مغرب کی منافقت اور ہماری ناکام خارجہ پالیسی…(1)

ہم اجتماعی طور پر عدل و انصاف اور برابری کے معاملے میں نہایت ہی بددیانت اور خائن واقع ہوئے ہیں۔ ہماری اس خرابی نے قومی سطح پر ہمیں بے انداز نقصان پہنچایا ہے اور ہم نے ذاتی فوائد کے لیے قواعد و ضوابط اور اصول توڑے ہیں لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ ہماری ساری خرابیاں چھوٹے چھوٹے ذاتی معاملات و مفادات کے گرد گھومتی ہیں۔ دوسری طرف ہم قانون کی سربلندی‘ عدل و انصاف کے تقاضوں اور انسانی حرمت کے حوالے سے مغرب کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے اور عالم یہ ہے کہ جب ان کا معاملہ کافر اور مسلمان یا دنیاوی نفع و نقصان کے درمیان آن ٹھہرے تو پھر مغرب کی بے ایمانی‘ خیانت‘ دہرے معیار اور جھوٹ دیکھنے کے لائق ہوتے ہیں۔ اسرائیل اور فلسطین کے معاملے پر تو اب بات کرنا گویا دل جلانے کے علاوہ اور کسی کام کی نہیں۔ مغرب ایسی کھلی بے ایمانی اور خیانت کرتا ہے کہ اسے خود اپنے جھوٹ اور دہرے معیار کا کوئی منطقی جواز نہیں سوجھتا۔
کھلی کھلی کمینگیاں اور صاف صاف گھٹیاپن۔ مثلاً اب دو چار دن پہلے بھارت کو کورونا کی ریڈ لسٹ سے نکالنا اور پاکستان کو ریڈ لسٹ میں برقرار رکھنا۔ اب اس عمل کا کوئی بھی جواز سمجھ نہیں آتا۔ سائنس‘ میڈیکل‘ منطق اور اخلاقیات‘ غرض کسی حوالے سے ''گورے منصف‘‘ کے پاس اپنے اس عمل کا کوئی جواب نہیں ہے‘ مگر ڈھٹائی اور بے شرمی کا یہ عالم ہے کہ ایک پنجابی محاورے کے مطابق ''چٹے دن‘‘ میں یہ کام کھلم کھلا کیا گیا ہے اور کسی کو کوئی ذرا سی شرمندگی محسوس نہیں ہو رہی۔
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں امریکہ کے بعد کورونا کے سب سے زیادہ کیسز بھارت میں رپورٹ ہورہے ہیں جبکہ پاکستان دنیا بھر میں اس وقت اکتیسویں نمبر پر ہے۔ اموات کی تعداد دیکھیں تو بھارت میں ہونے والی چار لاکھ ستائیس ہزار (جو بہت سے اداروں کے نزدیک بہت کم بتائی جا رہی ہیں) کے مقابلے میں پاکستان میں اب تک اس جان لیوا بیماری سے چوبیس ہزار کے لگ بھگ اموات ہوئی ہیں مگر برطانیہ نے ریڈ لسٹ سے بھارت کو نکال دیا ہے جبکہ پوری دنیا میں کورونا کے وائرس کی نئی قسم ڈیلٹا دراصل بھارت سے ہی پوری دنیا میں پھیلی تھی اور عالمی سطح پر بھارت کو کسی امتیازی سلوک کا نشانہ بننے سے تحفظ دیتے ہوئے اس بھارتی قسم کو ''ڈیلٹا‘‘ کا نام دے دیا گیا مگر یہ حقیقت تو کسی طور پر چھپ نہیں سکتی کہ بھارت ہی وہ ملک ہے جہاں سے پھیلنے والی وائرس کی یہ نئی قسم اس وقت پوری دنیا کے لیے ایک نیا مسئلہ بنی ہوئی ہے مگر ڈیلٹا وائرس کے آبائی گھر اور دوسرے نمبر پر آنے والے ملک کو تو ریڈ لسٹ سے نکال دیا گیا ہے اور اکتیسویں نمبر پر آنے والے ملک سے یہ پابندی نہیں اٹھائی جا رہی۔ اب اس پر کیا کہا جا سکتا ہے؟ سوائے اس کے کہ مغرب جب منافقت اور بے ایمانی پر اتر آئے تو پھر اسے کسی بات کی نہ تو شرمندگی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی ڈر خوف۔
ویسے تو اس سلسلے میں ہماری وزارتِ خارجہ کو بھی ناکامی کا تمغہ دیا جا سکتا ہے کہ وہ عالمی ادارۂ صحت کی طرف سے پاکستان میں کورونا کے کنٹرول پر زبانی کلامی تعریفی بیانات کے باوجود پاکستان کو عالمی سطح پر ان ممالک میں شامل نہیں کروا سکی جنہیں سفری رعایتیں حاصل ہیں بلکہ یورپ کو چھوڑیں‘ پاکستان کو تو خلیجی ممالک تک میں ترجیحی منفی سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں سفری پابندیوں کا ملبہ جن ممالک پر سب سے زیادہ گرا ہے پاکستان ان میں سرفہرست ہے؛ تاہم اگر یہ ایک طرف پاکستانی وزارتِ خارجہ کی ناکامی ہے تو دوسری طرف بھارتی وزارتِ خارجہ اور دیگر ممالک میں کام کرنے والی بھارتی لابی کی بھرپور کامیابی ہے جنہوں نے بھارت میں کورونا کی ہلاکت خیز تباہی کے باوجود بھارت کو وہ سفری سہولتیں اور رعایتیں دلوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے‘ بھارت جن کا کسی طور بھی حقدار نہ تھا۔
گزشتہ روز ایک دوست کے ہاں برطانیہ سے پاکستان آتے ہوئے ماہرِ تعلیم‘ سماجی کارکن اور برطانیہ میں پاکستان کے مفادات کے لیے بہت ہی سرگرم اپنے دیرینہ دوست طہٰ قریشی سے اچانک ملاقات ہوئی تو غنیمت جان کر ان سے اس معاملے پر رہنمائی مانگی تو وہ کہنے لگے :یہ سیدھی سیدھی بے ایمانی اور نا انصافی کا معاملہ ہے مگر اس کی نبیادی وجہ صرف اور صرف ''منڈی کی معیشت‘‘ یعنی مارکیٹ اکانومی ہے۔ بھارت زیادہ بڑی منڈی ہے۔ ڈیڑھ ارب لوگوں کی مارکیٹ میں زیادہ کشش ہوتی ہے۔ مغرب کا معاملہ جب روپے پیسے پر آ جائے تو سارا میرٹ‘ انصاف ‘ اخلاقی اقدار اور قواعد و ضوابط دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ یہ ممالک سیدھا سیدھا حساب کرتے ہیں کہ کس ملک سے تجارت اور کاروبار میں نفع اور باہمی درآمد و برآمد کا پھیلاؤ کتنا ہے اور کون سا ملک ان کی ملکی اکانومی میں کتنا حصہ ڈال رہا ہے۔ برطانیہ کی بھارت سے ہونے والی تجارت کا حجم پاکستان کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ ہے اور جب معاملہ معاشی فوائد پر آن ٹھہرے تو مغرب سے زیادہ بے ایمان اور منافق ممالک روئے ارض پر موجود نہیں ہیں۔ ان کے معیاردہرے ہیں اور اس کا دارومدار ان کے اپنے ذاتی نفع نقصان پر منحصر ہے۔ شرمندگی اور خجالت وغیرہ کی ان کی ڈکشنری میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ مغرب کے انصاف کا معیار ان کا ذاتی طے کردہ ہے اور اس کا اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
وہیں گفتگو کے دوران میں نے ان سے پوچھا کہ یہ FATF اور جی ایس پی پلس والا کیا معاملہ ہے اور اس پر کیا ہونے جا رہا ہے؟ طہٰ قریشی کہنے لگے: بھارتی لابی پورے زور و شور سے فیٹف میں پاکستان کو کم از کم گرے لسٹ میں رکھنے کے لیے تو پورا زور لگا رہی ہے اور نوے فیصد سے زائد معاملات پر تسلی نخش پیشرفت کے باوجود پاکستان کا فیٹف کی گرے لسٹ میں رہنے کے پیچھے بھارتی لابی اور وزارتِ خارجہ کا پورا پورا ہاتھ ہے اور اس سلسلے میں بہت اہم چیز ''Suffocation of the Faithful‘‘کے عنوان سے لکھی جانے والی 167 صفحات پر مشتمل وہ رپورٹ ہے جو 20 جولائی 2020ء کو شائع ہوئی۔ یہ رپورٹ بھارتی لابی نے قادیانیوں کے ساتھ مل کر بھارتی لابی کے برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے شائع کروائی ہے۔ یہ رپورٹ نہایت ہی خوفناک موضوع کو مرکز بنا کر پاکستان کے خلاف لکھی گئی اور اسے یورپی یونین میں بھجوا کر پاکستان کے خلاف قرارداد منظور کروائی گئی۔ اس رپورٹ کا موضوع اتنا حساس ہے کہ سن کر حیرت ہوتی ہے۔ اس کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ''عالمی سطح پر ہونے والی انتہا پسندی کو پاکستانی ریاست سپانسر کر رہی ہے۔ پھر اس رپورٹ میں ایک اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں پر ظلم و ستم ہو رہا ہے‘‘۔
طہٰ قریشی بتانے لگے کہ وہ اس رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن گئے اور وہاں ہائی کمشنر کو ملنے کے بعد اس بات پر زور دیتے رہے کہ پاکستان کو اس رپورٹ کے جھوٹے اور غلط ہونے کے بارے میں سفارتی سطح پر اور ہائی کمیشن لیول پر نہ صرف اپنا احتجاج نوٹ کروانا چاہیے بلکہ اس جھوٹ کے پلندے کا جواب دینا چاہیے۔ طہٰ قریشی نے بتایا کہ وہ اس وقت حیرت اور صدمے سے گنگ رہ گئے جب ہائی کمشنر نے انہیں کہا کہ انہیں اس رپورٹ کا علم ہے اور وہ نہ صرف خود اس بارے میں جان بوجھ کر خاموش ہیں بلکہ طہٰ قریشی کو بھی اس سلسلے میں خاموش رہنا چاہیے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ خاموشی کے نتیجے میں یہ رپورٹ اپنی موت آپ مر جائے گی بصورت دیگر شور اٹھنے پر جن لوگوں نے یہ رپورٹ ابھی تک نہیں دیکھی وہ بھی اس رپورٹ سے آگاہ ہو جائیں گے اور اس سے پاکستان کی خواہ مخوابدنامی ہوگی۔ طہٰ قریشی کہتے ہیں کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں کسی سنجیدہ معاملے کو سلجھانے کے سلسلے میں اس قسم کا سفارتی طرزِ عمل نہ کبھی دیکھا تھا اور نہ ہی کبھی سنا تھا۔ (جاری )