ملاقات کی کیا ضرورت ہے؟

یہ تقریباً اڑھائی ماہ پرانی بات ہے۔ میں نے امریکہ سے واپسی پر لاہور ایئرپورٹ پر اترتے ہی اپنے فون میں سے امریکہ کا سم کارڈ نکالا اور اپنی پاکستانی سم فون میں ڈالی ہی تھی کہ دھڑا دھڑ میسجز آنے شروع ہو گئے۔ یہ سارے وہ میسجز تھے جو دوران پرواز دوستوں نے بھیجے تھے۔ جونہی فون آن ہوا اور انٹرنیٹ سے رابطہ قائم ہوا تو واٹس ایپ نے اپنا کام دکھانا شروع کر دیا۔ اس وقت میں نے فون کو اس کے حال پر چھوڑ دیا اور خود امیگریشن، کورونا کے فوری ٹیسٹ اور سامان کی وصولی میں مصروف ہوگیا۔ میں نے سوچا‘ جہاں اتنا وقت ان پیغامات کو پڑھے بغیر آرام سے گزر گیا ہے اگر ایک دو گھنٹے مزید گزر جائیں گے تو کونسی قیامت آجائے گی؟ سو میں ایئرپورٹ سے اپنے ڈیرے پر آیا، وہاں پہنچ کر ایک نظر آنے والے پیغامات پر ڈالی۔ دو چار پیغامات ان جانے نمبروں سے آئے تھے‘ انہیں پڑھا اور پھرسو گیا۔ صبح اٹھ کر ناشتہ کیا گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور ملتان روانہ ہو گیا۔
راستے میں فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے فون کو گاڑی کے آڈیو سسٹم سے منسلک کیا ہوا تھا۔ یہ کال کسی اجنبی نمبر سے آئی تھی، خیر میں نے فون آن کر دیا۔ دوسری طرف ارسلان بٹ صاحب تھے۔ مجھے یاد آیا کہ ان کا پیغام رات آنے والے پیغامات میں سے ایک تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ مجھے واٹس ایپ پر میسج بھیج چکے ہیں۔ جواباً میں نے بھی انہیں بتایاکہ رات گئے امریکہ سے واپس آیا ہوں اور ان کا پیغام دیکھ چکا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہبازگل کے دفتر سے بات کررہے ہیں اور گل صاحب مجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے انہیں کہا: میں فی الوقت ڈرائیونگ کررہا ہوں‘ بہتر ہوگا‘ وہ دو اڑھائی گھنٹے بعد بات کرلیں‘ تب تک میں ملتان پہنچ جائوں گا اور تسلی سے بات کرسکوں گا۔ انہوں نے میری بات سے اتفاق کرتے ہوئے فون بند کردیا۔ ملتان پہنچنے کے دو تین گھنٹے بعد ایک اجنبی نمبر سے فون آیا۔ فون کی دوسری طرف شہبازگل تھے۔ میری شہبازگل سے دوسری بار بات ہورہی تھی۔ اس سے قبل بھی چار چھ ماہ پہلے وہ مجھ سے بات کرچکے تھے۔ اس گفتگوکو اگر ہم ناخوشگوار نہیں کہہ سکتے تو بہرحال وہ کوئی خاص خوشگوار بھی نہیں تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کا سراسر ذمہ دار شاید میں ہی تھا۔
شہبازگل کہنے لگے کہ وزیراعظم عمران خان دو روز بعد لیہ آ رہے ہیں اور میری خواہش ہے کہ آپ کی ان سے ملاقات کروائی جائے اور جنوبی پنجاب میں زراعت کے حوالے سے آپ انہیں اپنی تجاویز دیں تاکہ جنوبی پنجاب میں زراعت کی صورتحال کو بہتر کیا جا سکے۔ پھر کہنے لگے کہ میں آپ کا وزیراعظم سے تعارف بھی کرانا چاہتا ہوں۔ میں دل ہی دل میں ہنسا اور کہا: گل صاحب! جہاں تک عمران خان صاحب سے تعارف کا معاملہ ہے وہ تو بارہ تیرہ برس پہلے ہو چکا ہے‘ تب خان صاحب نے شاید آپ کا تو نام بھی نہیں سنا ہوگا مگر میرا وہ تعارف عمران خان سے تھا‘ وزیراعظم پاکستان سے نہیں تھا‘ اور مجھے وزیراعظم سے تعارف کی ضرورت بھی نہیں کہ وزرائے اعظم ایسے تعارف یاد نہیں رکھا کرتے اور جو تعارف یاد نہ رہے اس کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے لہٰذا اس تعارف والے تکلف کو تو ایک طرف رکھیں‘ لیکن میں لیہ نہیں آ سکوں گا۔
شہبازگل کہنے لگے: کیا میں اس انکار کی وجہ دریافت کرسکتا ہوں؟ میں نے کہا: دریافت کرنے کی کیا ضرورت ہے‘ میں آپ کو ویسے ہی بتا دیتا ہوں‘ جب آپ لوگ اسلام آباد یا لاہور میں وزیراعظم صاحب سے صحافیوں کی ملاقاتیں کرواتے ہیں تب تو آپ کو جنوبی پنجاب یاد نہیں آتا۔ اب لاہور یا اسلام آباد سے صحافی لیہ آنے پر تیار نہیں تو آپ کو ملتان کے صحافی یاد آ گئے ہیں‘ گل صاحب! میری بات کو دل پر نہ لیجیے گا‘ مگر میں کسی بینڈ ویگن میں سوار ہو کر شامل باجہ نہیں ہو سکتا۔ شہبازگل کہنے لگے: میں آپ کی بات نہیں کررہا لیکن بہت سے صحافی جہاز پر آنے کی فرمائش کرتے ہیں اور ہم اس قسم کی فضول خرچی کے قائل نہیں ہیں۔ میرے پاس ان کی اس بات کا بڑا شافی جواب موجود تھا اور میں انہیں یہ کہہ سکتا تھاکہ آپ کو لاہور یا اسلام آباد کے صحافیوں کو جہاز پر بلاتے ہوئے تو بچت یاد آجاتی ہے لیکن ابھی دو چار روز پہلے ہی آپ لوگوں نے ملتان کے نواحی ضلع سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے ایک منحرف ایم این اے کو اس کے میڈیکل چیک اپ کیلئے سرکاری خرچ پر نہ صرف خصوصی طیارے کے ذریعے ایک خلیجی ریاست بھجوایا ہے بلکہ اس کے ڈاکٹر کو بھی سنگاپور سے اسی خلیجی ریاست بلوایا ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا گیا کہ کورونا کے باعث عائد سفری پابندیوں کی وجہ سے اس رکن اسمبلی کا اپنے علاج کیلئے سنگاپور جانا ممکن نہیں تھا اور آپ نے اس منحرف مسلم لیگی ایم این اے کو یہ ساری سہولیات سرکاری خرچ پر مہیا کیں۔ تب آپ کو بچت یاد نہیں تھی؟ مگر میں نے یہ بات ان سے صرف اس لیے نہ کی کہ کہیں وہ اس مثال کو میری طرف سے حسن طلب نہ سمجھ لیں۔
پھر میں نے ان سے کہا: گل صاحب! بندہ کسی کو ملتا اس لیے ہے کہ اس سے کچھ سیکھ سکے اور اسے کچھ بتا بھی سکے مگر ادھر یہ عالم ہے کہ خان صاحب کو صرف اور صرف اپنی بات سنانے کا شوق ہے‘ اوپر سے انہیں ہر بات کا نہ صرف پتا ہے بلکہ وہ ہر شے کے بارے میں اس کے ماہرین سے بھی زیادہ علم کے دعویدار ہیں‘ تو بھلا انہیں ملنے کا فائدہ؟ انہیں کسی کی بات سننے کی عادت ہے اور نہ ہی ان کا مزاج ہے۔ اگر میں نے ملتان سے لیہ جا کر صرف انہیں ہی سننا ہے تو یہ کام میں صبح اخبار پڑھ کر لوں گا‘ زیادہ ہوا تو ان لوگوں سے فون کرکے معلوم کر لوں گا جو وہاں موجود ہوں گے۔ بھلا اس کے لیے مجھے لیہ جانے کی کیا ضرورت ہے؟ اب نام کیا لینا؟ میں نہیں چاہتا کہ آخری عمر میں انہیں ہماری وجہ سے خان صاحب کی ڈانٹ ڈپٹ سننی پڑے مگر ایک وفاقی وزیر نے ہمارے ایک دوست کو بتایا کہ میٹنگز میں خان صاحب یکطرفہ ہی ارشاد فرماتے رہتے ہیں اور کسی کو بولنے کا موقع کم ہی دیتے ہیں‘ یعنی خان صاحب ڈائیلاگ کے نہیں بلکہ مونولاگ کے قائل ہیں۔ اب بھلا جس بندے کو سننے کے بجائے سنانے کا شوق ہو اس کو زراعت کے بارے میں کیا بتایا جا سکتا ہے؟ ایسے بندے سے تو تب ملاقات کرنی چاہیے جب ہمارا کچھ سنانے کے بجائے سننے کا موڈ ہو اور فی الحال میرا ایسا کوئی موڈ نہیں تھا۔
اگلے روز ایک سرکاری افسر کا فون آیاکہ رات میڈم فردوس عاشق اعوان صاحبہ کے ساتھ ڈنر کیلئے فلاں جگہ تشریف لے آئیں۔ میں نے کہاکہ میں رات کا کھانا اپنے بچوں کے ساتھ گھر میں کھانا پسند کروں گا۔ فون بند کرنے سے پہلے میرے دل میں آیا کہ میں اس سے پوچھوں کہ کیا میڈم کی ناراضگی ختم ہو گئی ہے اور وہ اپنے کمرے سے باہر آ گئی ہیں یا ابھی تک غصے میں ہیں؟ اور ندیم قریشی کے ذریعے ان کو کمرے سے باہر لانے کے نسخے نے کام کیا ہے یا نہیں؟ لیکن پھر میں نے اپنا ارادہ تبدیل کر دیا۔ ہمیں تو بہرحال یہ آزادی ہے کہ دل چاہے تو انکار کر دیں مگر بیچارے سرکاری ملازم کے پاس یہ اختیار کم ہی ہوتا ہے۔ نوکری کیہہ، تے نخرا کیہہ۔ یہ والا واقعہ رعونت اور مجبوری کا حسین امتزاج ہے مگر چھوڑیں۔ میرا تو خیر کیا جانا ہے ؟ سرکاری ملازموں کی شامت آ جائے گی۔ رہ گئی بات زراعت بارے مشوروں کی، تو کپاس کے وائرس فری کم مدت میں پیداوار دینے والے بیج کی تیاری ‘ کاشتکار کیلئے براہ راست سبسڈی کا نظام ‘ کراپ پیٹرن کی درستی اور محکمہ زراعت (توسیع) کو حقیقی معنوں میں فعال کرنے سے اس کا آغاز کریں۔ رہ گئی اس سلسلے میں تفصیل تو شہبازگل اگر میرے زراعت کے بارے میں لکھے گئے کالم خان صاحب کو پڑھا دیں تو یہی کافی ہے۔ ملاقات کی کیا ضرورت ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.