مطیع اللہ کی ’بازیابی‘: ’دیکھ لیں کہ شور مچانے سے کیا ہو سکتا ہے‘

پہلے منظر میں مختلف چارٹس پکڑے پریس کلب اسلام آباد کے باہر کچھ صحافی احتجاج کر رہے ہیں۔ دارالحکومت کے اسی سیکٹر میں ایک سکول کے باہر سے صحافی مطیع اللہ کو چند گھنٹے پہلے اغوا کیا گیا ہے۔

دوسرے منظر میں وزیر اطلاعات شبلی فراز کی پریس کانفرنس کا آغاز کرنے لگے تھے کہ کچھ صحافی کھڑے ہوئے اور انھوں نے کہا کہ پریس کانفرنس کا بائیکاٹ ہو گا تب تک جب تک صحافی مطیع اللہ کو بازیاب نہیں کروا لیا جاتا۔

تیسرا منظر صحافیوں کا اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم ایوان کا اجلاس کور کرنے کے لیے پریس گیلری میں نہیں آئیں گے ہمیں بتایا جائے کہ مطیع اللہ کو کیوں اٹھایا گیا۔

اور پھر خاموشی پاکستان میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق کی اس ٹویٹ سے ختم ہوتی ہے کہ انھوں نے آئی جی اسلام آباد سے رابطہ کیا ہے۔ یہ ایک تشویشناک بات ہے۔

اغوا کے بارہ گھنٹے بعد چوتھا منظر صحافی اعزاز سید کی جانب سے ٹوئٹر پر پوسٹ کی جانے والی اس تصویر میں دکھائی دیا جس میں وہ مطیع اللہ جان کی بازیابی کے بعد ان کے ہمراہ کھڑے ہیں اور ان کی واپسی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔

پاکستان میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر منگل کو سارا دن سینیئر صحافی کے اغوا پر ہی بات کی جاتی رہی۔

ان کے بیٹے نے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے یہ اطلاع دی کہ ’ مطیع اللہ جان، میرے ابو کو دارالحکومت اسلام آباد کے مرکز سے اغوا کر لیا گیا ہے۔ میں ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتا ہوں اور اس کے پیچھے موجود ایجنسیوں کو فوری طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ خدا ان کی حفاظت کرے۔‘

حکومت نے تصدیق کی ہے کہ صحافی کو اغوا کیا گیا ہے لیکن کس نے کیا، حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس کی تفصیل سے آگاہ نہیں۔

کسی صحافی کا اغوا یا قتل پاکستان کے مرکز میں ہو یا مواصلاتی رابطوں سے بھی دور کسی مقام سے کچھ نیا نہیں ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کو صحافیوں کے لیے ایک خطرناک ملک تصور کیا جاتا ہے۔

مطیع اللہ کو بزور طاقت نامعلوم افراد کی جانب سے گاڑی میں بٹھا کر لے جانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھیں تو لاپتہ افراد خاندانوں کی جانب سے سنائی جانے والی ان گنت کہانیاں پھر سے ذہن میں آتی ہیں جنھیں گھر سے اٹھایا جاتا ہے۔

اس وقت سماجی رابطوں کی ویٹ سائٹ ٹویٹر پر پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈز میں مطیع اللہ کا نام اور ان کی بازیابی کا مطالبہ دکھائی دے رہا ہے۔

مطیع اللہ کو واپس لائیں

ٹوئٹر پر یہ ہیش ٹیگ ٹرینڈ #BringBackMatiullah کر رہا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں صحافی کے اغوا کی مذمت کی اور لکھا کہ ' اسلام آباد میں پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور میڈیا کی ناک تلے صحافی کا لاپتہ ہونا سنگین نوعیت کی توہین ہے۔ اگر پالیمنٹیرنز، جج اور صحافی کچھ اور نہیں کر سکتے تو شاہراہ دستور پر احتجاج تو کر سکتے ہیں۔

صحافی اور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے اپنے پیغام میں لکھا تین گاڑیاں، ایک ویگو اور ایک ایمبولینس جبکہ یونیفام میں ملبوس لوگ مطیع اللہ کو اٹھا رہے ہیں۔

ماریہ رشید نامی صارف نے سی سی ٹی وی فوٹیج کو ری ٹیویٹ کرتے ہوئے اغوا کاروں کے نام اپنے پیغام میں لکھا کہ جب آپ کسی کو اغوا کرتے ہیں تو آپ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ سچ کے لیے کھڑا ہے۔

جب آپ کسی کو اغوا کرتے ہیں تو آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ قانون سے بالاتر ہیں۔

آپ اسے دوسروں کو خوفزدہ کرنے کے لیے کرتے ہیں لیکن یہ بھی آشکار کرتے ہیں کہ آپ خود کتنے خوفزدہ ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اپنے اکاؤنٹ سے منگل کو سینٹ کی فنکشنل کمیٹی نبرائے انسانی حقوق کے 22 جولائی یعنی کل صبح گیارہ بجے بلوائے گئے اجلاس کا نوٹس شیئر کیا۔ جس کے مطابق آئی جی اسلام آباد کو مطیع اللہ جان کے اغوا کے حوالے سے بریفنگ دینے کے لیے بلوایا گیا ہے۔

پی ٹی ایم کے رہنما منظور پشتین نے سینیئر صحافی کے اغوا پر ملکی اداروں کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

مسلم لیگ کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہے کہ اگر مطیع اللہ کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری عمران خان پر ہو گی۔

اپنے ٹوئٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’سینیئر صحفی مطیع اللہ جان کی گمشدگی انتہائی قابل مذمت اور باعث تشویش ہے۔ حکومت کی جانب سے میڈیا اور تنقیدی آوازوں کو دبانے کی مہم شرمناک ہے۔ اگر مطیع اللہ کو کچھ ہوا تو وزیراعظم اس کے ذمہ دار ہوں گے۔‘

آخری اطلاعات یہ ملیں کہ مطیع اللہ جان کے اغوا کی ایف آئی آر کٹ گئی ہے۔ تھانہ آبپارہ میں رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ ابھی تفتیش ہو رہی ہے ٹیمیں روانہ ہو رہی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو نے اپنے پیغام میں سینیئر صحافی کے اغوا پر تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا ان کا کہنا تھا کہ یہ فقط میڈیا کی آزادی پر حملہ نہیں ہے ہم سب پر ہے آج وہ مطیع اللہ ہیں کل آپ یا میں ہو سکتا ہوں۔

صحافی و اینکر پرسن منیزے جہانگیر نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ایک صحافی کی حیثیت سے اس ملک میں خوف کے بغیر کام کرنا ممکن نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مطیع اللہ کے اسلام آباد سے اغوا پر ہم ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔

صحافی نجم سیٹھی نے مطیع اللہ کی بازیابی کے لیے ایک آن لائن پٹیشن شروع کی ہے جس پر اب تک تین ہزار سے زیادہ افراد سائن کر چکے ہیں۔

سینیئر صحافی و اینکر پرسن نسیم زہرہ نے اپنے پروگرام میں مطیع اللہ جان کو لے جانے والوں کو پیغام میں کہا خدارا اس طریقہ کار کو چھوڑیں۔

وہ کہتی ہیں ’ہم بہت سے امور پر مطیع اللہ سے متفق نہیں لیکن وہ نکتہ نہیں ہے۔ پاکستان کا جو آئین ہے وہ سر آنکھوں پر۔ ایک آزادی اظہار ہے اور وہ بھی آئین میں ہے پاکستان کے قوانین کا استعمال کریں خدارا یہ طریقہ کار غلط ہے اٹھانے کے لے جانے کا۔ مطیع اللہ جان کو گھر واپس پہنچنا چاہیے۔ آپ نے جو بھی کیس کرنا ہے۔۔۔‘

لیکن ایک ٹرینڈ اس سارے واقعے کو ڈرامہ قرار دے رہا ہے۔ اور صارفین کہتے ہیں کہ کورونا کی وجہ سے کوئی سکول نہیں کھلا ہوا اور چونکہ ان کی پیشی تھی کل اس لیے یہ کیا گیا۔

دوسری جانب صحافی حامد میر کے پروگرام کے اختتام کے بعد ان کی ٹویٹ کہ ’کچھ باثر لوگوں نے ان کے پروگرام کا آخری حصہ جو مطیع اللہ جان کے بارے میں تھا سینسر کر دیا ہے۔ اب میں پر یقین ہوں کہ انھیں پولیس نے اغوا نہیں کیا وہ بہت محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔

منگل کی رات صحافی اعزاز سید نے ٹوئٹر پر مطیع اللہ جان کی رہائی کے بعد ٹوئٹر پر ان کے ساتھ اپنی ایک تصویرشیئر کرتے ہوئے لکھا کہ مطیع اللہ نے 12 گھنٹوں کے بعد رہائی پائی۔

مطیع اللہ کی بازیابی کے بعد سوشل میڈیا پر پھر ایک بار جبری گمشدگیوں کا موضوع زیرِ بحث آیا اور یہ بات کی جاتی رہی کہ ایسے معاملات میں ملکر آواز اٹھانے کا نتیجہ مغوی کے حق میں بہتر برآمد ہوتا ہے۔

صحافی حسن زیدی نے مطیع کی واپسی پر خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے لکھا کہ دیکھ لیں آواز اٹھانے کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے۔

ان کے ہی ٹویٹ پر ڈاکٹر تقی کا کہنا تھا کہ یقیناً ایسا ہی ہے لیکن بروقت آواز اٹھانا نہایت اہم ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *