Site icon Dunya Pakistan

ملک میں تفریح کے نام پر ہونے والی پارٹیاں نئی نسل کی بربادی ہیں، متھیرا

ماڈل و اداکارہ متھیرا نے کہا ہے کہ پاکستان بھر میں تفریح اور سماجی روابط بڑھانے کے لیے منعقد کی جانے والی پارٹیاں ’گیٹ ٹو گیدر‘ نئی نسل کے لیے ایک طرح سے تباہی کا ذریعہ ہیں، جہاں بہت ساری غلط چیزیں ہوتی ہیں۔

متھیرا نے حال ہی میں تیمور صلاح الدین المعروف ’مورو‘ کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی سمیت اپنے عروج و زوال اور کی جانے والی غلطیوں پر بھی کھل کر باتیں کیں۔

متھیرا نے کہا کہ جب وہ افریقی ملک زمبابوے سے پاکستان منتقل ہوئیں تو ان کے پاس کھانے پینے کے پیسے تک نہیں تھے، انہوں نے بڑا مشکل وقت تک دیکھا مگر پھر ایک ٹی وی چینل نے انہیں موقع دے کر ان کی زندگی بدل دی۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ اس وقت تک انہیں ٹھیک طرح سے اردو بھی نہیں آتی تھی اور ٹی وی چینل نے ایک طرح سے ’لنگڑی گھوڑی’ پر سرمایہ کاری کی مگر پھر اس چانس نے جہاں انہیں کہاں سےکہاں پہنچایا، وہیں ٹی وی چینل کی بھی مقبولیت بڑھی۔

متھیرا نے اعتراف کیا کہ ٹی وی چینل میں کام کرنے کے بعد ہی انہوں نے گھر اور گاڑی خریدی اور پھر انہوں نے ہر وہ چیز خریدی، جسے وہ کبھی حسرت سے دیکھا کرتی تھیں۔

انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ شہرت ملنے اور شادی کے بعد ان کے حالات خراب ہوئے۔

انہوں نے شادی کو تضحیک آمیز تعلق قرار دیا اور کہا کہ طلاق اور شوہر کے تشدد کو بھلانے کے لیے انہوں نے ہلکا پھلکا نشہ بھی کیا اور غلط راہ پر چل پڑیں مگر اس سے انہیں مزید تکلیف پہنچی۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ غم کو بھلانے کے لیے نشے کا سہارا لیتے ہیں، وہ غلط ہیں، دراصل اس عمل سے تکلیف مزید بڑھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں لوگ تفریح حاصل کرنے یا سماجی روابط بڑھانے کے لیے منعقد ہونے والی پارٹیوں میں بہت تیز آواز میں موسیقی چلاکر بہت کچھ پیتے رہتے ہیں، ایسے ماحول میں کوئی کسی سے بات تک نہیں کر پاتا تو سماجی روابط کیسے بڑھیں گے؟

متھیرا کے مطابق تفریح کے نام پر ہونے والی پارٹیاں نئی نسل کے لیے تباہی ہیں، وہاں سب لوگ نشے میں ہوتے ہیں اور زیادہ تر لوگ ایک دوسرے یا پھر اپنے ہی خاندان کی برائیاں کر رہے ہوتے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایسی پارٹیوں میں بعض افراد اپنے والد اور دادا کی ملکیت کے بھرم دکھاتے ہیں تو کچھ لوگ اپنی بیویوں کی بیوفائی کا رونا روتے ہیں تو بعض لوگ دوسروں کی خواتین پر نظریں جمانے کی باتیں کرتے ہیں۔

ماڈل نے کہا کہ ایسی پارٹیوں میں شامل ہونے والے افراد کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کتنی بڑی غلطی کر رہے ہیں۔

متھیرا کا کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ جس عمر میں ان کے دماغ میں ’عاشقی و معشوقی‘ کا بھوت سوار ہوتا ہے، وہ عمر زندگی کو بہتر بنانے اور اپنی بنیاد مضبوط بنانے کی ہوتی ہے۔

انہوں نے دلیل دی کہ عمارت وہی مضبوط ہوتی ہے، جس کی بنیادیں بہتر ہوتی ہیں اور جو لوگ کم عمری میں بے راہ روی کا شکار ہوجاتے ہیں تو ان کی زندگی کبھی بہتر نہیں ہوپاتی۔

Exit mobile version