ملک کی سیاست کیلئے اگلے چند ماہ بہت اہم ہیں، زرداری

لاہور: پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ملک کی سیاست کے مستقبل کے لیے اگلے کچھ ماہ بہت اہم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پیپلزپارٹی پنجاب کے سیکریٹری جنرل چوہدری منظور سے ٹیلی فونک گفتگو میں آصف زرداری نے خبردار کیا کہ ’ یہ (حکومت) موجود صورتحال میں غلطی کرسکتی ہے (اور) ملک کو ایک بہت بڑے خطرے میں ڈال سکتی ہے‘۔

پیپلزپارٹی پنجاب کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) متحد ہے اور یہ حکومت کے خلاف اپنے حملے کو تمام سمتوں سے جاری رکھے گی‘۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت گھر جائے کیونکہ اس کی نااہلی اور غیرتجربہ کاری ملک کو بڑے بحران سے دوچار کرسکتی ہے۔

آصف زرداری کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پی ڈی ایم، تحریک انصاف حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے آہستہ آہستہ تمام موجود آپشنز کا استعمال کرے گی‘، مزید یہ کہ یہ تحریک حکمرانوں کو کووڈ 19 کی وبا کے پیچھے مزید نہیں چھپنے دے گی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نہ کبھی کورونا وائرس ویکسین حاصل کرے گی اور نہ عوام پر کچھ خرچ کرے گی۔

مرکز میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت کا پی ٹی آئی کے موجودہ دور سے مقابلہ کرتے ہوئے آصف زرداری نے دعویٰ کیا کہ (2008 میں) پیپلزپارٹی کی حکومت عالمی معاشی کسادبازاری کے باوجود ملک کی برآمدات کو 19 ارب سے 26 ارب روپے تک پہنچا دیا تھا جبکہ اس کا ریونیو بھی دوگنا کردیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی حکومت نے سرکاری ملازم کی تنخوا میں 125 فیصد تک اور پینشن پر 100 فیصد تک اضافہ کیا تھا۔

سابق صدر کے مطابق ’یہ سلیکٹڈ حکمران اپنے ہی وزن کے ساتھ گر جائیں گے بس انہیں آخری دھکے کی ضرورت ہے‘۔

شریک چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ’پی ڈی ایم کے ساتھ مل کر پیپلزپارٹی اس ناکام اور نااہل کو گھر بھجیں گی‘۔

واضح رہے کہ سابق زرداری کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب کچھ روز قبل ہی ان کے صاحبزادے اور پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے تحریک عدم اعتماد لانے کا عندیہ دیا تھا۔

موہنجو داڑو میں ایک تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ 'پیپلز پارٹی، پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے جمہوری، آئینی و قانونی طریقے سے اس حکومت کو گھر بھیجے گی، ہم پی ڈی ایم رہنماؤں کو مناتے ہیں کہ ہمیں وار کرنا ہے تو اسمبلی میں کرنا ہے، ہمیں حملہ کرنا ہے تو تحریک عدم اعتماد کے جمہوری طریقے سے کرنا ہے، ہم اپنے اتحادیوں کو جب اس اسٹریٹجی کے لیے منائیں گے اور ایک پیج پر لے کر آئیں گے پھر ہماری چائے پر ملاقاتوں سے بھی ان کے جتنے پسینے نکلیں گے اتنا 10 جلسوں سے بھی ان پر اثر نہیں ہوتا'۔

انہوں نے کہا تھا کہ 'دو سال میں پاکستان کی معیشت کو جتنا نقصان ہوا اتنا کبھی تاریخ میں نہیں ہوا، ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ملک کی شرح نمو افغانستان اور بنگلہ دیش سے پیچھے اور مہنگائی کی شرح بھی ان ممالک سے زیادہ ہو، موجودہ حکومت ہر کاروبار کرنے والے اور صنعت لگانے والے کو چور بنادیتی ہے اور ان سے دشمنوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے'۔

یاد رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ، 20 ستمبر 2020 کو اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد تشکیل پانے والا 11 سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے جو ’ایکشن پلان‘ کے تحت 3 مرحلے پر حکومت مخالف تحریک چلانے کے ذریعے حکومت کا اقتدار ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *