ملک میں کورونا کے مزید 3 ہزار 19 کیسز، مثبت شرح 6.12 فیصد ہوگئی

ملک بھر میں کورونا وائرس کی قسم اومیکرون کے پھیلاؤ کے باعث انفیکشنز کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مثبت کیسز کی شرح 6 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشہ روز 49 ہزار 270 ٹیسٹ کیے گئے جس کے نتیجے میں 3 ہزار 19 کیسز مثبت آئے۔

علاوہ ازیں مزید 5 مریض بھی انتقال کر گئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 28 ہزار 992 ہوگئی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک کے مختلف حصوں میں کیا صورتحال رہی وہ درج ذیل ہے:

  • سندھ: ایک ہزار 733 کیسز
  • پنجاب: 919 کیسز، ایک موت
  • خیبرپختونخوا: 64 کیسز، 3 اموات
  • بلوچستان: 11 کیسز
  • آزاد کشمیر: 4 کیسز، ایک موت
  • گلگت بلتستان: 4 کیسز

مزید برآں گزشتہ روز 346 مریض صحتیاب بھی ہوئے جس کے بعد صحتیاب ہونے والوں کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 60 ہزار 45 ہوگئی ہے جبکہ 23 ہزار 230 کیسز اس وقت فعال ہیں۔

کیسز میں اضافے کے باعث حکام عوام پر ویکسینیشن کے لیے مسلسل زور دے رہے ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 8 لاکھ 21 ہزار 320 افراد کو ویکسین لگائی گئی۔

اب تک ملک میں 16 کروڑ 52 لاکھ 96 ہزار 972 ویکسینز لگائی جاچکی ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس سے متعلق سائنٹیفک ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ کیسز میں یہ اضافہ غیر متوقع نہیں کیونکہ لوگ 'وبائی بیماری کی تھکاوٹ' کا شکار تھے اور انہوں نے وائرس کو منتقل ہونے اور تبدیل ہونے کا ہر موقع فراہم کیا۔

انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد ویکسین لگوائیں کیونکہ 'ڈیلٹاکرون' ویریئنٹ، جس میں کورونا وائرس کے ڈیلٹا اور اومیکرون دونوں قسموں کی خصوصیات شامل ہیں، قبرص میں رپورٹ ہوئی ہے اور یہ بھی جلد یا بدیر پاکستان پہنچ جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ لوگ وبائی مرض سے تھک چکے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی خواہشات کو قربان کرنے کے لیے تیار نہیں بلکہ اپنی زندگی کو داؤ پر لگانے کو تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شادی ہال بھرے رہتے ہیں اور دولہا اور دلہن سمیت کوئی بھی ماسک نہیں پہنتا، ہالوں کی گنجائش سے دگنی تعداد سے زیادہ مہمانوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ میرا مشورہ ہے کہ اگر ایک ہال میں 100 لوگوں کی گنجائش ہے تو صرف 30 افراد کو اندر جانے کی اجازت ہونی چاہیے۔

انہوں نے تجویز دی کہ شادی کی تقریبات مذہبی تعلیمات کے مطابق منعقد کی جائیں اور ہر تقریب میں صرف 20 سے 30 افراد کی اجازت ہو، ہالز کے اندر کھانا پیش کرنے کے بجائے لوگوں کے نکلتے ہی لنچ باکس ان کے حوالے کر دیے جائیں۔

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میری تجویز ہے کہ لوگ ماسک پہنیں اور ہم آہنگی (ایک سے زیادہ بیماریاں) جیسے شوگر اور بلڈ پریشر کی سطح کو کنٹرول کریں، ایسے افراد کو سخت موسم جیسے کہ صبح سویرے اور رات گئے باہر نہیں جانا چاہیے۔

ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ لوگوں کو یہ بات یقینی بنانی چاہیے کہ ان کے ڈرائیوروں، چوکیداروں، باورچیوں اور گھ کا کام کرنے والوں کو ویکسین لگائی جائے کیونکہ وہ وائرس کے کیریئر بن سکتے ہیں۔

انہوں نھے مزید کہا کہ جن افراد کو ویکسین لگائی جاچکی ہے انہیں بوسٹر شاٹس لگوانے چاہئیں ساتھ ہی وٹامن ڈی کی سطح کو بھی برقرار رکھنا چاہیے کیونکہ یہ قوت مدافعت کو بہتر بناتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ اس نئے ویرینٹ کی منتقلی کی رفتار 10 سے 12 گنا زائد ہے اس لیے لوگوں کو احتیاطی تدابیر میں بھی 10 سے 12 گنا اضافہ کرنا چاہیے، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آنے والے دنوں میں کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.