ملتان سلطانز پی ایس ایل 6 کی فاتح: زلمی پر صہیب مقصود کا پریشر ابھی باقی تھا

مثبت پسندی اور خوش خیالی کی بھی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ ذہن سازی خیال سے ہی ہوتی ہے اور خیال سے طاقت ور شے شاید ہی کوئی ہو۔

جب ملتان سلطانز پی ایس ایل کی کراچی 'لیگ' میں پے در پے شکست کھا رہے تھے تو اس شکست خوردہ ڈریسنگ روم کے ماحول میں شکوے شکایتوں اور طعن و تشنیع کے بجائے مثبت پسندی اس درجہ تک پنپ رہی تھی کہ اسے خوش خیالی سے تعبیر کرنا بھی بے جا نہ ہو گا۔

ٹیم میدان سے ہار کر آ رہی ہوتی اور کوچ اینڈی فلاور کھلی بانہوں سے اپنے سبھی کھلاڑیوں کا چیمپیئن کہہ کر استقبال کرتے۔ کرک انفو سے گفتگو میں صہیب مقصود کہتے ہیں کہ بسا اوقات ہمیں خود بھی ہنسی آ جاتی کہ ہم ہار کر آئے ہیں مگر ہمارا کوچ پھر بھی ہمیں چیمپیئن کہہ کر پکارتا ہے۔

مگر اینڈی فلاور اپنے تئیں مصر تھے کہ ان کی ٹیم جیتے یا ہارے، اس کا رویہ چیمپیئنز کا سا ہی رہنا چاہیے۔ ویسے بھی اس ٹیم کے کپتان محمد رضوان کا رویہ تو انٹرنیشنل کم بیک کے بعد سے ہے ہی چیمپیئنز والا۔

ٹی ٹوئنٹی میں کپتانی کافی ہمت طلب اور صبر آزما کام ہے۔ اہم مواقع پر بولنگ میں تبدیلیاں لانا، فیلڈ میں ایڈجسٹمنٹ کرنا اور مطلوبہ رن ریٹ کم ہوتے اگر باؤنڈریز کی مار پڑ جائے تو اپنے بولرز کا اعتماد بڑھانا، یہ سبھی خاصے مشکل کام ہیں۔

مگر محمد رضوان کا کرکٹنگ کریئر میں یہ دوسرا جنم ابھی تک محیرالعقول ثابت ہوا ہے کہ آج سے ایک سال پہلے کوئی بھی اُنھیں ٹی ٹوئنٹی سپیشلسٹ تو دور، 20 اوورز کے کھیل میں ریگولر کھلاڑی تک ماننے کو تیار نہ تھا۔ پی ایس ایل کے پہلے پانچ سیزنز میں وہ خال خال ہی کسی الیون کا حصہ نظر آئے وگرنہ بینچ پر بیٹھ کر تالیاں ہی بجاتے رہے۔

جب ملتان کی کپتانی اُنھیں سونپی گئی تو کئی لوگوں کے لیے یہ حیران کن فیصلہ تھا۔ گو اس سے پہلے وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں اپنی افادیت اجاگر کر چکے تھے لیکن ملتان کا معاملہ دیکھا جائے تو یہ پچھلے سیزن میں ٹیبل کی ٹاپ ٹیم رہی تھی اور شان مسعود کی کپتانی میں کوئی ایسا نقص بھی نہیں تھا کہ اچانک برطرف ہی کر دیا جاتا۔

محمد رضوان کی کپتانی کی خاص بات یہ رہی کہ شدید دباؤ کے لمحات میں بھی وہ مسکراتے ہی نظر آئے۔ جہاں ان کو محسوس ہوا کہ بولر کاؤنٹر اٹیک کی کوشش میں کوئی خطا کر بیٹھے گا، وہیں اس کی ہمت بندھائی اور کچھ ایسا کہا کہ چوکا کھانے والے کے چہرے پر بھی مسکراہٹ بکھیر دی۔ بہرطور اعصاب کی جنگ میں فتح یاب وہی ہوتا ہے جو تناؤ کو پاس بھی نہ پھٹکنے دے۔

ملتان کی اس کامیابی میں جن چند چیزوں نے کلیدی کردار ادا کیا، ان میں نمایاں بات یہ تھی کہ ملتان کے بولرز کا ڈسپلن کمال رہا۔ اس ٹیم نے سب سے کم نو بالز پھینکیں۔ فائنل تک یہ واحد ٹیم تھی کہ جس کے بولنگ یونٹ نے حریفوں کو صرف تین فری ہٹ کا موقع دیا تھا۔

پھر رضوان کی قائدانہ صلاحیتوں نے بیٹنگ یونٹ کو یہ فائدہ دیا کہ اس ٹیم کے بلے بازوں نے باقی سبھی فرنچائزز کے برعکس کم سے کم ڈاٹ بالز کھیلیں۔ ڈاٹ بال ٹی ٹوئنٹی میں بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے، ڈیتھ اوورز میں تو ڈاٹ بالز ایک آدھ وکٹ کے مترادف تصور ہوتی ہیں۔

بحیثیتِ مجموعی اس گروپ کا ڈسپلن اور ٹیم ورک ایسا کمال رہا کہ شاہنواز دھانی جیسے نوجوان کا حوصلہ بھی بلند ہوتا گیا اور وہی ایمرجنگ بولر جو ٹورنامنٹ کے آغاز میں اپنے اکانومی ریٹ سے پریشان تھا، بالآخر ٹورنامنٹ کا بہترین بولر قرار پایا۔

ملتان سلطانز، پاکستان سپر لیگ

اسی طرح صہیب مقصود کے کریئر سے بہت کم امیدیں وابستہ رہ گئی تھیں۔ یہ تو خیر سوچنا بھی مضحکہ خیز تھا کہ چھ سال بعد وہ قومی ٹیم میں کم بیک کر سکیں گے، مگر ان کی فارم نے سبھی کو اس قدر متاثر کر دیا تھا کہ قومی سلیکٹرز شاید حیدر علی کے ببل پروٹوکول کی خلاف ورزی کے بہانے کے ہی منتظر تھے۔

میچ سے پہلے صہیب مقصود نے کہا تھا کہ وہ جانتے ہیں زلمی ان کے خلاف کیا پلان لائے گی۔ اور یہ بھی کہا کہ وہ اس پلان کے خلاف کاؤنٹر اٹیک کا پورا منصوبہ لے کر میدان میں اتریں گے۔

میچ سے پہلے زلمی کے کپتان وہاب ریاض بھی کہہ رہے تھے کہ سارا پریشر جذب کیا جا چکا ہے۔ ان کے بقول ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے دہانے پر کھڑی ٹیم کے فائنل تک آ جانے کا مطلب یہی تھا کہ ٹیم اپنا سبق سیکھ چکی ہے۔

وہاب کی باتوں میں کافی وزن تھا۔ زلمی کی گذشتہ چند پرفارمنسز سے یہ عیاں بھی تھا کہ واقعی اس گروپ پر کوئی پریشر باقی نہیں رہا۔

مگر کل شب کے فائنل نے یہ عیاں کیا کہ بھلے سارا پریشر جذب ہو چکا ہو مگر صہیب مقصود کا پریشر ابھی تک باقی تھا اور اس نے زلمی کی بولنگ کے اوسان ایسے خطا کیے کہ روسو نے بھی بہتی گنگا میں جی بھر ڈبکیاں لگائیں اور سلطانز ٹائٹل لے اڑے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: