبات کا مہینہ ہے، سب کے درمیان معاشرتی یکجہتی کا سب سے اہم مہینہ ہے، مصر میں اس کا ماحول الگ ہوتا ہے اور مسحراتی اس کا ایک اہم حصہ ہے۔ مصر میں رمضان المبارک کی آمد کی خوشی مسحراتی کے بغیر مکمل نہیں ہوتی ہے ،جو رمضان کی راتوں میں فجر کی نماز سے قبل سحری کھانے کے لئے سونے والوں کو جگاتا ہے۔ اس کی شخصیت رمضان کے مہینے کی آمد کے ساتھ مصریوں کے ذہنوں سے جڑی ہوئی ہے۔ مسحراتی کے بارے میں سب سے مشہور بات یہ ہے کہ وہ ایک ڈھول اٹھاکر اسے بجاتا ہے۔ ڈھول پر تین ضربیں لگاتا ہے اور وہ اپنی بلند آواز سے ڈھول کی تھاپ کے ساتھ ایسی آوازیں دیتا ہے جو رات کی خاموشی توڑ دیتی ہیں۔ عام طور پر ان آوازیں دینے کے ساتھ ساتھ کچھ مذہبی گیت بھی ہوتے ہیں۔ گلی گلی وہ گھومتا ہے اور ہر ایک کا نام لے کر جاگنے کے لئے پکارتا ہے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ لفظ مسحراتی ایک عربی لفظ ہے جو’’سحور : سحری‘‘ سے ماخوذ ہے۔ مسحراتی کا ظہور اسلامی تاریخ کے آغاز کے ساتھ ہی ہوا تھا۔ اور اسلامی ریاست میں رمضان کے مہینے میں ذمہ داری پہلا مؤذن بلال بن رباح رضی اللہ عنہ اور ابن ام کلثوم انجام دیتے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کےساتھ فجر کی نماز سے پہلے باہر جاتے تھے۔ اور لوگوں کو جگاتے تھے۔ گلیوں اور سڑکوں کو سب سے پہلے بلال بطور مؤذن گھومتے تھے۔اذان دیتے تھے تو لوگ اٹھ کے سحری کھاتے تھے، جبکہ ابن ام کلثوم آواز دیتا تھا کہ کھانا پینا بند کرو ، تو لوگ کھانے سے گریز کرتے تھے۔ پھر اسلامی ریاست کی وسعت کے ساتھ مسحراتی نے بھی وسعت اختیار کی اور مختلف اسلامی ممالک میں سحری جگانے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔
بہت ساری روایات میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ مصر میں مسحراتی کی کہانی تقریبا بارہ صدیوں پہلے شروع ہوئی تھی، خاص طور پر سن ۸۵۳ء میں، مسحراتی کا مشن مصر چلا گیا ۔ تاریخی ذرائع کا ذکر ہے کہ مصر میں عباسی گورنر اسحاق ابن عقبہ نے اس خیال کو منتقل کیا تھا جو عراق میں عباسی دور کے دوران فروغ پایا جاتا تھا۔ عراق میں سب سے مشہور شخص جس نے مسحراتی کا پیشہ سنبھالا تھا ، وہ ’’ابن نقطہ‘‘تھا۔ اسے عباسی خلیفہ کے اہل خانے کو جگانے کے لئے تفویض کیا گیا تھا۔ اس کی آواز خوبصورت تھی اور بہت سے اشعار کی یاد کیا کرتا تھا جو تصوف اور زہد کے لئے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔
مصر کے عباسی گورنر اسحاق بن عقبہ رمضان المبارک میں رات کے وقت قاہرہ کی سڑکوں میں پھرتے ہوئے آوازیں دیتے تھے جنہوں نے مسلمانوں کو سحری کے لئے جگایا تھا۔ وہ روزانہ فوج کے شہر سے مسجد عمرو ابن العاص تک ، جو قاہرہ کے جنوب میں واقع ہے، چلتے تھے۔ سڑکوں میں یہ آواز دیتے تھے کہ :’’لوگو! سحری کھاؤ کیونکہ سحری میں برکت ہے‘‘۔اس عرصے سے گورنر کو خود یہ کام کرنے کے بعد مصر میں مسحراتی کے پیشے نے عزت اور تعریف حاصل کی ہے۔ جب سے تقریبا ایک ہزار سال قبل، خاص طور پر فاطمی ریاست کے دور میں یہ پیشہ ایک بنیادی رواج بن گیا۔ حکمران نے تراویح کی نماز کے بعد لوگوں کو جلدی سونے کا حکم دیا تھا۔ اور سپاہی مسلمانوں کو سحری کے لئے جگاتے تھے۔ گھروں سے گزرتے تھے اور لوگوں کے دروازے پر ڈنڈوں سے مارتے تھے۔ یہ سلسلہ جاری ہوا یہاں تک کہ ایک آدمی کو اس کام کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ اسے مسحراتی کہتے تھے۔ وہ اپنے ساتھ چھڑی لے کر دروازوں پر دستک دیتا تھا، صدا لگاتا تھا کہ : خدا کے لوگو! اٹھ جاؤ سحری کرو!
ایک طویل عرصے پہلے چیلنجوں کو مسحراتی کے پیشے کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ایوبی کے زمانے میں یہ پیشہ اپنی اہمیت کھو چکی ہے، پھر مملوک عہد میں اس کی اہمیت واپس آ گئی۔ مملوک سلطان ظاہر پیبرز اس پیشے کے تحفظ خواہشمند تھے، جو اسلامی ورثے کا ایک حصہ ہے اور ماہ رمضان کی رسومات سے وابستہ ہے۔ پیبرز نے اس زمانے میں جونئیر دینی علماء کے لئے مسلمانوں کو جگانے کا کام سونپا تھا۔ اور مسحراتی کا پیشہ مملوک دور میں اور خاص طور سے ناصر بن قلاوون کے دور میں فروغ پایا تھا۔ اس وقت مسحراتی لوک گیت اور داستانوں کی مشہور کہانیاں سناتا تھا اور چھڑی استعمال کرنے کے بجائے ایک ڈھول ، جو سائز میں چھوٹا تھا، استعمال کیا جاتا تھا۔ اور جس کو باقاعدگی سے پیٹا جاتا تھا۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ مصر پہلا ملک ہے جس میں مسحراتی نے ڈھول کا استعمال کیا تھا۔
جدید دور میں، مسحراتی بھی مشہور تھا، مصر کے شہروں یا گاؤں کی سڑکوں پر گھومتا تھا اور لوگوں کو جگانے کے لئے مذہبی گیت دہراتا تھا تاکہ سونے والوں اس کی آواز سنیں اور سحری کے لئے نیند سے اٹھیں۔ خواتین کاغذ کے ٹکڑوں کے اندر سکّے رکھتی تھیں اور ان کی نوک کو آگ لگا کے کھڑکی سے مسحراتی کے پاس پھینک دیتی تھیں تاکہ وہ ان کا مقام دیکھنے کے بعد ان کے لئے گائیں ۔مصر میں معاصر دور میں فجر سے دو گھنٹے پہلے مسحراتی عوامی محلوں میں اپنے گھومنے کا آغاز کرتا ہے، ڈھول بجانے کے ساتھ ساتھ اپنی سریلی آواز اور انتہائی خوبصورت الفاظ سے لوگوں کو جگاتا ہے۔ جو محلوں کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں ۔ اس کے مشہور جملوں میں سے: اے اللہ کے بندے! سحری کا وقت آ گیا ہے۔۔ رمضان کریم ہے ۔۔ خدا کی یاد کرو ۔۔ جس نے تم کو پیدا کیا، وہ تم کو فراموش نہیں کرے گا ۔۔ اپنے سحور کے لئے اٹھ کھڑے ہو ۔۔ رمضان تم سے ملنے آیا ہے ۔۔ اے سونے والا! اٹھ کے اللہ کی وحدانیت کہو ۔۔ اٹھ اور کہہ کہ اگر میں زندہ رہتا ہوں تو رمضان کا روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں اور فجر کے وقت اٹھتا ہوں تاکہ اس دن روزہ رکھوں ۔۔

سونے والا! اٹھ کے اپنے رب رزاق کی وحدانیت کہو۔۔
مسحراتی اپنے ڈھول پر ایک خاص راگنی کے ساتھ یہ جملے گاتے ہیں۔ اسی لئے وہ لوگوں کی توجہ ضرور حاصل کرتے ہیں۔ مسحراتی کے ان آسان الفاظ سے جو دل سے نکلتے ہیں، وہ دل کو سکون دیتے ہیں، وہ الفاظ جو رمضان کے مقدس مہینے کی سرخی ہیں ۔ اس مقدس مہینے کے ساتھ وابستہ ایک اسلامی ورثہ بن چکے ہیں۔عام طور پر نسلیں اس پیشے کو اپنے باپ دادا سے وراثت میں حاصل کرتی ہیں۔ ویسے مسحراتی کے پیشے حاصل کرنے کے لئے اس شخص کو چند بنیادی شرائط پر پورا اترنا پڑتا ہے کہ اس کی آواز خوبصورت ہونی چاہئیے تاکہ اس کو لوگوں میں قبولیت اور منظوری مل جائے، ورنہ وہ تکلیف کا سبب بنے گا۔ اور یہ کہ کچھ صوفیانہ اشعار اور مذہبی گیتوں سے واقف ہوتا ہے جو انہیں ڈھول کی تھاپ کے ساتھ گاتا ہے۔ مسحراتی لازمی طور پر جس شہر میں وہ گھومتا ہے، اس کے لوگوں میں سے ایک ہوتا ہے اور اسے محلوں کے شہریوں کے ناموں سے پوری طرح واقف ہونا چاہئیے تاکہ وہ اپنے گھومنے کے دوران شہریوں کو ان کے نام سے پکار سکتے ہیں۔ اور ان کے ساتھ بات چیت پیدا کر سکتے ہیں۔
مسحراتی کا گزرنا شہریوں کے دلوں میں بچپن سے رمضان کی فضا کو زندہ کرتا ہے۔ بوڑھوں اور جوانوں میں خوشی کا جذبہ جوڑتا ہے۔ وہ بھی اس کے منتظر ہوتے ہیں کہ نہ صرف سحری کی تیاری کریں بلکہ مذہبی گیتوں سے اس کی خوبصورت آواز سے لطف اٹھائیں۔ اس کے گزرنے سے سب کے دلوں میں مسکراہٹ اور مسرت ہوتی ہے۔ لوک ماحول میں عیسائی لوگ بھی مسحراتی کے گزرنے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ مسحراتی بھی اپنے عیسائی دوستوں سے کچھ گلیوں میں ایک قسم کی معصوم ہنسی مذاق کے طور پر ان کو سحری کے لئے پکارتا ہے۔محلوں میں کسی نے ڈرم کی آواز سے ایک بار بھی اعتراض یا پریشان نہیں کیا، اس کے برعکس بہت سے لوگ مسحراتی گزرنے سے لطف اندوز ہوتے ہیں خاص طور پر بچے جو مسحراتی کی شخصیت سے لپٹ جاتے ہیں۔ اس کو دیکھنے اور سننے کے لئے بے چین رہتے ہیں اور وہ بالکونیوں اور کھڑکیوں سے مسحراتی چچا کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس سے بھی گذارش کرتے ہیں کہ وہ ڈھول پر تھاپ کے ساتھ ان کے نام سے پکاریں۔ عوامی علاقوں اور دیہات میں ان بچوں میں سے کچھ مسحراتی کے پیچھے چلتے ہیں۔ مسحراتی کے گیت ان کو ملنے والی خوشی دوبالا کرتے ہیں۔
رمضان کی راتوں کے دوران مسحراتی بغیر کسی ادائیگی کا انتظار کرنا اپنا ڈھول پیٹتا رہتا ہے۔ اس کو ایک خاص تنخواہ موصول نہیں ہوتی ہے۔ بلکہ مصری لوگ انتہائی خوش دلی اور جوش وخروش کے ساتھ اسے پیسے یا کھانا فیاضی سے دیتے ہیں۔ ماضی میں مسحراتی ایک اجرت نہیں لیتا تھا اور وہ عید کے پہلے دن تک انتظار کرتا تھا، وہ گھروں سے اپنے معمول کے ڈھول کے ساتھ ایک گھر گھر سے گزرتا تھا۔ محلے کے لوگ عید پر مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ اسے پیسے، تحائف اور مٹھائیاں دیتے تھے۔تکنیکی ترقی ، ٹیکنالوجی کی سہولیات، ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلز کی آمد کے ساتھ ہی، زیادہ تر عرب ممالک میں مسحراتی کا پیشہ ایک بار پھر زوال پذیر ہو رہا ہے۔ اس پیشہ معدوم ہونے کے خطرے کے باوجود مسحراتی ابھی تک مصر کے کچھ علاقوں میں موجود ہے۔ قاہرہ کے کچھ محلوں اور مصری دیہات میں اس کی موجودگی محدود ہو گئی جہاں مسحراتی لالٹین لا کر سڑکوں اور محلوں کو روشن کرتا ہے۔ وہ بھی بالائی مصر کے دیہاتوں میں ہی موجود ہوتا ہے۔ لیکن محض ایک رسم کے برابر ہے۔ الارموں کے ابھرنے کے باوجود، اہل مصر رمضان کی راتوں میں مسحراتی کے ڈھول کی آواز سننے کو آلارم کی آواز سننے پر ترجیح دیتے ہیں۔
ابتدا میں مسحراتی کا پیشہ مردوں تک ہی محدود تھا کیونکہ اس کے لئے تکلیف اور رات کے وقت چلنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن حالیہ برسوں میں کچھ خواتین اسی پیشے پر عمل پیرا ہو گئیں۔ اب مصر میں بھی کچھ علاقوں میں مسحراتی کی شکل مختلف ہے۔ جلابیہ پہننے کا پابند ایک بزرگ قدیم زمانے اس طرح سے نہیں جانا جاتا ہے۔ اب کچھ نوجوان مرد اور بچے جو جینز اور شرٹ پہنتے ہیں، لوگوں کو جگانے کے لئے ڈھول کے ساتھ سڑکوں پر گھومتے ہیں تاکہ اس مقدس مہینے کے آخر میں لوگوں سے کچھ پیسے حاصل کر سکتے ہیں۔ ان دنوں کورونا وائرس، احتیاطی تدابیر اور رات کے وقت گھومنے پھرنے پر پابندی عائد کر دینے کے باوجود مصری لوگ رمضان کی رسومات پر قائم ہیں۔

Exit mobile version