ملک میں مختلف وبائیں پھوٹ پڑیں، طبی ماہرین کا کثیر تعداد میں ادویات کے استعمال پر انتباہ

جیسا کہ کووڈ 19، ڈینگی، ٹائیفائیڈ اور ملیریا سب ایک ہی وقت میں پھیل رہے ہیں، ماہرین نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پولی فارمیسی سے گریز کریں کیونکہ اس کے سنگین مضر اثرات ہیں اور یہ کثیر ادویات سے مزاحم وائرس یا بیکٹیریا کے ظہور کا باعث بن سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پولی فارمیسی سے مراد کم از کم 5 ادویات کا باقاعدگی سے استعمال ہے جو بوڑھوں اور بچوں میں عام ہے، اس سے منفی طبی اثرات کا خطرہ بڑھتا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق سائنٹیفک ٹاسک فورس برائے کووڈ 19 کے رکن پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ حالانکہ کووڈ 19 کچھ حد تک کنٹرول ہوگیا ہے لیکن ڈینگی کیسز میں اضافے نے صورتحال کو پیچیدہ کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارے یہاں ڈینگی، کووڈ 19، ٹائیفائیڈ اور ملیریا سمیت متعدد انفیکشن موجود ہیں اور یہ سب ایک ہی وقت میں پھیل رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال میں ڈاکٹروں نے پولی فارمیسی کی پریکٹس شروع کر رکھی ہے جو نہ صرف شدید سائیڈ ایفیکٹس کا باعث بنتی ہے بلکہ کثیر تعداد میں ادویات سے مزاحم بیکٹیریا اور وائرس کے ابھرنے کا باعث بھی بنتی ہے۔

ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ کووڈ 19، ڈینگی اور ٹائیفائیڈ کی علامات جیسی ہیں جس کی وجہ سے متعدد ڈاکٹر ایک ہی وقت میں تمام ادویات تجویز کردیتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک تربیت یافتہ معالج کو ادویات تجویز کرنے کے بجائے علامات سے بیماری کی درست تشخیص اور شناخت کرنے یا ٹیسٹ تجویز کرنے کا اہل ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے ڈینگی کے کیسز بڑھ رہے ہیں، لوگوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ڈینگی کے مریضوں میں بالائی اور زیریں تنفس کا انفیکشن عام ہے۔

اس وقت ڈینگی کی شدت کم سے درمیانی ہے لیکن ’ہم اس موسم میں داخل ہو رہے ہیں جب یہ جلد ہی وبائی ہو جائے گا اور جان لیوا ڈینگی ہیمرجک بخار کے کیسز بڑھیں گے‘۔

خیال رہے کہ ڈینگی ایک مچھر کے ذریعے پھیلتا ہے اور اس کے مریض کو پلیٹلیٹس کی کمی کا سامنا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ٹرانسفیوژن کی ضرورت پڑتی ہے۔

اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری جان لیوا ہیمرجک بخار میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس سے خون بہنا، پلیٹلیٹس کی کمی، بلڈ پلازما کا اخراج یا ڈینگی شاک سنڈروم، خطرناک حد تک کم بلڈ پریشر کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تاہم یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ تحقیق کے مطابق ڈینگی کے مریض میں خون یا پلیٹلیٹس کی منتقلی نہیں کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب بھی پلیٹلیٹس کی تعداد کم ہوتی ہے خون کا گاڑھا پن بڑھ جاتا ہے اس لیے میں تجویز کرتا ہوں کہ پلیٹلیٹس کی منتقلی سے گریز کیا جائے جب تک کہ خون بہنا شروع نہ ہو۔

ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ میں نے ذاتی طور پر کئی مریضوں کا مشاہدہ کیا ہے جن کے پلیٹلیٹس کی تعداد میں کمی واقع ہوئی لیکن بعد میں یہ بغیر کسی منتقلی کے دوبارہ بڑھ گئی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں ٹائیفائیڈ مزاحم بیکٹیریا کی تشخیص ہوچکی ہے اور چند سالوں میں یہ ایک سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔

یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ سال 2018 میں امریکی ادارہ برائے وبائی روک تھام اور بچاؤ نے پاکستان میں دوا سے انتہائی مزاحم ٹائیفائد بخار پر ایک ایڈوائزری جاری کی تھی جس پر زیادہ تر اینٹی بائیوٹکس نے اثر نہیں کیا تھا۔

اس ایڈوائزری سے ملکی اور بین الاقوامی طبی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی، اس وقت سے ادویات کا غیر معقول استعمال روکنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔

پاکستان کو سال 1994 سے ڈینگی کی وبا کے پھیلاؤ کا سامنا ہے، گزشتہ دو دہائیوں میں تین بڑے پھیلاؤ سامنے آئے۔

سال 2005 میں 6 ہزار سے زائد کیسز اور 52 اموات رپورٹ ہوئیں، سال 2011 میں 21 ہزار سے زائد کیسز اور 350 اموات ہوئیں جبکہ 2011 اور 2014 کے درمیان ملک بھر میں لیبارٹری سے تصدیق شدہ 48 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ سال 2019 میں تقریباً 50 ہزار کیسز سامنے آئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: