معاون خصوصی برائے خزانہ مستعفیٰ، ایف بی آر کو 3 برسوں میں چھٹا سربراہ مل گیا

اسلام آباد: اپنی معاشی ٹیم میں ایک اور بڑا ردوبدل کرتے ہوئے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین کو ہٹا دیا جبکہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی (ایس اے پی ایم) برائے خزانہ اور محصولات ڈاکٹر وقار نے استعفیٰ دے دیا۔

 رپورٹ کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا کہ تین برس کے دوران ایف بی آر کے پانچویں چیئرمین عاصم احمد کو ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا پر بڑے سائبر حملے کے بعد ہٹا دیا گیا جبکہ ایس اے پی ایم ڈاکٹر وقار مسعود خان سے عہدہ چھوڑنے کا کہا گیا تھا کیونکہ انہیں 'اسٹیٹس کو‘ کے پیروکار کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

کابینہ کے ایک رکن نے کہا کہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے ڈاکٹر وقار مسعود خان کے ساتھ بات چیت کی اور انہیں بتایا کہ نجی شعبے کے فرد کے طور پر شوکت ترین ٹیکس اصلاحات کے عمل پر تیزی سے کارروائی چاہتے ہیں جبکہ ڈاکٹروقار مسعود خان کا تعلق پرانے مکتبہ فکر سے ہے جس پر ڈاکٹر وقار نے تسلیم کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا۔

ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکس قوانین کو آسان بنانے اور برسوں سے قانونی چارہ جوئی میں پھنسے محصولات کے معاملے میں ایف بی آر کی سست رفتار کے باعث وزیر اعظم سیکریٹریٹ ایف بی آر کی اعلیٰ انتظامیہ کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں۔

مزید یہ کہ وزیراعظم عمران خان پالیسی اقدامات کے ذریعے معاشی ترقی کو سہارا دینے کے لیے ٹیکس مشینری کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم ایف بی آر کی اعلیٰ انتظامیہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے چیئرمینز کی فوری تبدیلیاں ہوئیں۔

ڈاکٹر وقار خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے حکومت کو اپنا استعفیٰ 23 اگست کو پیش کیا تھا ’میں نے خود ہی استعفیٰ پیش کیا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ مستقبل میں اس وقت دستیاب ہوں گے جب ان کی خدمات درکار ہوں گی۔

حکومت نے ان لینڈ ریونیو سروس (آئی آر ایس) کے BS-21 افسرڈاکٹر محمد اشفاق احمد کو ایف بی آر کا نیا چیئرمین مقرر کیا ہے اور انہیں تین ماہ کے لیے سیکریٹری ریونیو ڈویژن کا اضافی چارج بھی تفویض کیا گیا ہے۔

ایف بی آر نے کابینہ کی جانب سے چھٹے چیئرمین کے طور پر ڈاکٹر محمد اشفاق احمد کی تقرری کی منظوری کے بعد 3 نوٹی فکیشن جاری کیے۔

انہوں نے آئی آر ایس کے ممبر (آپریشنز) کے اپنے موجودہ عہدے کو بھی چھوڑ دیا۔

اس حوالے سے وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ ایف بی آر کے ڈیٹا بیس پر حالیہ سائبر حملے کی وجہ سے مسٹر احمد کو ہٹا دیا گیا۔ مسٹر ترین نے کہا کہ عاصم احمد ایف بی آر میں 2 برس تک انفارمیشن ٹیکنالوجی کے رکن کے طور پر تعینات رہے لیکن انہوں نے ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے مناسب سکیورٹی نہیں لگائی۔

خیال رہے کہ عاصم احمد کو ایف بی آر کے چیئرمین کے عہدے پر فائز کیا گیا جس کے بعد سے اپریل 2021 سے آئی ٹی کا کوئی باقاعدہ ممبر مقرر نہیں کیا گیا جو ٹیکس دہندگان کی رازداری اور ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے ایف بی آر کی اعلیٰ انتظامیہ کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *