مقدر کا سکندر

اپریل 2007میں جب افتخار چودھری کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے منصب پر بحال کروانے کی تحریک چلی تو کئی صحافیوں کو بھی ٹی وی سکرینوں پر خود کو جرأت وصداقت کی علامتیں ثابت کرنے کا بہانہ مل گیا۔بہتی گنگا میں ذات کے اس رپورٹر نے بھی اشنان کیا۔تھوڑ ی شہرت اور راحت کے حصول کے باوجود کبھی کبھار ٹی وی سکرینوں پر ہی لیکن یاد دلانے کو مجبور ہوجاتا کہ ریاست ریاست ہوتی ہے۔گفتار کے غازی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔وہ مشتعل ہوکر اپنی آئی پر آگئی تو مجھ جیسے پاٹے خان بلوں میں چھپنے ہی میں عافیت محسوس کریں گے۔

صحافتی تجربے کی بنیاد پر تشکیل ہوئی میری رائے کو بڑھاپے کے ہمراہ آئی احتیاط ٹھہرا کر رد کردیا گیا۔جرأت و صداقت کے کئی جوان سال نقیب حقارت سے اصرار کرتے رہے کہ پاکستان اب بدل چکا ہے۔اس کی آبادی کا 60فی صد سے زائد حصہ 15سے 29سال کے درمیان والی عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔وہ نظام کہنہ سے اُکتا چکے ہیں۔صحافیوں سے سوال کررہے ہیں کہ تمہارے لب آزاد ہیں تو بول کیوں نہیں رہے۔ ذاتی طورپر اس ضمن میں میری مزید بدقسمتی یہ بھی ہوئی کہ ٹی وی کے لئے جو پروگرام کرتا تھا نام اس کا ’’بولتا پاکستان‘‘ تھا۔ بہت کچھ بولنے کو مجبور ہوگیا۔ جنرل مشرف کی حکومت نے بالآخر ہاتھی کے کھانے والے دانت استعمال کئے اور میں ٹی وی سکرینوں سے چند دیگر ساتھیوں سمیت غائب ہوگیا۔ہم میں سے چند نیک چلنی کے وعدوں کے ساتھ اگرچہ سکرینوں پر واپس لوٹ آئے۔مجھ جیسے بدبختوں کے لئے 2008کے انتخاب کے نتائج بروئے کار آنے کے بعد ہی معافی تلافی کی گنجائش دریافت ہوئی۔

نومبر2007سے کئی مہینوں تک صحافت سے جبر یہ انداز میں نکالے ایام کے دوران میں نے اپنے پیشے کی محدودات کو کامل لگن سے جاننے کی کوشش کی۔ٹی وی سکرین پر واپس لوٹا تو ہمیشہ مصر رہا کہ اپنے تئیں حق وصداقت 

کے علمبردار بنے ہم اس درخت کو کاٹنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جس کا پھل ہمیں توانائی فراہم کرتا ہے۔جس کی شاخیں ہمیں طاقت ور طبقات کے غضب سے بچائے رکھتی ہے۔احتیاط کی یہ التجائیں مگر بزدلی شمار ہوئیں۔افتخار چودھری اپنے منصب پر لوٹ چکے تھے اور وہ سیاست دانوں کی کرپشن کے خلاف ازخود نوٹسوں کی بھرمار سے مستقل جہاد میں مصروف نظر آئے۔اپنی منجھی کے نیچے مگر پنجابی محاورے والی ڈانگ نہ پھیرپائے۔ ان کے فرزند کارباری اعتبار سے خوش نصیب وذہین ترین ثابت ہونا شروع ہوگئے۔توہین عدالت کے خوف سے ہم اپنے تئیں پھنے خان ہوئے صحافی مگر ارسلان کی دن دگنی اور رات چگنی ترقی کے نسخے دریافت نہ کر پائے۔وہ دریافت کرنے کے بعد بیان کردئیے جاتے تو 15سے 29سال کے درمیان والی عمر کے کئی نوجوان بھی اپنا مقدر سنوار لیتے۔برانڈڈ کپڑے پہنتے۔ اہل خانہ کے ہمراہ یورپ کے شہروں میں چھٹیاں گزارتے۔ شغلاََ کسی کیسنو میں بھاری بھر کم رقم بھی لگادیتے۔

2011میں لیکن عمران خان صاحب کی صورت 15سے 29سال کے درمیان والی عمر کے پاکستانی نوجوانوں کو ایک دیدہ ور بھی مل گیا۔میری نظر گیارہ سال کی عمر ہی میں کمزور ہونا شروع ہوگئی تھی۔تقریباَََ ہر برس شیشوں کا نیانمبر لگوانا ہوتا تھا۔غالبؔ کی طرح رہبر کو بروقت پہچاننے کی سکت سے لہٰذا محروم رہا۔اس کوتاہی کے باعث بالآخر نواز شریف سے لفافے لینے کا مجرم قرار پایا۔ حالانکہ موصوف کی مجھ پر مہربانیاں ان کے دونوں ادوار حکومت میں کم ازکم اسلام آباد کے ہر صحافی پر آشکار رہی تھیں۔

بہرحال جرأت وصداقت کی صحافتی علامتوں کی اکثریت عمران خان صاحب کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہوگئی۔ان کی قیادت میں نئے پاکستان کی جانب سفر کا آغاز ہوا۔ ’’کنے کنے جانا اے بلودے نال‘‘ کی صدائیں بلند کرتے ہوئے اینکر خواتین وحضرات کی اکثریت ان کی چلائی بس کے لئے سواریاں ڈھونڈنا شروع ہوگئی۔ میرا گلا اس ضمن میں بھی ناکارہ ثابت ہوا۔عمران خان صاحب بالآخر اگست 2018میں وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئے تو چند ہی ہفتوں بعد دریافت ہوگیا کہ میں جس ٹی وی ادارے کے لئے کام کرتا ہوں وہ معاشی بدحالی کاشکار ہوجاتا ہے۔میرا بوجھ 

برداشت نہیں کرسکتا۔ دہائیوںتک پھیلے صحافتی کیرئیر میں پہلی بار نوکری سے نکالے جانے کی ذلت برداشت کی۔اب کونے میں بیٹھ کر دہی کھاتا ہوں۔ ہفتے کے پانچ دن صبح اٹھتے ہی یہ کالم لکھتا ہوں۔اسے لکھتے ہوئے ہمیشہ اس خوف میں مبتلا کہ ’’نوائے وقت‘‘ کے لئے بھی سبز قدم ثابت نہ ہوں۔اپنی ایڈیٹر محترمہ رمیزہ مجید نظامی کا ممنون اور احسان مند ہوں کہ مجھ ایسے بھاری پتھر کو برداشت کئے جارہی ہیں۔

تمہید ضرورت سے زیادہ طویل ہوگئی ہے۔ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا۔ اِدھر اُدھر کی ہانکنے کے بعد اشارے کنائیوں میں اطلاع آپ کو فقط یہ دینا تھی کہ گزشتہ تین دنوں سے ہماری صحافت میں جرأت وصداقت کی مجسم علامتیں شمار ہوتیں کچھ ہستیاں سرگرشیوں میں ایک دوسرے کے ساتھ فقط ایک ہی موضوع پر ’’اندر کی بات‘‘ معلوم کرنے کو بے چین ہیں۔ان میں سے کئی ایسے افراد بھی ہیں جن کے چلائے یوٹیوب چینل دیکھیں تو گماں ہوتا ہے کہ وزیر اعظم صاحب کسی بھی فائل پر دستخط سے قبل ان سے رہ نمائی کے طلب گار ہوتے ہیں۔حق گو افراد کی ایک اور صنف بھی ہے جو قومی سلامتی اور خارجہ امور کے حساس ترین پہلوئوں کو بھی حب الوطنی کی حرارت سے بیان کردیتے ہیں۔

جو موضوع ان کے مابین زیر بحث ہے اسے اپنے کالموں یا ٹی وی پروگراموں میں بیان کرنے کے حوالے سے جرأت وصداقت کی یہ علامتیں مگر ان دنوں بیمار شمار نظر آرہی ہیں۔کمال ہوشیاری سے منتظر ہیں کہ بالآخر جو جیتے گا اس کے ساتھ ہوں لیں گے۔عملی صحافت سے عرصہ ہوا کنارہ کش ہوجانے کے باوجود مجھے جبلی طورپر اعتماد ہے کہ مذکورہ موضوع کے حوالے سے وہی جیتے گا جو ہمیشہ سکندر رہا ہے اور فقط مقدر ہی سکندر نہیں بنایا کرتے۔سکندری کو ٹھوس حکمت عملی اور اسباب درکار ہوتے ہیں۔دورِ حاضر کے سکندر شمار ہوتے صاحب کو وہ فراہم ہوتے تو شاہ محمود قریشی ،اسد عمر اور فواد چودھری صاحب جیسے ذہین وفطین وزراء گزشتہ تین دنوں سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان پھیرے نہ لگارہے ہوتے۔