مغرب ہم سے جیت نہیں سکتا!

یہ اس وقت کی بات ہے جب پاکستانی عوام مطمئن زندگی گزارا کرتے تھے، ان دنوں امارت کی دو نشانیاں تھیں ایک کسی کے پاس ریلے کی سائیکل ہونا اور دوسرا گھر میں ایک خوبصورت سے ریڈیو سیٹ کی موجودگی۔معاشرے نے اس سے اگلی چھلانگ اسکوٹر تک لگائی جس کے پاس اسکوٹر ہوتا تھا وہ کتنی شان سے گھر سے نکلتا تھا۔ اس اسکوٹر کی جتنی خدمت خاطر ہوتی تھی وہ آج کے لگژری کار ہولڈر کیا جانیں ، اس دور میں بدمعاشی بھی بہت کم پیسوں میں ہو جاتی تھی، کالج یا اسکول میں پڑھنے والے غنڈہ ٹائپ لڑکوں کے پاس لوہے کا مکّا ہوتا تھا جو وہ دستانے کی طرح ہاتھ پر چڑھا کر لڑائی جھگڑے کے دوران مخالف کو جڑتے تھے۔جو سچ مچ کے بدمعاش ہوتے ان کے پاس گراری والا چاقو ہوتا جس کا لیور دبانے سے وہ کرکر کرتا ہوا کھلتا اور اکثر صورتوں میں مدمقابل اس کی یہ کرکرسن کر ہی بھاگ کھڑا ہوتا تھا اس کے علاوہ بھی ایک ہتھیار تھا جس کی دہشت بہت زیادہ تھی یہ سوڈے کی بوتلیں تھیں کسی بازار میں لڑائی ہونے کی صورت میں فریقین ایک دوسرے پر سوڈے کی یہ بوتلیں پھینکتے تھے زیادہ تر یہ بوتلیں مخالف فریق کو مارنے کی بجائے سڑک پر زور سے ماری جاتی تھیں جس سے خوفناک دھماکہ ہوتا تھا اور مدمقابل بھاگ جاتا تھا بلکہ تماشائی بھی وہاں سے دوڑ لگا دیتے تھے اور یوں یہ ’’بوتل بم ‘‘ کوئی جانی نقصان کئے بغیر میدان صاف کر دیتا ۔

اس دور میں ڈاکو نہیں ہوتے تھے ، چور ہوتے تھے وہ آدھی رات تک اہلخانہ کے سونے کا انتظار کرتے جب انہیں یقین ہو جاتا کہ سب سوگئے ہیں وہ لنگوٹ باندھ کر اور جسم پر تیل مل کر دبے پائوں گھر میں داخل ہوتے، لنگوٹ اس لئے باندھا جاتا کہ اہلخانہ میں سے اگر کوئی جاگ جائے اور اسے پکڑنے کی کوشش کرے تو کپڑے کا کوئی سرا اس کے ہاتھ نہ آئے اور جسم پر تیل اس لئے ملا جاتا تھا کہ اگر اہلخانہ میں سے کوئی فرد اسے قابو کرنے کیلئے جپھا بھی ڈالے تو تیل کی وجہ سے اس کے ہاتھ پھسل جائیں اور یوں چور کو بھاگنے کا موقع مل جائے ۔یہ ڈاکو وغیرہ تو کل کی پیداوار ہیں جو دن دہاڑے گھروں میں داخل ہوتے ہیں اور اہلخانہ سے اپنی پسند کا کھانا تیار کرواتے ہیں۔سی ڈی پلیئر پر فلم دیکھتے ہیں اور سپیدہ سحر نمودار ہونے پر گھر کو اپنے وجود اور نقدی و زیورات سے خالی کرکے اپنے پشت پناہوں کے پاس چلے جاتے ہیں ۔افسوس ہمارے ہاں چوروں کا انسٹی ٹیوشن ختم ہو کر رہ گیا ہے یہ بہت وضعدار لوگ تھے ۔ان شریف النفس لوگوں کی کچھ اخلاقی اقدار تھیں جن کی وہ پابندی کرتے تھے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس انسٹی ٹیوشن کے احیاء کیلئے چار پانچ دہائی پہلے کے چوروں کی ایک کمیٹی تشکیل دے جس کا سربراہ موجودہ ڈاکو ہو اور یوں کچھ دو اور کچھ لو کے اصول کے تحت مسئلے کا حل تلاش کیا جاسکے۔

اب ہمارا معاشرہ بہت آگے نکل گیا ہے۔ ریڈیو اور اسکوٹر قصہ پارینہ بن چکے ہیں، چور غائب ہیں ان کی جگہ ڈاکوئوں نے لے لی ہے ۔اب چاقو کی بجائے کلاشنکوف استعمال ہوتی ہے جس کا ایک ’’چھٹا‘‘ دس بارہ بندے ’’کھڑے کھلوتے‘‘ بھون کر رکھ دیتا ہے ۔بلکہ اکثر یہ خبر بھی دیکھنے میں آتی ہے ’’دو پارٹیوں میں تصادم کے نتیجے میں تین راہگیر ہلاک ہو گئے ‘‘ اسکوٹر غریب غرباء استعمال کرتے ہیں ان کی جگہ لیزنگ پر بڑی مہنگی کاریں خریدی جاتی ہیں یا ’’OWN‘‘یعنی بلیک پر کسی بھی شوروم سے نقد ادائیگی کرکے گاڑی کے فوری حصول کا شوق پورا کیا جا سکتا ہے ۔ریڈیو نام کی کوئی چیز اب کہیں نظر نہیں آتی بلکہ ٹیپ ریکارڈر اور وی سی آر بھی ماضی کی یاد گار بن کر رہ گئے ہیں ، ایک وقت تھا کہ پورے محلے میں کسی ایک گھر میں ٹیلی فون ہوتا تھا وہ گھر رضاکارانہ طور پر پی سی او کا کام بھی دیتا تھا، اب ہر جیب میں موبائل فون ہے گلی گلی اور محلے محلے موبائل فون کی دکانیں ہیں لوگوں کے دونوں ہاتھوں میں موبائل فون ہوتے ہیں آمدنی میں اتنا اضافہ نہیں ہوا جتنا نت نئی تفریحی ایجادات نے اخراجات میں اضافہ کر دیا ہے یعنی مائیکروویو اوون، کیبل، ایئر کنڈیشنر، سپلٹ یونٹ اور دوسری اشیائے آسائش نے مطمئن زندگیوں کو غیر مطمئن بنا کر رکھ دیا ہے۔ مغرب ترقی کر رہا ہے ہم ترقی کی نقل کر رہے ہیں، وہ چیزیں ایجاد کرتا او رتیار کرتا ہے ہم وہ خریدنے کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں ۔مغرب تباہ کن ہتھیار تیار کرتا ہے ہم یہ ہتھیار خود پر استعمال کرتے ہیں۔ مقابلہ سخت ہے مگر ہم ہمت ہارنے والے نہیں ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *