مندر، سٹوپا یا سکندرِ اعظم کی یادگار؟ رحیم یار خان کا پراسرار پتن منارہ اور اس میں چھپے راز

دیکھنے میں یہ محض ایک چھوٹا سا انتہائی خستہ حال مینار ہے جو رحیم یار خان شہر سے چند کلومیٹر باہر صحرا کی ریت میں تنہا کھڑا ہے۔ تاہم دور سے اس کو دیکھ کر آپ اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔

منفرد طرزِ تعمیر کے علاوہ اس عمارت کی کشش اس کی شناخت کے گرد بنی کہانیوں میں چھپی ہے۔ قریب سے دیکھ کر یہ تو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ عمارت قدیم ہے۔ مگر کتنی قدیم ہے؟ اور یہ عمارت کیا ہے؟ اس جگہ پہلے کون آباد رہا؟ وہ کون لوگ تھے جنھوں نے یہ عمارت تعمیر کی؟

تاریخ کے اوراق ان سوالوں پر خاموش ہیں۔ مقامی افراد ایک زمانے سے اس عمارت کو پتن مینار یا پتن منارہ پکارتے آئے ہیں۔ اس کے بارے میں جو معلومات موجود ہیں وہ زیادہ تر راج برطانیہ کے دور کے گزیٹیئرز میں پائی جاتی ہیں۔

ان میں سے کچھ کہانیاں وہ ہیں جو سینہ بہ سینہ چلتی مقامی افراد کے پاس موجود ہیں۔ پتن منارہ کیا ہے اور کب بنا، اس کی کہانیاں مبہم تاہم دلچسپ ہیں۔ انھیں سن کر اس علاقے کی جو تصویر ذہن میں ابھرتی ہے وہ آج کے پتن مینار سے یکسر مختلف ہے۔

پتن مینار، رحیم یار خان

گذشتہ چند صدیوں سے یہ عمارت صحرا کی ریت اڑاتی گرم ہوا کے تھپیڑے کھا رہی تھی لیکن اس روایت کے مطابق دو ہزار سال قبل یہ ایک سرسبز علاقے میں موجود تھی جو ہاکڑا نامی ایک بڑے دریا کے کنارے آباد تھا۔ ہاکڑا ایک تہذیب تھی جو اس دریا کے کنارے کئی صدیوں تک آباد رہی۔

اس روایت کے مطابق یہ عمارت ایک بدھ خانقاہ یا سٹوپا تھی اور پتن منارہ اس کے چار میناروں میں سے بچ جانے والا واحد مینار تھا۔ ایک دوسری روایت کے مطابق یہ بنیادی طور پر ایک روشنی کا مینار تھا جو دریائے ہاکڑا میں چلنے والی کشتیوں کی رہنمائی کے لیے بنایا گیا تھا۔

تاہم سب سے دلچسپ روایت ہمیں اس سے بھی پیچھے لے جاتی ہے۔ یہ وقت 320 قبل از مسیح کا ہے۔ یونان کی سلطنت مقدونیہ کا مشہور فاتح عالم بادشاہ سکندرِ اعظم اس علاقے سے گزرتا ہے۔ اس دور میں یہ علاقہ سلطنتِ فارس کا حصہ تھا جس کے خلاف سکندر مہم جوئی کر رہا تھا۔

روایت کے مطابق یہ مینار سکندر نے اس وقت تعمیر کروایا جب اس نے یہاں فوجی چھاؤنی قائم کی۔ لیکن یہ معلوم نہیں کہ اس نے یہ عمارت کیوں بنوائی اور اس کا کام کیا تھا۔ اسی تجسس نے ایک نئی کہانی کو جنم دیا کہ اس عمارت کے نیچے خزانہ دفن تھا۔

ٹھیک طرح سے نہیں کہا جا سکتا کہ اس مبینہ خزانے کی تلاش میں کتنی مہمات کب کب ہوئیں تاہم بظاہر 19 ویں صدی کے وسط میں ہونے والی ایک مہم ریکارڈ کا حصہ ہے۔

پتن مینار، رحیم یار خان

’پراسرار کیڑے جسے کاٹتے، وہ وہیں مر جاتا تھا‘

انگریز برصغیر پر قابض ہو چکا تھا اور اس کے گورنر اور پولیٹکل ایجنٹ مختلف علاقوں میں مقرر کیے جا چکے تھے۔ راج برطانیہ کی فوج کے افسران مختلف علاقوں سے معلومات جمع کر رہے تھے جو بعد میں گزیٹیئرز کی شکل میں قلمبند کی گئیں۔

انہی گزیٹیئرز کے ذریعے پتن منارہ کے بارے مختصر معلومات تاریخ دانوں تک پہنچتی ہیں۔ ایک روایت ہے کہ سابق ریاست بہاولپور کے انگریز پولیٹکل ایجنٹ جن کا نام لیفٹیننٹ کرنل منچن بتایا جاتا ہے، اُنھوں نے پتن منارہ کے ارد گرد کھدائی کروائی۔ روایت کے مطابق انھیں خزانے کی تلاش تھی۔

لیکن انھیں اس وقت مجبوراً کھدائی رکوانی پڑی جب ابتدائی کھدائی کے بعد زمین سے ایسا سیاہ مادہ برآمد ہوا جس پر پراسرار قسم کے کیڑے موجود تھے۔

کہا جاتا ہے کہ وہ کیڑے کھدائی کرنے والے جس بھی مزدور کو کاٹتے تھے اس کی موقع پر موت واقع ہو جاتی تھی۔ اس کے بعد کسی نے اس جگہ کھدائی کروانے کا نہیں سوچا۔

اس کہانی میں کتنی صداقت ہے؟ یہ نہیں معلوم۔ ڈاکٹر فرزند مسیح تو اس کہانی کو ہی نہیں مانتے۔ وہ پتن منارہ پر تحقیق کر چکے ہیں اور انھیں اس قسم کی مہم جوئی کے نشانات نہیں ملے۔

’ہمیں وہاں کھدائی کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔ اور آج کل تو اس قدر جدید آلات موجود ہیں کہ کھدائی کے بغیر ہی پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ زیرِ زمین کیا موجود ہے۔ ہاں مگر یہ واقعہ ضرور ریکارڈ میں موجود ہے۔‘ ڈاکٹر فرزند مسیح کے مطابق اس کو سچ ماننے کے لیے کوئی مادی شواہد موجود نہیں۔

پتن مینار، رحیم یار خان

ڈاکٹر فرزند مسیح ان دنوں لاہور کی ایف سی کالج یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ سے منسلک ہیں اور بنیادی طور پر آثارِ قدیمہ کے ماہر ہیں جن کا شمار اس شعبے میں پاکستان کے چند مستند اور تجربہ کار ماہرین میں ہوتا ہے۔ وہ دنیا کے مختلف مذاہب کا بھی وسیع مطالعہ رکھتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فرزند کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ عمارت ’نہ تو سٹوپا تھی، نہ ہی روشنی کا مینار تھی اور نہ ہی اسے سکندرِ اعظم نے تعمیر کروایا تھا۔‘

تو پتن منارہ آخر ہے کیا؟

ڈاکٹر فرزند مسیح کہتے ہیں یہ مینار جس عمارت کا حصہ تھا وہ سکندرِ اعظم کے بہت بعد میں بنی اور اس دور میں اس خطے میں بدھ مت بھی موجود نہیں تھی۔ اس کا طرزِ تعمیر بھی سٹوپا سے مماثلت نہیں رکھتا۔ تو پھر یہ عمارت آخر ہے کیا؟

ڈاکٹر فرزند مسیح کے مطابق وہ انتہائی وثوق سے یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ یہ مینار نما عمارت ایک ہندو مندر کا حصہ تھی اور یہ لگ بھگ ایک ہزار سال قبل تعمیر کیا گیا تھا۔ اس طرزِ تعمیر کو ’نیکڈ یا ایکسپوزڈ برک آرکیٹیکچر‘ کہا جاتا ہے۔

اس خطے میں مندروں کی تعمیر میں اس طرزِ تعمیر کا رواج دسویں اور گیارہویں صدی عیسوی میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ ڈاکٹر فرزند مسیح کے مطابق وہ شواہد سے یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ پتن منارہ ایک ہندو مندر تھا۔

پتن مینار، رحیم یار خان

پتن منارہ کی عمارت پرکشش کیوں ہے؟

رحیم یار خان شہر سے نکل کر اگر آپ لگ بھگ 20 کلومیٹر کا سفر طے کریں تو ایک چھوٹی سی پختہ سڑک آپ کو ریت کے ٹیلوں کے درمیان قدرے اونچائی پر کھڑے پتن منارہ تک لے جاتی ہے۔ دور ہی سے یہ عمارت پرکشش نظر آتی ہے۔

اس کی یہ کشش اس کے طرزِ تعمیر کی وجہ سے ہے جس کے بقایاجات بھی اس کی پختگی اور نفاست کو عیاں کرتے ہیں۔ عمارت تک پہنچنے کے لیے سیڑھیاں تعمیر کی گئی ہیں جو حال ہی میں بنائی گئی ہیں اور اس کے طرزِ تعمیر سے مماثلت نہیں رکھتیں۔

عمارت کی انتہائی چوڑی بنیادوں کے اوپر ایک چھوٹا سے کمرہ ہے جو مغرب کی جانب کھلتا ہے اور اس میں داخل ہونے کے لیے بھی تین چار قدم کی ایک مختصر سیڑھی بنائی گئی تھی۔ اس کے اوپر ایک اور چھوٹا سا کمرہ ہے اور اس میں بھی مغرب کی جانب ایک محراب نما جھروکہ موجود ہے۔

نچلے کمرے کی چھت اندر سے گنبدی شکل میں بنی ہے تاہم اوپر سے برابر ہے۔ عمارت کی بیرونی دیواروں پر انتہائی مہارت سے نقوش بنائے گئے ہیں۔ عمارت کی اوپری منزل حصے کے چاروں بیرونی کونوں پر مینار ہی کے شکل کے چھوٹے چھوٹے نمونے بنائے گئے ہیں۔

اس عمارت کی پرانی شکل کے بارے ہم کیا جانتے ہیں؟

گزیٹیئرز میں ملنے والی معلومات کے مطابق جس مقام پر یہ مینار کھڑا ہے وہاں کی باقیات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے ارد گرد چار مینار تھے جو اس کے ساتھ آ کر ملتے تھے۔

اٹھارہویں صدی عیسوی تک یہ چاروں ٹاور جو اس مرکزی ٹاور کے ساتھ چوتھی منزل پر آ کر ملتے تھے، انتہائی خستہ حالت میں موجود تھے۔ تاہم ایک مسلمان ریاست کے حاکم فضل علی خان حلامی نے انھیں گرا کر ان کی اینٹیں دین گڑھ، ساہی گڑھ اور بھاگلا کے قلعوں کی تعمیر میں استعمال کیں۔

اسی روایت میں کہا گیا ہے کہ اس عمارت کی تین منزلیں تھیں، یہ نہیں معلوم کہ تیسری منزل کب گری تاہم اس کی دوسری منزل بہادر خان حلامی نے سنہ 1740 میں گرا دی تھی۔

پتن مینار، رحیم یار خان

’یہ ہندو مندر کا پنچایتنہ طرزِ تعمیر ہے‘

ڈاکٹر فرزند مسیح کے مطابق اس روایت سے ایک دلچسپ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔ ’اس قسم کا مندر کا طرزِ تعمیر جس میں ایک مرکزی مینار کے گرد چار دوسرے مینار موجود ہوں، وہ پنچایتنہ طرز کے ہندو مندر سے مماثلت رکھتا ہے۔‘

پنچایتنہ طرز کے مندر میں بیک وقت پانچ ہندو دیوتاؤں کی پوجا کی جاتی تھی۔ ان میں سوریا، شیوا، وشنو، گنیشا اور دیوی شامل تھے۔ مرکزی مینار میں ایشتا دیوتا کی مورتی رکھی جاتی تھی جبکہ باقی چار مورتیاں ارد گرد کے چار میناروں میں رکھی جاتی تھیں۔

ڈاکٹر فرزند مسیح کے مطابق پنچایتنہ کا فلسفہ آٹھویں صدی عیسوی میں آدی شنکرا نامی ایک ہندو فلسفی نے پیش کیا تھا۔ ’اس کا مطلب ہے کہ یہ مندر آٹھویں صدی کے بعد تعمیر ہوا۔‘

کیسے معلوم ہوا کہ پتن منارہ ہندو مندر ہو سکتا ہے؟

ڈاکٹر فرزند مسیح کے مطابق ہندو مندروں کے طرزِ تعمیر میں ہندو دیومالائی کہانیوں کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ اس عمارت کی بناوٹ اور اس پر پائے جانے والے نقوش واضح طور پر یہ بتاتے ہیں کہ یہ ایک ہندو مندر تھا۔

پتن مینار، رحیم یار خان

اگر بنیادوں سے لے کر چھت تک اس عمارت پر نظر دوڑائیں تو ڈاکٹر فرزند کے مطابق اس کی بنیاد جسے ویدھیبندا کہا جاتا ہے جس پر ہندو طرزِ تعمیر کے نقوش یعنی کھرا، کھمبھا، کلاسا اور کپوتا واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

ویدھیبندا کے اوپر ایک دوہری تہوں والا جھانگھا موجود ہے جس کے اوپر بھادھرا کا حصہ شروع ہوتا ہے۔ بھادھرا کے عین درمیان میں ایک طاق بنایا گیا ہے۔ اس طاق کے اوپری حصے پر تکونی سنتور بنا ہوا نظر آتا ہے جسے آدھ چندرہ شالہ اور مکمل چندرہ شالہ سے سجایا گیا ہے۔

اس عمارت کی دیواروں کے اوپر کچھ نقوش کے سیٹ بنے نظر آتے ہیں جنھیں وراندیکا کہا جاتا ہے۔ اس پر بھی ہندو طرزِ تعمیر کے تمام تر نقوش واضح طور پر ملتے ہیں جو ہندو دیومالائی کہانیوں سے لیے گئے ہیں۔

یہ عمارت کب تعمیر کی گئی ہو گی؟

پتن منارہ کی عمارت کی دیواروں کے اوپر دونوں اطراف باہر کو نکلے نقوش نظر آتے ہیں جنھیں مندر کے طرزِ تعمیر میں 'اراہشرنگا' کہا جاتا ہے۔

ڈاکڑ فرزند مسیح کے مطابق یہ طرزِ تعمیر شمالی برصغیر میں دسویں صدی عیسوی کے بعد ملتا ہے جسے شکاری نگارا شکارا کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے سالٹ رینج میں ملنے والا نندنا مندر اس کی ایک مثال ہے۔

’نگارا شکارا طرزِ تعمیر دسویں صدی کے انڈیا میں مقبول ہوا تھا۔ اس سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پتن مینار دسویں صدی عیسوی کے بعد کی تعمیر ہے۔‘

دوسری منزل کی بنیادوں میں بیرونی دیواروں پر نظر آنے والے سوراخ درحقیقت ان شہتیروں کے لیے بنائے گئے تھے جن پر نگارا شکارا کے نقوش کھڑے کیے جاتے تھے۔

یہ مندر کس نے تعمیر کروایا؟

گزیٹیئرز کے مطابق ایک برطانوی فوجی افسر کرنل ٹوڈ نے اپنی ایک تصنیف ’اینیلز آف جیسلمیر‘ میں پتن کے شہزادوں کا ذکر کیا ہے لیکن انھوں نے بھی مقام کا تعین نہیں کیا۔

پتن مینار، رحیم یار خان

ڈاکٹر فرزند کے مطابق ممکنہ طور پر انھوں نے جس پتن کا ذکر کیا ہے وہ یہی علاقہ ہے جس میں پتن مینارہ واقع ہے کیونکہ جیسلمیر کا علاقہ رحیم یار خان کے اس چولستانی علاقے کے ارد گرد ہی موجود تھا۔

’یہ کوئی عام مندر نہیں تھا یعنی کوئی ایسا مندر نہیں تھا جو عام افراد خود پوچا پاٹ کے لیے تعمیر کر لیتے ہیں۔ یہ خاص مندر تھا جو فنِ تعمیر کے ماہرین نے بنایا تھا اور اس قسم کی عمارتیں راجہ مہاراجہ ہی بنواتے تھے۔‘

پتن منارہ تاریخی اعتبار سے اہم کیوں ہے؟

ڈاکٹر فرزند کے مطابق پتن مینار اور سالٹ رینج میں پایا جانے والا نندنا مندر تاریخی اور علمِ آثارِ قدیمہ کے حوالے سے انتہائی اہم ہیں۔

'انڈیا میں مندروں کا جو ارتقا ہے اس میں کچھ مقامات پر خلا ہیں۔ یہ مندر (پتن مینار اور نندنا) اس خلا کو پر کرتے ہیں۔‘

دریائے ہاکڑا دریائے سندھ کی نوعیت کا بڑا دریا تھا اور اس کے کنارے آباد تہذیب کافی وسیع تھی۔ تاہم مون سون میں تبدیلیوں کے باعث یہ دریا بتدریج سکڑتا گیا اور آخر کار مکمل طور پر خشک ہو گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی تہذیب بھی زوال کا شکار ہو گئی۔

ڈاکٹر فرزند مسیح کا خیال ہے کہ پتن مینار اپنے اندر بہت سی کہانیاں چھپائے ہے جو کہ کھدائی کرنے پر سامنے لائی جا سکتی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل پاکستان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اسے ایک ورثہ قرار دیتے ہوئے اس کا جتنا بھی حصہ باقی ہے اس کو محفوظ کر لے۔

اس کے بعد کھدائی کروا کر مزید سائینسی بنیادوں پر پتا لگایا جا سکتا ہے کہ مندر کی یہ عمارت کب، کیوں اور کس نے تعمیر کروائی اور اس کے ارد گرد کی دنیا کیسی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: