Site icon Dunya Pakistan

مظفر محمد علی اور سعید اظہر (1)

مظفر محمد علی اور (مولوی) سعید اظہر میرے دو ایسے دوست تھے جو میرے دل کے بہت قریب تھے میری یہ تحریران دونوں کے بارے میں ہے۔ میرا مطلب ہے کہ ان دونوں کے آپس میں تعلقات کے بارے میں نہیں بلکہ میرے ان دونوں سے الگ الگ تعلق کے بارے میں ہے۔ صرف اختصار کے نقطہ نظر سے دونوں موضوعات کو یکجا کر دیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ دونوں بھی ایک دوسرے کے اچھے دوست تھے اور کچھ عرصہ کے لئے کاروبار میں شراکت دار بھی رہے۔

یہ دونوں اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ مظفر کو ہم سے منہ موڑے دس سال کا عرصہ بیت گیا اور سعید اظہر کو جدا ہوئے ایک سال بھی نہیں ہوا۔ اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں انہیں  مرحوم نہ لکھوں میں ایسا کیوں نہیں لکھنا چاہتا اس پر سوال نہ کریں اور اسے میرا ایک نفسیاتی مسئلہ سمجھ کے نظر انداز کر دیں۔

مظفر رخصت ہوا تو سوچا میں اس پر لکھتا ہوں اور سوچتے سوچتے دس برس گزر گئے۔ اس کے مستقل چلے جانے کا یقین آ جاتا تو لکھتا۔ اب خیال آیا کہ اس سے پہلے کہ اس کی جدائی کا دوسرا عشرہ شروع ہو لکھ دینا چاہئے۔ تو شروع کر دیا ہے لیکن معلوم نہیں ہے کہ کیا لکھ سکوں اور کیا نہیں لکھ سکوں گا۔ اور اف میرے خدا! کیا مولوی سعید اظہر واقعی اس دنیا میں نہیں ہے؟ اس پر یقین کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے۔ میرا مطلب ہے میرے لئے۔ جی ہاں میرے لئے کیونکہ وہ تو خود میرے لئے زندگی کا پیامبر بنا رہا۔ اس کا بس چلتا تو زندگی اس کرہ ارض سے کبھی رخصت نہ ہوتی۔ وہ تو ان لوگوں میں سے تھا جو فرار ہوتی زندگی کے سامنے چٹان بن کر اس کا راستہ روک لیتے ہیں۔

مظفر محمد علی جیسا نرم خو، دھیما اور مسکراہٹوں کی روشنی بکھیرنے والا ایک دن موم بتی کی طرح پگھل گیا اور ایک مضبوط اعصاب کا پر عزم زندگی کو چت کرنے کی جدوجہد میں مصروف سعید اظہر ریزہ ریزہ ہو گیا۔ یہ دونوں واقعات لاہور میں پیش آئے۔ لاہور والوں نے یہ مناظر کیسے برداشت کئے ہوں گے۔ میں تو واشنگٹن ایریا میں اپنے گھر میں تھا۔ اچھا ہوا میں نے دل کو چیر دینے والی تصویریں نہیں دیکھیں۔ میں تو نہیں مانتا وہ چلے گئے ہیں۔ میں نہیں مانتا وہ مرحوم ہو گئے ہیں۔

مظفر نے ایک مرتبہ ہفت روزہ ”عزم“ کی ٹائٹیل سٹوری کے لئے میرا تفصیلی انٹرویو لیا جو در اصل ایک تہائی رسالے پر پھیلی ایک طرح کی لائف ہسٹری تھی۔انہوں نے نامور صحافیوں کے انٹرویو کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا اور مجھ جیسے گمنام سے رائٹر کو شاید انہوں نے ایک دوست سمجھ کر نوازا۔ اتنی سی ”دوست نوازی“ ہم دونوں کر لیتے تھے جو میں ابھی آگے چل کر بتاؤں گا۔ ان کی زندگی کے بعد ان کے داماد اجمل شاہ دین نے ان انٹرویوز کو ”راز دان صحافی“ کے عنوان سے ایک کتابی شکل میں بھی شائع کیا۔ انٹرویو کے آغاز میں اپنے تعارفی نوٹ میں مظفر نے لکھا تھا کہ میں نے اظہر زمان سے درخواست کی تھی کہ اس میں ہم دونوں کے ذاتی حوالے کو چھوڑ دے۔ اسے کسی اور موقع پر اٹھا دیا جائے۔ اس نے یقیناً انکساری کا مظاہرہ کیا تھا کیونکہ اسے بخوبی علم تھا کہ گر اظہر نے مظفر کا ذکر چھیڑ دیا تو پھر صرف مظفر مظفر ہی ہوگا باقی سب موضوع پیچھے چلے جائیں گے۔ تب مجھے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ جو ذکر میں یہاں چھوڑ رہا ہوں وہ ذکر میں ایسے وقت کروں گا جب میرے قلم سے الفاظ ماتمی چیخوں کی صورت میں برآمد ہوں گے۔

پاکستان رائٹرز کلب نے پاکستان میں بڑا نام کمایا بہت بڑی بڑی ادبی اور ثقافتی تقریبات منعقد کیں نامور شخصیتوں کی کتابوں کو لانچ کرنے کے لئے شو کئے لیکن اس کے دو میلے ”ناول میلہ“ اور ”کہانی میلہ“ بہت مشہور ہوئے لاہور کی کوئی ایسی اہم ادبی شخصیت نہیں تھی جس نے ان میں شرکت نہ کی ہو۔ اس کے چار بانی مرکزی افراد تھے: منو بھائی، امجد اسلام امجد، مظفر محمد علی اور یہ رائٹر۔ مظفر محمد علی ”آئیڈیاز کے بادشاہ“ تھے۔ وہ ایڈورٹائزنگ کی ایک کمپنی بھی چلاتے رہے تھے۔ کتابوں یا اداروں کے چپت نام تجویز کرنے کے علاوہ  وہ ”سلوگن“ بھی بہت اچھا بنا لیتے تھے۔ ان کے پاس بہت اچھے آئیڈیاز ہمیشہ رہتے تھے اور بے شمار لوگ اپنے آئیڈیاز کو ”پالش“ کرنے کے لئے ان سے رجوع کرتے تھے۔ رائٹرز کلب میں بھی زیادہ تر ان کے آئیڈیاز عملی صورت اختیار کرتے رہے۔ وہ صاف ستھرے کام کے قائل تھے اور انہیں نیک نامی کی بہت فکر ہوتی تھی۔ یہ بھی ان کا آئیڈیا تھا کہ اتنے بڑے شو کرنے والے رائٹرز کلب کا کوئی بنک اکاؤنٹ نہیں ہونا چاہئے جب رخسانہ نور فنانس سیکرٹری بنی تو کچھ عرصہ ممبران سے معمولی  چندہ لینا شروع کیا اور پھر وہ بھی بند کر دیا۔ سب معاملات کو شفاف رکھنے کا طریقہ انہوں نے دریافت کیا کہ شو کرو لیکن کسی سے فنڈ لو اور نہ پیسوں کو ہاتھ لگاؤ۔

ہم آسان کام کرتے تھے شو کے مختلف حصوں کو سپانسر کرا دیتے جو براہ راست بل ادا کر دیتے تھے۔ اس طرح نہ پیسہ ہمارے پاس آتا نہ ہم اس کا حساب رکھتے۔ میں ہمیشہ فخر سے بیان کرتا رہا ہوں کہ مظفر محمد علی روز نامہ ”جنگ“ میں میری دریافت تھے یہ میں مختصراً آپ کو بتاؤں گا لیکن آپ اسے پیار محبت کے ایک چھوٹے سے قصے کے طور پر لیں گے تو مجھے زیادہ خوشی ہو گی۔ امریکن سنٹر لاہور میں انفارمیشن ایڈوائزر کے عرصے میں میرا پاکستان کے جن اہم صحافتی ستونوں سے ذاتی تعلق استوار ہوا ان میں میر شکیل الرحمن بھی شامل تھے۔ وہ بہت کم اپنے دفتر سے نکل کر کسی کو ملنے جاتے تھے لیکن انہوں نے مجھے یہ عزت بخشی کہ وہ متعدد بار مجھے ملنے آئے۔ وہ پروفیشنل معاملات کے علاوہ ذاتی اور فیملی کے حوالے سے مجھ سے مشورہ بھی لیتے اور کبھی سپورٹ بھی جن کا ذکر میں نے کبھی کسی سے نہیں کیا۔ ایک مرتبہ وہ امریکن سنٹر کے ٹاپ فلور پر پریس لاؤنج میں میرے ساتھ چائے پیتے ہوئے اچانک کہنے لگے کہ جنگ پبلشرز سے ضیا شاہد مستعفی ہو گئے ہیں۔

ان کی جگہ پر کرنے کے لئے مشورہ دو۔ میں نے ایک لمحے کے توقف کے بغیر کہا کہ اس پوزیشن کے لئے ایک انتہائی موزوں شخص میرے ذہن میں ہے لیکن مجھے معلوم نہیں کہ وہ رضا مند ہوں یا نہیں۔ میں نے مظفر محمد علی کا نام لیا تو وہ اسے رکھنے پر تیار ہو گئے۔ ایک دو ہفتے بعد میں نے  ان کو ساتھ لے کر شکیل صاحب سے ملوایا اور میری موجودگی میں ہی ان کی تعیناتی، تنخواہ اور دیگر سہولتوں کا اصولی فیصلہ ہو گیا۔ پھر مظفر محمد علی اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک جنگ پبلشرز کے منتظم ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے رہے۔ وہ بہت اچھے افسانہ نویس اور نثر نگار تھے۔ اپنے ادبی ثقافتی اور سیاسی روابط کی بنا پر انہوں نے نامور شخصیات سے کتابوں کے مسودے حاصل کئے اور جنگ مطبوعات میں گراں قدر اضافہ کیا۔

مظفر محمد علی جیسا نرم خو ہنس مکھ اور قدم قدم پر قہقہے برسانے والا شخص میں نے کم ہی دیکھا ہے۔ کمال کا درویش صفت۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ایڈورٹائزنگ اور دوسروں کو پروموٹ کرنے کے کام کا ماہر اپنی ذات کے معاملے میں ایسا کیوں کرتا ہے۔ عمران خان نے شمالی علاقوں کے بارے میں شاید پہلی مرتبہ ایک کتاب لکھی جن کے تب مظفر سے اچھے تعلقات تھے اور غالباً جنگ پبلشر نے یہ کتاب شائع کی تھی۔ طے ہوا کہ پاکستان رائٹرز کلب اس کتاب کی رونمائی کا اہتمام کرے گا۔ آواری ہوٹل کے ایک وسیع ہال میں تقریب ہوئی جس کا سارا انتظام مظفر کی نگرانی میں ہوا اور جب سٹیج سجا تو وہاں عمران خان کے ساتھ کلب کے صدر منو بھائی سینئر نائب صدر امجد اسلام امجد اور یہ راقم بطور سیکرٹری جنرل بیٹھا۔ مظفر محمد علی کلب کا جونیئر نائب صدر تھا لیکن وہ ہال میں آخری نشست پر جا بیٹھا۔ کوئی ان سے فیصلہ بدلوا نہیں سکتا تھا جب میں نے اپنی باری آنے پر کلب کی رپورٹ پڑھی تو میں نے سامعین کو بتایا کہ اس تقریب کے اصل کرتا دھرتا مظفر محمد علی آخری قطار میں بیٹھے ہیں۔ میری نشان دہی پر انہوں نے ہاتھ ہلایا اور حیرت زدہ سامعین نے تالیوں کی گونج میں ان کی پہچان اجاگر کی۔ 

مظفر محمد علی بہت پیار کرنے والے نرم خو اور کھلے دل کے مالک تھے ان کا انسانی برابری کا جو تصور تھا اس کی مثال میں نے کہیں اور نہیں دیکھی۔ ن کا ٹمپل روڈ پر ایڈورٹائزنگ کا دفتر کوئنز روڈ پر میرے امریکن سنٹر کے دفتر سے پانچ منٹ کی واک پر تھا۔ میرا یہ معمول تھا کہ میں اکثر لنچ کے لئے ان کے دفتر چل کر جاتا تھا۔ کبھی دیر ہو جاتی تو ان کے ہیلپر ارشاد کا فون آ جاتا ”سر! کھانا لگ گیا ہے۔ آپ کا انتظار ہو رہا ہے۔“ ان کے ہیلپر اور عملے کے ارکان سمیت تمام مل کر ایک ہی کھانا کھاتے۔ ان کی یہ روایت جنگ بلڈنگ میں بھی جنگ پبلشر کے دفتر میں جاری رہی جس کے وہ باس تھے۔ تقریباً ایک سال میں بھی جب ”جنگ“ سے منسلک ہوا تو میں ایک دفعہ پھر ان کے وسیع دستر خوان میں شریک ہوتا رہا۔    (جاری ہے)

Exit mobile version