ملکہ میری آف فرانس اور حماد اظہر آف پاکستان

دنیا میں بہت کم جملوں کو ایسی لازوال شہرت نصیب ہوئی ہوگی جو فرانس کی آخری ملکہ میری اینٹوائنٹ Marie Antoinette سے منسوب اس جملے کو ہوئی "Quils mangent de la brioche" (تو پھر یہ بروش کیوں نہیں کھاتے؟) بروش انڈوں اور مکھن سے بنی ہوئی روایتی فرنچ ڈبل روٹی ہے۔ ملکہ میری سے منسوب اس جملے کی صحت مشکوک ہے کہ آیا یہ شہرہ آفاق جملہ اس نے کہا بھی تھا کہ نہیں؛ تاہم اب یہ اس سے اس طرح جڑ گیا ہے کہ رہتی دنیا تک اسی حوالے سے پہچانا جائے گا۔
اس جملے کے بارے میں پوری کہانی بنائی جاتی ہے کہ یہ جملہ ملکہ میری نے پیرس کے بھوکے عوام کے جم غفیر کو اپنے شانزے لیزے کے دوسرے اختتامی سرے کے بائیں طرف واقع اپنے محل کی بالکونی سے دیکھ کر ادا کیا۔ جس محل کی بالکونی اس جملے کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے وہ شانزے لیزے کے دوسرے آخری سرے کے بائیں جانب ہے اور آج کل سٹیٹ گیسٹ ہائوس ہے۔ شانزے لیزے ایک طرف "Arc de Triomphe" یعنی فتح کی محراب سے شروع ہوتی ہے اور قریب دو کلومیٹر دور s Tuilerie garden پر ختم ہو جاتی ہے۔
تولیریز گارڈن کے عقب میں دنیا کا سب سے مشہور آرٹ میوزیم ''لوور‘‘ ہے۔ مونالیزا، وینس ڈی میلیو، رافٹ آف میڈوسا، ہرمافروڈائیٹس، حمورابی کوڈ، دی لماسو اور دیگر بے شمار شہرہ آفاق آرٹ کے نمونے۔ 2018 میں لوور دنیا بھر میں سیاحوں کی تعداد کے لحاظ سے پہلے نمبرپر تھا۔ میں تین بار اس میوزیم میں جا چکا ہوں اور ہربار دوبارہ دیکھنے کی خواہش کے ساتھ واپس آیا ہوں۔ چند اور چنیدہ گیلریوں میں ہی سارا دن گزر جائے اور ابھی بہت سی ایسی چیزیں دیکھنے سے رہ جائیں جو دیکھنے کے قابل ہوں تو دوبارہ جانے کا شوق ختم نہیں ہوتا، دوچند ہو جاتا ہے۔ بارہویں صدی عیسوی میں تعمیر ہونیوالی یہ عمارت دراصل فرانس کا شاہی محل تھا اور لوئی چہاردہم (Louis XIV) اس محل کو چھوڑ کر پیرس سے بیس کلومیٹر دور نئے ورسائی پیلس (Palace of Versailles) منتقل ہوگیا۔ 1682ء سے لے کر 1789ء تک یہ فرانس کے بادشاہوں کی رہائش رہا تاوقتیکہ انقلاب فرانس میں موروثی بادشاہت کا خاتمہ ہوا۔ بپھرے ہوئے عوام نے پانچ اکتوبر 1789ء کو پیرس سے ورسائی تک کا بیس کلومیٹر کا فاصلہ دو اڑھائی گھنٹوں میں طے کیا۔ محل سے بادشاہ لوئی شانزدہم ( Louis XVI) اور ملکہ میری کو گھسیٹ کر نکالا۔ ایک طویل مقدمے کے بعد اکیس جنوری 1793ء کو لوئی شانزدہم کو پیلس ڈی لا ریوولیوشن میں گلوٹین کر دیا گیا۔ ملکہ میری کو سولہ اکتوبر 1793ء کو اسی جگہ پر گلا کاٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ لوئی کو اسی روز ایک اجتماعی قبر میں دفنا دیا گیا جبکہ ملکہ میری کی لاش کو پہلے تولیرو گارڈن میں پھینک دیا گیا۔ یہ باغ اس محل سے محض چند قدم کے فاصلے پر ہے، جس کی بالکونی میں کھڑے ہوکر ملکہ میری نے وہ جملہ بولا تھا کہ اگر عوام کے پاس کھانے کو روٹی نہیں ہے تو پھر یہ لوگ ''بروش‘‘ (کیک) کیوں نہیں کھاتے۔ کہا جاتا ہے کہ ملکہ میری سے منسوب یہ جملہ انقلاب فرانس کا باعث بنا اور اس ایک جملے نے عوام کی جدوجہد کو مہمیز بخشی۔
قارئین! میں ایک بار پھر معذرت خواہ ہوں کہ بات کہاں سے چلی اور کہاں چلی گئی؟ بات تو اس ایک جملے سے شروع ہوئی جو عوام کی حقیقی مشکلات، بیروزگاری، غربت، مہنگائی اور قوت خرید میں کمی کے باعث پھیلنے والی بے چینی کے جواب میں آسٹریا کی شہزادی اور فرانس کی ملکہ میری‘ جو بھوک، مہنگائی، غربت اور عوام کے مسائل سے مکمل طور پر ناآشنا تھی‘ نے ادا کیا۔ اس میں شاید ملکہ میری کا بھی کوئی قصور نہیں تھا۔ اسے آٹے دال کا بھائو معلوم نہ تھا۔ اسے کیک اتنی وافر مقدار میں میسر تھاکہ اس کے نزدیک شاید کیک روٹی سے سستا ہوگا۔ ان چیزوں کی قیمتوں کا علم ان کو ہوتا ہے جنہوں نے کبھی یہ چیزیں خریدی ہوں‘ کبھی خرید کا حساب کتاب کیا ہو۔ آمدن اور خرچ کے باہمی توازن پرغور کیا ہو۔ جن لوگوں کو کبھی کسی چیز کی قیمت خرید کا ہی علم نہ ہو‘ آمدنی اور خرچ کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہ ہو اور جنہیں عوام کی مشکلات کا، ان کی غربت کا، کسمپرسی کا، مہنگائی کا، بیروزگاری کا اور کم ہوتی ہوئی قوت خرید کا علم ہی نہ ہو بھلا وہ کیا جانیں کہ آٹا کس بھائو بک رہا ہے اور چینی کی کیا قیمت ہے؟
دراصل مجھے ملکہ میری والا یہ جملہ بے وجہ یاد نہیں آیا۔ دو چار دن قبل وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور بیرسٹر میاں حماد اظہر نے ایک بیان میں فرمایا تھاکہ ملک میں گندم‘ چینی کا کوئی بحران نہیں ہے۔ اب آپ ایمانداری سے بتائیں کہ اس پر اگر مجھے فرانس کی ملکہ میری کا اڑھائی سو سال پرانا جملہ یاد آگیا‘ تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ جس طرح ملکہ میری کو علم نہیں تھا کہ ''بروش‘‘ کی بازار میں کیا قیمت ہے اور عام آدمی کی ماہانہ آمدنی کیا ہے‘ اسی طرح اپنے وزیر محترم کو بھی شاید یہ علم نہیں کہ آٹا اس وقت ستر روپے فی کلو ہے اور چینی کی قیمت بعض جگہوں پر سو روپے فی کلوگرام کے ہندسے کو عبور کرچکی ہے۔ گزشتہ سال آٹے کی قیمت بیالیس روپے فی کلوگرام تھی۔ میں یہ بات سنی سنائی نہیں کہہ رہا۔ میں اس قیمت پر آٹا خریدتا رہا ہوں۔ اب وہی آٹا ستر روپے فی کلوگرام کے لگ بھگ ہے۔ یعنی صرف ایک سال میں آٹے کی قیمت میں اٹھائیس روپے فی کلوگرام کا اضافہ ہوا ہے جو چھیاسٹھ فیصد سے زیادہ ہے۔ گندم کی سرکاری قیمت خرید گزشتہ سال 1365 روپے فی چالیس کلوگرام تھے اور اس سال یعنی 2020ء میں یہ قیمت بڑھاکر 1400 روپے فی چالیس کلوگرام کر دی گئی تھی‘ یعنی گندم کی قیمت میں تو دس فیصد سے بھی کم اضافہ ہوا جبکہ آٹے کی قیمت میں یہ اضافہ چھیاسٹھ فیصد ہوگیا۔
یہی حال چینی کا ہے۔ گزشتہ سال چینی مارکیٹ میں تریپن روپے فی کلوگرام مل رہی تھی اور پھر سبسڈی، ایکسپورٹ، شوگر کمیشن، عدالتی احکامات اور وزیراعظم کے اس اعلان کے بعد کہ وہ مافیا کو چھوڑیں گے نہیں، چینی کی قیمت آج سو روپے فی کلوگرام کے لگ بھگ ہے‘ یعنی چینی کی قیمت میں قریب نوے فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ یاد رہے کہ چینی کے خام مال یعنی گنے کی قیمت گزشتہ کئی سال سے ایک سو اسی روپے فی چالیس کلوگرام ہے۔ اب میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک سال کے اندر اندر آٹے کی قیمت چھیاسٹھ فیصد اور چینی کی قیمت میں نوے فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور وزیر اقتصادی امور فرماتے ہیں کہ آٹے اور چینی کا کوئی بحران نہیں۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ آخر آٹے اور چینی کے بحران سے وزیر موصوف کی کیا مراد ہے؟ عام آدمی کی قوت خرید سے دونوں چیزیں باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں اور وزیر موصوف کے نزدیک یہ بحران ہی نہیں ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ حماد اظہر صاحب کو غالباً بحران کے مفہوم اور معانی ہی معلوم نہیں۔ ویسے بھی ان کے حساب سے اگر آٹا دو سو روپے فی کلوگرام ہو جائے اور چینی چار سو پر چلی جائے، ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایسے میں وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ آٹے اور چینی کا کوئی بحران نہیں۔
سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ اگر وزیر اقتصادی امور کو بھی یہ احساس نہیں کہ بنیادی ضرورتوں کی قیمتوں میں چھیاسٹھ سے نوے فیصد اضافہ بھی اگر بحران پیدا نہیں کرتا تو آخر بحران کس چیز کا نام ہے؟ اس حکومت پر افسوس یہ نہیں کہ یہ نالائقوں اور نااہلوں کا ٹولہ ہے بلکہ اصل افسوس یہ ہے کہ ان کو اپنی نالائقی اور نااہلی کا رتی برابر احساس نہیں اور جن باتوں پر انہیں شرمندہ ہونا چاہیے یہ ان پر فخر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے اور ہم پر رحم فرمائے۔ آمین۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *